قابل تقلید ماڈل
Al-Risala, June 2013
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ الصف میں پیروانِ مسیح کے اس ماڈل کو اہلِ ایمان کے لیے قابل تقلید ماڈل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس سے مراد خاص طور پر پیروان مسیح کی تاریخ کے یہی دو واقعات ہیں۔ پہلا واقعہ وہ ہے جو حضرت مسیح کے بعد کی ابتدائی صدیوں میں پیش آیا، اُس وقت پیروانِ مسیح کو سخت طور پر ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا تھا، لیکن انھوں نے اس کے مقابلے میں رَدِ عمل کا طریقہ اختیار نہیں کیا، بلکہ وہ طریقہ اختیار کیا جو حضرت مسیح نے اُن کو ان الفاظ میں بتایا تھا اپنے دشمن سے محبت کرو۔ مطلب یہ تھا کہ دوسروں کی طرف سے اگر تم کو دشمنی کا تجربہ ہو تب بھی تم اپنے آپ کو منفی نفسیات سے بچاؤ اور ایک طرفہ طور پر پر امن طریقہ اختیار کرتے ہوئے دوسروں تک اپنا پیغام پہنچاؤ۔ پیروانِ مسیح کے ماڈل میں دوسرا نمونہ وہ ہے جو صلیبی جنگوں کے بعد سامنے آیا، یعنی عسکری میدان میں ناکامی کے بعد اپنے میدانِ عمل کو بدل دینا، جیسا کہ پیروانِ مسیح نے کیا۔ انھوں نے مسلح کروسیڈ کے میدان میں اپنی کوششوں کو بے نتیجہ پایا تو انھوں نے ڈائورژن کا طریقہ اختیار کیا، اس طرح کہ عسکری میدان کو چھوڑ کر پر امن سائنسی میدان میں اپنے آپ کو سرگرمِ عمل کر لیا۔ امت مسلمہ کی کوتاہی عجیب بات ہے کہ سورہ الصف میں مسلمانوں کو جو عملی نصیحت کی گئی تھی، اس کو وہ اختیار نہ مسلمانوں سے یہ مطلوب تھا کہ وہ پیروانِ مسیح کے اُس ماڈل کو اپنائیں جس کو قر آن میں پیشگی طور پر بتا دیا گیا تھا۔ یہی وہ پر امن ماڈل ہے جس کو پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے
موقع پر اختیار فرمایا تھا۔ مگر مسلمان بحیثیت قوم اس سے بے خبر ہے، وہ اس ماڈل کو اپنانے میں ناکام مسلمانوں کی تاریخ میں اس کی دو بڑی مثالیں موجود ہیں۔
پہلی مثال وہ ہے جو نو آبادیاتی طاقتوں کے ظہور کے بعد پیش آئی۔ اس دور میں یورپ کی نو آبادیاتی طاقتوں نے مسلمانوں کی سلطنتوں کو توڑ دیا اور ان کے سیاسی دبدبے کو ختم کر دیا۔ اس کے بعد مسلمان منفی ردعمل کی نفسیات کا شکار ہو گئے۔ وہ نفرت اور انتقام اور تشدد میں مبتلا ہو کر رہ گئے، حالاں کہ قرآن میں بیان کردہ پیروان مسیح کے ماڈل کے مطابق، انھیں یہ کرنا تھا کہ وہ پر امن طریق کار اختیار کرتے، یعنی وہ میدان جنگ کو چھوڑ کر میدان دعوت میں آجاتے، جن لوگوں کو وہ اپنا حریف سمجھ کر اُن سے متشددانہ ٹکراؤ کر رہے تھے، اُن کو مدعو کا درجہ دے کر وہ ان کے اوپر پرامن دعوت شروع کر دیتے۔ اگر مسلمان ایسا کرتے تو یقیناً اُن کے اوپر قرآن کے وہ الفاظ صادق آتے جو اس سے پہلے پیروان مسیح کے اوپر صادق آچکے تھے، یعنی: فأيدنا الذين آمنوا علی عدوهم فأصبحوا ظاهرین (61:14)
پیروان مسیح کے ماڈل میں دوسرا نمونہ وہ تھا جو صلیبی جنگوں کے بعد ظہور میں آیا۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ دنیا کے اوپر پہلی بار فطرت کے قوانین (laws of nature) منکشَف ہوئے اور جدید تہذیب وجود میں آئی جس کے نتیجے میں پوری انسانیت کو بے شمار فائدے حاصل ہوئے۔
اس دوسرے معاملے میں بھی مسلمان پوری طرح ناکام ہو گئے۔ قرآن میں بیان کردہ پیروان مسیح کے ماڈل میں ان کے لیے یہ پیغام تھا کہ مغربی قوموں سے مقابلہ آرائی میں جب باعتبار نتیجہ وہ ناکام ہو جائیں تو وہ اپنی پالیسی پر نظر ثانی (revision) کریں۔ اسی نظر ثانی کو قرآن میں اجتماعی توبہ (24:31) کہا گیا ہے۔ نظر ثانی کا وہ عمل یہ تھا کہ مسلمان اپنی کوششوں کو ٹکراؤ کے میدان سے ہٹائیں اور وہ اپنے آپ کو پوری طرح تعمیری کام میں لگا دیں، مگر مسلمان نفرتِ مغرب میں اتنی شدت سے مبتلا ہوئے کہ ان کے اندر یہ تعمیری سوچ پیدا نہ ہوسکی۔
اگر مسلمان اپنی منفی نفسیات سے باہر آکر مثبت انداز میں سوچتے تو اُن کو معلوم ہوتا کہ مغرب کی مسیحی قوموں نے جو کارنامہ انجام دیا ہے، وہ عین اُن کی اپنی موافقت میں ہے۔ اس کے نتیجے میں جو جدید
تہذیب وجود میں آئی ہے، اس نے مسلمانوں کے لیے خدمتِ دین اور اشاعتِ اسلام کے نئے وسیع تر دروازے کھول دئے ہیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگی طور پر فرمایا تھا کہ بعد کے دور میں اللہ تعالیٰ کچھ سیکولر لوگوں کو کھڑا کرے گا جو دین کے حق میں تائیدی رول (supporting role) انجام دیں گے۔ مغرب کی مسیحی قوموں کا کارنامہ اسی قسم کا تائیدی کارنامہ تھا۔ اس موقع پر مسلمانوں کو چاہئے تھا کہ وہ مغربی قوموں کے خلاف نفرت اور تشدد کی پالیسی کو مکمل طور پر ختم کردیں۔ اگر وہ ایسا کرتے تو ان کے اندر ایک نیا مثبت ذہن اس کے بعد وہ جان لیتے کہ مغربی قوموں نے ان کے لیے کتنا بڑا تائیدی کام انجام دیا ہے۔ اس تائیدی کام کا ایک پہلو وہ ہے جس کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے— عن قریب ہم اُن کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور انفس میں بھی، یہاں تک کہ ان کے اوپر یہ آشکارا ہوجائے گا کہ یہ (قرآن) حق ہے (40:53)۔ قرآن کی اس آیت میں جن چیزوں کو آیات (signs) کہا گیا ہے، اُن سے مراد وہی سائنسی حقیقتیں ہیں جو پہلی بار مغربی قوموں کے ذریعے انسان کے علم میں آئیں ۔ یہ سائنسی دریا فتیں بے شمار پہلوؤں سے اسلام اور دعوتِ اسلام کے لیے مفید اور معاون حقیقت یہ ہے کہ ساتویں صدی میں جو اسلامی انقلاب آیا تھا، وہ ایک پہلو سے تاریخ میں ایک نئے عمل (process) کا آغاز تھا۔ یہ عمل تدریجی طور پر اپنا کام کرتا رہا۔ نشاۃ ثانیہ کے بعد یورپ میں جو انقلابات آئے، وہ سب اسی تاریخی عمل کی تکمیل تھے۔ مثلاً افکار کے معاملے میں کھلا پن (intellectual openness)، مذہبی آزادی، تشدد کے طریقے کا بحیثیت اصول ختم ہو جانا، بادشاہت کے بجائے جمہوریت کا نظام، پرنٹنگ پریس کا دور، وغیرہ۔
اِس قسم کی تمام تبدیلیاں جو مغربی تہذیب کے بعد دنیا میں آئیں، وہ سب خود اسلام کا مطلوب تھیں۔ ان تبدیلیوں کے ذریعے یہ ممکن ہو گیا کہ اسلام کی صداقت کو خالص علمی اعتبار سے مدلّل کیا جائے۔ جدید ٹکنالوجی اور کمیونیکیشن نے اس بات کو ممکن بنا دیا کہ اسلام کی اشاعت کو عالمی سطح پر انجام دیا اس طرح کی بے شمار جدید چیزیں ہیں جو عین اسلام کے حق میں ہیں اور وہ عملاً سب کی سب مغربی تہذیب کے نتیجے میں انسان کو حاصل ہوئی ہیں۔