Al-Risala · June 2013

خاتمہ کلام

Al-Risala, June 2013

By Maulana Wahiduddin Khan

امت مسلمہ کی تاریخ اب اکیسویں صدی عیسوی میں پہنچ چکی ہے۔ اب آخری طور پر وہ وقت آ گیا ہے، جب کہ امت کے اندر وہ سوچ پیدا ہو جس کو قرآن کے اندر اجتماعی توبہ کہا گیا ہے، یعنی قومی پالیسی کو بدلنا۔ یہی امت مسلمہ کے مسائل کا واحد حل ہے۔ اس کے سوا کوئی اور حل نہ ممکن ہے اور نہ پچھلی صدیوں میں جو حالات پیدا ہوئے، اس کے نتیجے میں، ساری دنیا کے مسلمانوں کے اندر منفی نفسیات کا ذہن پیدا ہوا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان اپنی اصل حیثیت کو بھول گئے، یعنی یہ کہ وہ اللہ کے دین کے داعی ہیں اور دوسری قومیں ان کے لیے مدعو کا درجہ رکھتی ہیں۔ اصل حقیقت کے اعتبار سے، مسلمانوں اور دوسرے انسانوں کے درمیان داعی اور مدعو کی نسبت ہے، لیکن مسلمانوں کی منفی نفسیات کی بنا پر یہ ہوا کہ مسلمانوں اور دوسرے انسانوں کے درمیان حریف اور رقیب کی نسبت قائم ہوگئی۔ موجودہ زمانے میں کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ مسلمانوں اور دوسرے انسانوں کے درمیان اس نسبت کو درست کیا جائے۔ مسلمانوں کے اندر عمومی طور پر یہ سوچ پیدا کی جائے کہ وہ داعی ہیں اور دوسری قومیں ان کے لیے مدعو کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اِسی میں مسلمانوں کی دنیا کی کامیابی بھی ہے اور اِسی میں ان کی آخرت کی کامیابی بھی۔ (10 اپریل 2013) دعوتی مقصد کے لیے مشرقی یوپی، خاص طور پر لکھنؤ اور اطراف کے قارئین، حسب ذیل پتے پر رابطہ قائم کریں: Madrasa S. Umar Farooq Rustam Nagar, Chawk, Lucknow-226 003 کشمیر میں موجود بے شمار دعوتی مواقع کو استعمال کرنے کے لیے ایک منظم دعوتی مہم چلائی جارہی ہے۔ جو لوگ اس پروگرام میں شامل ہونا چاہتے ہیں، وہ حسب ذیل پتے پر رابطہ کریں: Al-Quran Mission, Kashmir Email: kwc.beerwah@gmail.com, Mob. 9419488008

Printed page