Al-Risala · June 2013

پیرانوئیا کی نفسیات

Al-Risala, June 2013

By Maulana Wahiduddin Khan

آپ انٹرنیٹ کھولیں تو آپ کو اُس میں دو اصطلاحیں ملیں گی ۔ (Jewish Paranoia) اور مسلم پیرانوئیا (Muslim Paranoia)۔ دونوں عنوانات کے تحت آپ کو بہت سے مضامین ملیں گے۔ ان مضامین کے مطالعے سے آپ کو معلوم ہوگا کہ اپنے بعد کے زمانے میں، یہود اور مسلمان دونوں، ایک ہی نفسیات کا شکار ہوئے۔ یہ نفسیات وہی ہے جس کو اصطلاحی طور پر پیرانوئیا (paranoia) کہا جاتا ہے۔ پیرانوئیا کا مطلب ہے: فریب خوردگی (delusion) میں جینا۔

یہود اور مسلمانوں کی اس فریب خوردگی کا مشترک سبب اُن کی قومی تاریخ ہے۔ دونوں کے ساتھ یہ ہوا کہ قدیم زمانے میں اُن کو قومی برتری اور سیاسی دبدبہ ملا۔ اس کے بعد دونوں کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا کہ کچھ قومیں ابھریں جنھوں نے دونوں کی قومی برتری اور سیاسی دبدبے کو ختم کر دیا۔ یہ واقعہ پہلے، یہود کے ساتھ پیش آیا اور اس کے بعد مسلمانوں کے ساتھ۔ یہ واقعہ قانونِ فطرت کے تحت ہوا تھا، لیکن دونوں نے اُس کو ’’غیروں‘‘ کی سازش قرار دے دیا۔

اس سے دونوں کے اندر جو مریضانہ ذہنیت پیدا ہوئی، اُسی کا نام پیرانوئیا ہے۔ اس ذہنیت کے نتیجے میں مشترک طور پر جو ہوا، وہ یہ تھا— اپنے بارے میں فرضی فخر (false pride) اور دوسرے کے بارے میں فرضی نفرت (false hate)۔ اس بگڑے ہوئے مزاج کے تحت دونوں کے اندر جو برائیاں پیدا ہوئیں، اُن میں سے ایک مشترک برائی یہ تھی کہ دونوں نے دعوت کا وہ کام چھوڑ دیا جس کی ذمے داری اُن پر خدا کی طرف سے ڈالی گئی تھی۔

اس سلسلے میں یہود کے کیس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ فَنَبَذُوهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُونَ (3:187) یعنی یہود سے یہ عہد لیا گیا تھا کہ تم ضرور اس کو لوگوں کے سامنے بیان کروگے اور اس کو نہ چھپاؤ گے، لیکن

انھوں نے اس کو پس پشت ڈال دیا۔ اس سلسلے میں مسلمانوں کی ذمے داری کو قرآن کی اس آیت میں بیان کیا گیا ہے: لِيَكُونَ الرَّسُولُ شَهِيدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاس (22:78) یہ ایک حقیقت ہے کہ یہود نے اپنے بعد کے زمانے میں تبیین حق کی ذمے داری کو چھوڑ دیا، حتیٰ کہ اس حکم کی فرضیت اُن کے لیے ایک نامعلوم چیز بن گئی۔ انھوں نے بطور خود یہ عقیدہ بنا لیا کہ نجات (salvation) صرف یہود (بنی اسرائیل) کے لیے ہے۔ غیر یہود کے لیے نجات ہی نہیں۔ ٹھیک یہی حال بعد کے زمانے میں مسلمانوں کا ہوا۔ دعوت یا شہادت علی الناس کا حقیقی تصور ان کے ذہن سے حذف ہو گیا۔ ان کی تفسیریں ، اُن کی شرحیں اور ان کی تیار کردہ کتابیں دعوت الی اللہ کے حقیقی تصور سے خالی ہیں۔ انھوں نے اپنے آپ کو خِیر امت“ کا درجہ دے رکھا ہے اور دوسروں کو انھوں نے عملاً کافر کا درجہ دے کر اَن کو نظر انداز کردیا ہے- موجودہ زمانے میں کچھ لوگوں نے بظاہر دعوت کے نام سے ادارے قائم کیے ہیں، اور اس کے تحت کچھ سرگرمیاں کر رہے ہیں، مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے، یہ سرگرمیاں دعوتی سرگرمیاں نہیں۔ کی سرگرمیوں کو دو قسم میتقسم کیا جاسکتا ہے— ایک، وہ لوگ ہیں جو دعوت کے نام پر ڈیبیٹ (debate) وہ دوسروں کے مذہب پر مسلمانوں کے مذہب کی برتری ثابت کرتے ہیں۔ سے مسلمانوں کے جذبہ فخر کو تسکین ملتی ہے۔ مسلمان اُن کی تقریروں پر خوش ہو کر تالیاں بجاتے ہیں، مگر اس قسم کا ڈبیٹ صرف ایک قومی کام ہے، اس کا دعوت سے کوئی تعلق نہیں۔

دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو دعوت کا نام لیتے ہیں، لیکن عملاً اُن کا کام یہ ہے کہ وہ عوام کے اندر جائیں اور پر اسرار قسم کے بے اصل قصے کہانیاں سنا کر وقتی طور پر لوگوں سے کلمہ پڑھوائیں۔ اس طرح کے کام سے مسلمان خوش ہوتے ہیں اور ایسے لوگوں کا تعاون کرتے ہیں، اس لیے کہ اس کام میں مسلمانوں کو یہ نفسیاتی تسکین ملتی ہے کہ اُن کی قوم کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دعوت الی اللہ کے کام کا نہ قومی فخر سے کوئی تعلق ہے اور نہ قومی تعداد بڑھانے سے۔ دعوت الی اللہ تمام تر شہادت علی الناس کا کام ہے۔ دعوت کا کام انسانوں کی خیر خواہی میں خالص آخرت کے

جذبے کے تحت ہوتا ہے۔ دعوت کا کام کیا ہے ، اس کی حقیقت قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتی ہے: رُّسُلًا مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ (4:165)۔ پچھلی تاریخ میں کئی بار ایسا ہوا کہ کچھ طاقتوں نے فلسطین میں یہودیوں کے خلاف پر تشد د اس کے بعد یہود کی تاریخ میں ایک ظاہر و پیدا ہوا جس کو ڈائس پورا (diaspora) کہا جاتا ہے، یعنی اپنے وطن سے ہجرت کرنا اور دوسرے مقام پر جا کر آباد ہونا۔ اس طرح جو یہودی فلسطین کو چھوڑ کر دوسرے ملکوں میں گئے ، وہ اپنی علاحدہ قومی شناخت (identity) کو بہت زیادہ اہمیت دیتے تھے۔ چناں چہ وہ جس ملک میں گئے، وہاں انھوں نے اپنی علاحدہ بستیاں بنا ئیں۔ ان بستیوں کو گھیٹو (ghetto) کہا جاتا ہے۔ اپنی شناخت برقرار رکھنے کے نام پر اس طرح علاحدہ بستیاں بنانا کوئی سادہ بات نہ تھی۔ اس طرح علاحدہ رہنے کی وجہ سے اُن کے اندر ایک ذہنیت پیدا ہوئی جس کو گھیٹو مینٹیلٹی (ghetto mentality) کہا جاتا ہے۔ بعد کے زمانے میں خود یہودیوں میں گھیٹو کا یہ کلچر باقی نہ رہا۔ وہ تعلیم اور دوسرے جدید شعبوں میں دوسری قوموں کے ساتھ مل کر کام کرنے لگے۔ اس طرح یہودیوں کے اندر گھیٹو مینٹیلٹی بڑی حد تک ختم ہو گئی۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اندر بھی یہی کلچر رائج ہوا، یعنی مسلم شناخت کے نام پر دوسروں سے الگ ہو کر رہنا۔ یہ صورت حال تادم تحریر برقرار ہے۔ اس روش نے مسلمانوں کے اندر بہت بڑے پیمانے پر گھیٹو ذہنیت پیدا کردی۔ اسی گھیٹو ذہنیت کا ایک سیاسی مظاہرہ وہ تھا جس کو پاکستانائزیشن (Pakistanization) کہا جا سکتا ہے۔

اس پاکستانائزیشن کے نام پر موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو جو نقصان پہنچا ہے، اُس کی کوئی مثال پچھلی پوری تاریخ میں نہیں ملتی۔ موجودہ زمانے میں پاکستانائزیشن کی پالیسی اسلام کے نام پر اختیار کی گئی، مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے ، وہ صرف سیاسی گھیٹو ازم (political ghettoism) تھا ، اس کے سوا اور کچھ نہیں (25 جنوری 2013)

Printed page