Al-Risala · June 2013

نئی سوچ کی ضرورت

Al-Risala, June 2013

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کے بعد مغربی قوموں کے خلاف مسلمانوں کا ٹکراؤ شروع ہوا۔ یہ ٹکراؤ انیسویں صدی اور بیسویں صدی کے درمیان دوصد یوں تک مسلسل جاری رہا۔ اس طویل جنگ میں مسلمانوں کو ساری دنیا میں یک طرفہ طور پر تباہی سے دو چار ہونا پڑا۔ اب اس تباہ کن لڑائی کی تاریخ اکیسویں صدی میں پہنچ اب حالات اُس سنگین حد تک پہنچ چکے ہیں، جب کہ اس تباہ کن لڑائی کو مزید جاری رکھنے کا کوئی جواز نہیں۔ اب آخری طور پر وہ وقت آ گیا ہے کہ مسلمانوں کے علما اور دانش ور یہ فیصلہ کریں کہ اب ہمیں پورے معاملے کا از سر نو جائزہ لینا ہے۔ اب ہمیں ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے احیاء ملت کی نئی منصوبہ بندی کرنا ہے۔ دوسوسال کا ناکام تجربہ یہ جاننے کے لیے کافی ہے کہ ماضی کی پالیسی کو بدستور جاری رکھنا، اب صرف دیوانگی ہے، نہ کہ کوئی دانش مندی۔

اسلام کے عملی اصول میں سے ایک اصول وہ ہے جس کو نظر ثانی (reassessment) کا اصول کہا جا سکتا ہے۔ فطرت کے نظام کے مطابق، یہ ممکن ہے کہ آدمی نظریہ (ideology) کی سطح پر ہمیشہ ایک ہی آئیڈیل اصول پر قائم رہے، لیکن عمل کی دنیا میں آنے کے بعد ہمیشہ پریکٹیکل وزڈم (practical wisdom) کی ضرورت ہوتی ہے، یعنی عملی تقاضے کی نسبت سے اپنے منصوبے پر نظر ثانی کرنا، بدلے ہوئے حالات کے مطابق، از سر نو اپنے عمل کا نقشہ بنانا۔ یہ اسلام کا تقاضا بھی ہے اور عقل کا تقاضا بھی۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں پر اب آخری طور پر وقت آ گیا ہے کہ وہ اس عملی اصول کے تحت اپنی سرگرمیوں کا از سر نو جائزہ لیں اور حقائق (realities) کی بنیاد پر اپنے عمل کا نیا نقشہ بنائیں، جو حالات کے مطابق ، قابلِ عمل بھی ہو اور نتیجہ خیز بھی۔

Printed page