تحریکوں کی ناکامی کا سبب
Al-Risala, June 2013
By Maulana Wahiduddin Khan
پچھلے دو سو سال کے اندر مسلم علما اور مسلم رہنماؤں نے ملت کے احیا کے لیے بہت سی بڑی بڑی تحریکیں اٹھائیں اور بہت سی بڑی بڑی جماعتیں بنائیں۔ ان تحریکوں اور جماعتوں کے تحت جو پرجوش سرگرمیاں جاری ہیں، ایک فارسی شاعر کے الفاظ میں، اُن کے بارے میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ: زمیں شش شد و آسماں ہشت شد مگر یہ تحریکیں اپنے اعلان کردہ مقصد کے اعتبار سے مکمل طور پر نا کام رہیں۔ اس کا سبب صرف ایک تھا، وہ یہ کہ ان رہنماؤں نے موجودہ مسلمانوں کو خیر امت‘ فرض کر کے اپنا کام شروع کیا، جب کہ اصل واقعہ یہ تھا کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا یہ انبوه ایک زوال یافتہ گروہ کے درجے میں پہنچ چکا تھا۔ اصلاح کا آغاز افراد سے دور زوال کی نفسیات یہ ہے کہ زوال اگر چہ عمومی سطح پر ہوتا ہے، لیکن اصلاح کا آغاز افراد کی سطح سے کیا جاتا ہے۔ دور زوال میں مجموعی اصلاح کا طریقہ سراسر بے معنی ہے۔ قرآن کے مطابق، صحیح طریقہ یہ ہے کہ ایسی حالت میں کام کا آغاز اصلاح افراد سے کیا جائے، یعنی بھیڑ کو ایڈریس کرنے کے بجائے افراد کو ایڈریس کرنا۔ اصلاح کی اس حکمت کو قرآن کی دو آیتوں میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: 1 - ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ لَمْ يَكُ مُغَيِّرًا نِّعْمَةً أَنْعَمَهَا عَلَى قَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ وَأَنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (8:53) یعنی یہ اس وجہ سے ہوا کہ اللہ اُس انعام کو جو وہ کسی قوم پر کرتا ہے، اُس وقت تک نہیں بدلتا، جب تک وہ اس کو نہ بدل دیں جو اُن کے نفسوں میں ہے۔ اور بے شک، اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔
2- إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ (13:11) یعنی بے شک، اللہ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا، جب تک وہ اُس کو نہ بدل ڈالیں جو اُن کے نفسوں میں ہے۔ قرآن کی ان دونوں آیتوں کا مطلب ایک ہے، وہ یہ کہ جب کوئی قوم عروج کے بعد زوال کا شکار ہو جائے اور اس کو دوبارہ عروج کی طرف لوٹانا ہو تو اصلاح کے کام کا آغاز مجموعی قوم کی سطح سے
شروع نہیں کیا جائے گا، بلکہ افراد کی سطح سے شروع کیا جائے گا۔ ایسا نہیں کیا جائے گا کہ یہ فرض کر لیا جائے کہ قوم تو موجود ہے، اب اُس کو صرف اجتماعی اقدام کی طرف متحرک کرنا ہے، بلکہ یہ تسلیم کیا جائے گا کہ قوم موجود نہیں ہے اور افراد کی اصلاح کر کے دوبارہ قوم کو وجود میں لانا ہے۔ یہی اللہ کا قانون ہے، اور اللہ کے قانون میں کبھی تبدیلی نہیں ہوتی (62 اس معاملے کی ایک واضح عملی مثال موجودہ زمانے میں پائی جاتی ہے، اور یہ فلسطین اور پاکستان کی دونوں کا کیس بالکل ایک ہے۔ فلسطین کا تعلق عرب دنیا سے ہے، اور پاکستان کا تعلق بقیہ مسلم دنیا فلسطین اور پاکستان کا معاملہ گویا موجودہ زمانے میں اس قانون الہی کو سمجھنے کے لیے عملی مثال کی حیثیت فلسطین اور پاکستان دونوں کے کیس میں ایسا ہوا کہ قوم کی سطح پر ایک مسلم ملک وجود میں لانے کی کوشش کی گئی، مگر دونوں جگہ مکمل طور پر ناکامی ہوئی۔ فلسطین کا مسئلہ 1948 میں شروع ہوا۔ فلسطینی جدوجہد پر اب 60 سال سے زیادہ مدت گزر چکی ہے۔ اس جدوجہد میں جان و مال کی جو قربانی دی گئی ہے، وہ شاید پوری مسلم تاریخ کی تمام قربانیوں سے بھی زیادہ ہے، مگر انجام کے اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ پوری جدوجہد معکوس نتیجہ (counter productive) کی بدترین مثال ثابت ہوئی ہے۔
اس معاملے میں دوسری مثال پاکستان کی ہے۔ پاکستان 1947 میں بنا۔ اس سے پہلے برصغیر ہند کا پورا علاقہ ایک واحد ملک کی حیثیت رکھتا تھا جس میں مسلمان دوسری قوموں کے ساتھ آباد تھے۔ مسلمانوں کے کچھ رہنماؤں نے متحد ہندوستان میں دو قومی نظریہ (two nation theory) چلایا۔ کہنا تھا کہ مسلمان ایک الگ قوم ہیں۔ اُن کو اپنے مذہب کے مطابق، زندہ رہنے کے لیے ایک الگ ملک یہ تحریک اس مفروضے پر قائم تھی کہ مسلم قوم کے نام سے ایک امت آل ریڈی موجود ہے، اب صرف اُس کو ایک علاحدہ خطہ ارض کی ضرورت ہے۔ اُس زمانے میں ایک مسلم شاعر کا یہ شعر بہت مقبول ہوا: نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی جان و مال کی بے پناہ قربانی کے بعد 1947 میں جغرافی معنوں میں پاکستان وجود میں آ گیا، مگر معنوی اعتبار سے، پاکستان کا اب تک کوئی وجود نہیں۔ پاکستان میں نہ اسلام آیا اور نہ وہاں کے
مسلمانوں کو امن اور تحفظ حاصل ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ آج انڈیا کے مسلمان، اسلام اور امن و تحفظ دونوں اعتبار سے، پاکستان کے مسلمانوں سے بہت زیادہ بہتر حالت میں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 1971 سے پہلے انڈیا کے مسلمان، پاکستان جانے کے لیے بے تاب رہتے تھے، مگر آج انڈیا کا کوئی مسلمان، پاکستان جانے کے لیے تیار نہیں، کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ انڈیا میں وہ پاکستانی مسلمانوں کے مقابلے میں ہر اعتبار سے زیادہ بہتر حالت میں ہے۔
پاکستان بننے کے اول دن ہی سے وہاں باہمی ٹکراؤ کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ پہلے وزیراعظم نواب زادہ لیاقت علی خاں کو گولی مار دی گئی۔ پاکستان کے مسلمانوں میں جو باہمی لڑائی شروع ہوئی، اس میں اب تک تقریباً 40 ہزار آدمی ہلاک ہو چکے ہیں۔ امریکا میں ایک آزاد تنظیم ہے۔ اس کا نام—فنڈ فار پیس (Fund for Peace) ہے۔ اس تنظیم کا ایک کام یہ ہے کہ وہ ملکوں کے حالات کا سالانہ انڈیکس تیار کرتی ہے۔ اس تنظیم نے 2011 میں ملکوں کا جو انڈیکس شائع کیا ہے، اس کے مطابق، پاکستان ایک ناکام ریاست (failed state) کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اس ناکامی کا سبب یہ ہے کہ پاکستان کے مسلم رہنماؤں نے یہ فرض کر لیا کہ امت مسلمہ عملاً موجود ہے، اب صرف یہ ضرورت ہے کہ اس کو اقتدار حاصل ہو جائے، جب کہ اصل صورتِ حال یہ تھی کہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، امتِ مسلمہ کا وجود ہی نہ تھا۔ جو چیز موجود تھی، وہ امت کے نام پر صرف ایک انبوہ تھا۔ ایسی حالت میں کام کا آغاز افراد کی اصلاح کر کے دوبارہ امت کو وجود میں لانا تھا۔ پاکستان کے مسلم رہنماؤں نے جو کچھ کیا، وہ گھوڑے کے آگے گاڑی باندھنا (putting the cart before the horse) تھا۔ اس قسم کا غیر فطری منصوبہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا، اور پاکستان کے معاملے میں ایسا ہی ہوا۔
فلسطین کی تحریک میں تمام عرب دنیا براہِ راست طور پر اور بقیہ مسلم دنیا بالواسطہ طور پر شریک ہے، مگر بے پناہ قربانیوں کے باوجود ابھی تک ایسا نہیں ہوا کہ فلسطین میں عربوں کی مطلوب حکومت قائم ہو جائے۔ لیکن جہاں تک سبق کا تعلق ہے، وہ فلسطین کی مثال میں بھی پوری طرح موجود ہے۔
فلسطین میں اگر بالفرض عربوں کی حکومت قائم ہو جائے تو عملاً وہ بھی ایک نا کام ریاست ہی ثابت ہوگی، کیوں کہ فلسطینی عرب بھی دوسرے مسلمانوں کی طرح صرف ایک انبوه ہیں، نہ کہ تیار شدہ افراد۔ ایسی حالت میں بالفرض اگر فلسطین میں عربوں کی حکومت قائم ہو جائے تو فلسطین میں عملاً وہی ہوگا جو دوسرے عرب ملکوں میں ہورہا ہے، یعنی یا تو سخت قسم کی ڈکٹیٹر شپ (dictatorship)، یا اگر بالفرض آزادی کا ماحول ہو تو خود فلسطینی مسلمانوں کے درمیان سخت قسم کی باہمی جنگ۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ حالات میں صرف ایک ہی محفوظ طریقہ باقی ہے، اور وہ ہے— اسٹیٹس کو ازم کا طریقہ، یعنی حالت موجودہ کو یک طرفہ طور پر تسلیم کر لینا ۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کو یہ کرنا ہے کہ وہ یک طرفہ طور پر نفرت اور تشدد کا طریقہ ختم کر دیں۔ وہ اقدام کی نوعیت کی تمام سرگرمیوں کو مکمل طور پر بند کر دیں۔ وہ یوٹرن (U turn) لیتے ہوئے اپنے عمل کے میدان کو بدل دیں۔ دوسروں سے ٹکراؤ کے، بجائے خود اپنے افراد کی تعلیم وتربیت کی طرف لوٹ آئیں ۔ وہ اپنی تمام طاقت کو ’’اقدام‘‘ کے بجائے ’’تیاری‘‘ پر مرتکز کر دیں۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے لیے زندگی کا یہی واحد راستہ ہے۔ اس کے سوا جو کچھ ہے، وہ صرف ہلاکت ہے، نہ کہ زندگی۔ (17 نومبر 2012) صدر اسلامی مرکز کے آڈیو اور ویڈیو لیکچرز کے لیے حسب ذیل لنکس ملاحظہ ہوں: قرآن کی عمومی اشاعت میں حصہ لینے کے لیے ملاحظہ فرمائیں:
Fill the form at: www.alquranmission.org/QuranDistributor.aspx Send us a postcard with your Al Risala Numbe, Name, Complete Postal Address, Mobile number, Email id and the Area in which you would like to spread the Quran to the following address: 1, Nizamuddin West Market New Delhi- 110013