صلاحیت کی قدردانی
Al-Risala, June 2013
By Maulana Wahiduddin Khan
آسام پولیس کے ایک سپاہی اندرا اپادھیائے کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا۔ اس کا نام یہ تھا۔ 1969 میں جب کہ وہ صرف چار سال کا تھا، وہ اپنی ایک بہن مایا کے ساتھ اپنے ماں باپ سے بچھڑ گیا۔ حالات نے اس کو کٹھمنڈو (نیپال) پہنچا دیا۔ ایک عرصے تک وہاں اس نے ایک ٹی اسٹال (tea stall) پر کام کیا۔ وہاں اس کو سخت نمونیہ ہوگیا- اس کی بہن مایا نے اس کو وہاں کے ایک اسپتال میں داخل کر دیا جس کو کرسچن مشنری کے لوگ چلا رہے تھے۔ اس اسپتال میں چھ ماہ تک زیر علاج رہا۔
اس دوران کسان اپادھیائے کے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا۔ یہ واقعہ اُس کے لیے ایک نئی کامیابی کے ہم معنی بن گیا 1987 میں کسان اپادھیائے کی قسمت جاگی۔ ایک امریکی ڈاکٹر جو کہ کٹھمنڈو میں کام کرتا تھا، اس نے کسان اپادھیائے کے اندر کچھ خاص صلاحیت دیکھی اور اس کو پیش کش کی کہ وہ اسکالرشپ پر امریکا جائے اور وہاں تعلیم حاصل کرے:
Luck shone on Kisan Upadhaya in 1987, when an American doctor working in Kathmandu saw something in him and offered him a scholarship to study in the US. (The Times of India, April 10, 2013, p. 13)
اب اس واقعے پر 40 سال گزر چکے ہیں۔ کسان اپادھیائے اعلی تعلیم کے بعد اب آئی ٹی اسپیشلسٹ (top-notch IT specialist) کی حیثیت سے امریکا میں مقیم ہیں۔ صلاحیت کی یہ قدردانی کسی قوم کی ترقی کا سب سے بڑا راز ہے۔ جس قوم کے اندر فرد کی صلاحیت کی قدردانی کا یہ مزاج پایا جائے، اُس قوم کی ترقی کو کوئی روک نہیں سکتا۔ موجودہ زمانے میں امریکا کو جو ترقی حاصل ہوئی ہے، اس کا خاص سبب یہی ہے۔ امریکا میں سب سے زیادہ اہمیت کی چیز میرٹ (merit) ہے۔ امریکی سماج میں، میرٹ نوازی کا اصول ہے، نہ کہ خویش نوازی کا اصول۔