الرسالمشن
Al-Risala, June 2013
By Maulana Wahiduddin Khan
الرسالہ مشن 1976 میں ماہ نامہ الرسالہ کے اجرا سے شروع الرسالہ مشن ایک پرامن دعوتی مشن ہے۔ اس کی سرگرمیاں انٹرنیشنل سطح پر جاری ہیں۔ مگر الرسالہ مشن میں برانچ (branch) کا الرسالہ مشن میں انڈیپنڈنٹ چیپٹر (independent chapter) کا طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔ یہی طریقہ پیغمبرانہ سنت کے مطابق ہے۔
برانچ کے پیٹرن (pattern) میں ایسا ہوتا ہے کہ مشن دھیرے دھیرے ایک ریٹین (routine) کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔ لوگ ایک ہی مقرر طریقہ (prescribed method) کو بار بار دہراتے رہتے ہیں۔ اس طرح بظاہر لوگ متحرک نظر آتے ہیں، لیکن یہ ایک بے روح حرکت اس حرکت میں کوئی زندگی نہیں ہوتی۔ اس حرکت میں کوئی تخلیقیت (creativity) نہیں اس طریقے میں آدمی کے پاس بظاہر دوسروں کو دینے کے لیے کچھ ہوتا ہے، لیکن خود اپنے لیے اس کے پاس کچھ نہیں ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، انڈیپنڈنٹ چیپٹر کا پیٹرن لوگوں کو مسلسل طور پر زندہ آدمی کے ذہن میں تخلیقی عمل (creative process) جاری رہتا ہے۔ اس طریقے میں ہر آدمی پروگرام ساز (program - maker) بن جاتا ہے۔ برانچ کا طریقہ اگر ذہنی جمود (intellectual stagnation) پیدا کرنے والا ہے تو انڈیپنڈنٹ چیپٹر کا طریقہ ذہنی ارتقا (intellectual development) کا ذریعہ ہے۔
برانچ کے طریقے میں کام کو اعداد و شمار کے اعتبار سے جانچا جاتا ہے۔ اس کے برعکس، انڈیپنڈنٹ چیپٹر کی صورت میں کام کو حقیقی نتیجے کے اعتبار سے دیکھا جاتا ہے۔ کسی مشن کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ وہ افراد کے اندر زندہ شخصیت پیدا کرے، اور انڈیپنڈنٹ چیپٹر کے طریقے میں یہ فائدہ پوری طرح حاصل ہوتا ہے۔ زندہ شخصیت صرف تخلیقی عمل کے ذریعہ پیدا ہوتی ہے، زندہ شخصیت کبھی ریٹین کے ذریعے پیدا نہیں ہوتی۔
حسبِ ذیل سوالات کی وضاحت مطلوب ہے۔ (ایک قاری الرسالہ، پاکستان)
آپ نے اپنے امریکا کے سفر (الرسالہ، جنوری 2012) میں یہ بات لکھی ہے کہ قرآن مجید واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔ مگر امریکا کی معیشیت جو سراسر سود پر استوار ہے، اس کی ترقی کو دیکھ کر آپ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ قرآن کی سود کو گھٹانے اور صدقات کو بڑھانے والی بات جدید ذہن کے لیے قابل فہم نہیں۔ اس کے بعد آپ ان الفاظ سے مراد یہ لیتے ہیں کہ یہاں قرآن جس برکت کا ذکر کر رہا ہے، وہ ذہنی اور اسپرچول ترقی ہے (صفحہ: 26-25)۔ مگر ظاہر ہے کہ اس آیت میں کوئی ایسا لفظ نہیں پایا جاتا ہے جس سے یہ مفہوم نکالا جائے۔ آیت کا سیاق واضح طور پر بتا رہا ہے کہ سود کو گھٹانے اور صدقات کو بڑھانے کا تعلق آخرت سے ہے، نہ کہ دنیا سے۔ آپ ضعیف احادیث سے بکثرت استدلال کرتے ہیں۔ مثلاً ملاحظہ ہو: ماہ نامہ الرسالہ، جولائی 2011، صفحہ 37 پر مذکور روایت (إن الدنيا خلقت لكم، وأنتم خلقتم للآخرة)۔ دوسری چیز جو میں قابلِ اصلاح سمجھتا ہوں، وہ مسلم لیڈر شپ کا نام لے کر براہ راست تنقید آپ کی تنقید سوفی صد درست ہے۔ میرا کہنا یہ نہیں ہے کہ آپ کسی کی ذات یا نیت پر تنقید کرتے بس میری ناقص رائے میں تنقید رویوں پر ہونی چاہیے، شخصیات پر نہیں۔
اگلی چیز جو قابلِ اصلاح ہے، وہ آپ کا اپنے بارے میں خبرنامہ وسفرنامہ میں دوسروں کی رائے کا نقل اللہ نے آپ کو جو مقام ومرتبہ دیا ہے، وہ کافی ہے۔ اس کے بعد عاجز انسانوں کی اپنے بارے میں رائے نقل کرنا آپ کی سطح کی معرفت رکھنے والے شخص کے لیے شاید مناسب نہیں۔ 1- آخرت کا معاملہ کوئی علاحدہ معاملہ نہیں ہے، وہ پوری طرح موجودہ دنیا سے جڑا ہوا ہے۔ قرآن وحدیث میں جس چیز کو تزکیہ کہا گیا ہے، اُس کے لیے میں نے ذہنی اور روحانی ارتقا کا لفظ
استعمال کیا ہے۔ یہ تزکیہ یا ذہنی اور روحانی ارتقا ہی وہ چیز ہے جو آخرت میں اجر کی صورت میں ظاہر جو لوگ حصول دنیا میں اتنا زیادہ گم ہوں کہ وہ اپنا تزکیہ نہ کر سکیں، وہ گویا ’محق‘ کا کیس بن رہے یہی لوگ ہیں جو آخرت کے اجر سے محروم ہو کر رہ جائیں گے۔ واضح رہے کہ مذکورہ آیت کا یہ صرف ایک توسیعی پہلو ہے، وہ آیت کی مکمل تفسیر نہیں۔
ضعیف روایات کے بارے میں راقم الحروف کا مسلک وہی ہے جو عام طور پر علما کا مسلک ہے، یعنی ضعیف روایت کو اُس وقت قبول نہ کرنا جب کہ اس کا تعلق کسی حکم شرعی سے ہو، لیکن جب اس کا تعلق معرفت جیسے پہلو سے ہو تو اُس وقت ضعیف روایت کو قبول کر لیا جائے گا، بشرطیکہ وہ روایت قرآن وحدیث کی کسی معلوم نص سے ٹکراتی نہ ہو۔
حکم شرعی اور رمز معرفت کے درمیان نوعی فرق پایا جاتا ہے۔ مثلاً ایک شخص اگر یہ روایت بیان کرے کہ جو آدمی جھوٹ بولے، اس کی زبان کاٹ دو، تو اس روایت کی صحت کو نہایت شدت سے جانچا جائے گا، کیوں کہ اس کا تعلق ایک حکم شرعی سے ہے۔ اس کے برعکس، ایسی روایت جس کا تعلق حکم شرعی سے نہ ہو، بلکہ رموز معرفت سے ہو تو اس کو اس شرط کے ساتھ دعوت و تربیت کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے کہ وہ کسی معلوم نص سے نہ ٹکراتی ہو۔ اسی معاملے کی ایک مثال الرسالہ میں مذکور یہ روایت ہے: إن الدنيا خلقت لكم، وأنتم خلقتم للآخرة۔ یہ روایت سند کے لحاظ سے اگرچہ ضعیف ہے، لیکن اس میں جو بات کہی گئی ہے، وہ تربیتی نقطہ نظر سے، ایک درست بات ہے۔ کیوں کہ یہ ایک واقعہ ہے کہ اس دنیا کو اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے بطور امتحان گاہ پیدا کیا ہے۔ انسان کا کام یہ ہے کہ وہ اس دنیا کو اصل نہ سمجھ لے، بلکہ یہاں کے حالات میں وہ فلاح آخرت کی تیاری کرے۔ نظریہ کے حوالے سے تنقید کرنا اور شخصیت کا حوالہ نہ دینا بذات خود ایک درست اسلوب ہے اور الرسالہ میں اس اسلوب کی مثالیں آپ دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن بعض حالات میں ضروری ہو جاتا ہے کہ شخصیت کا نام لے کر اس کے نظریے پر تنقید کی جائے، ورنہ تنقید کا مطلوب فائدہ حاصل نہ ہوگا، خاص طور پر اُس وقت جب کہ کسی آدمی کے ساتھ شخصیت پرستی کا پہلو شامل ہو گیا ہو۔ ایسی حالت میں شخصیت کا نام لے کر
اس کے نظریہ پر علمی تنقید کرنا میرے نزدیک فرض کے درجے میں ضروری ہو جاتا ہے۔ البتہ تنقیص یا عیب زنی کا طریقہ کسی حال میں جائز نہ ہوگا، مدلل علمی تنقید کی شرط ہر حال میں لازمی طور پر باقی رہے گی۔ جس چیز کو آپ نے تعریف یا خود ستائی کے طور پر لیا ہے، اُس کا ذکر الرسالہ میں ’’خبر نامہ‘‘ کے تحت بطور تعریف نہیں ہوتا، بلکہ بطور تاریخ ہوتا ہے۔ کچھ چیزوں کی حیثیت ایک دعوتی مشن کے تاریخی ریکارڈ کی ہوتی ہے۔ اُن کو اگر ضبط تحریر میں نہ لایا جائے تو وہ ہمیشہ کے لیے لامعلوم ہو جائیں گی، اس لیے ضروری ہے کہ ان کو تحریری شکل میں محفوظ کر دیا جائے۔ مشن سے متعلق لوگوں کے تاثرات وغیرہ، الرسالہ میں تاریخی ریکارڈ کے اسی اصول کے تحت درج کیے جاتے ہیں، اس کی حیثیت ایک مشن کے تاریخی ریکارڈ کی ہے، نہ کہ معروف معنوں میں شخصی تعریف کی۔
دوسری بات یہ کہ تعریف برائے تعریف بلا شبہ ہرگز اچھی چیز نہیں ہے، لیکن ایک ایسی چیز جو بظاہر ’’تعریف‘‘ معلوم ہوتی ہو، لیکن اس کے اندر سبق کا کوئی پہلو پایا جاتا ہو تو اس کا ذکر ضرور کیا جائے گا، تا کہ عام لوگ اُس سبق سے محروم نہ رہیں۔ رسول اور اصحاب رسول اور دیگر اہل علم کی زندگی میں اس کی بہت سی مثالیں ’’تحدیث نعمت‘‘ کے عنوان کے تحت پائی جاتی ہیں۔
جہاں تک سفرنامے کا تعلق ہے، اس میں اس طرح کی باتیں اگر آتی ہیں تو وہ سفر کے دوران پیش آنے والے واقعات کا بیان ہوتا ہے، اور سفر نامے میں بہر حال وہی باتیں کہی جائیں گی جو سفر کے دوران پیش آئی ہیں، نہ کہ مفروضہ طور پر وہ باتیں جو سفر کے دوران سرے سے پیش ہی نہیں آئیں۔ اور تاریخی ذوق نہ ہونے کی بنا پر لوگ، عام طور پر، اس طرح کی چیزوں کو شخصی تعریف سمجھ لیتے ہیں، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ سفر نامے میں اس نوعیت کی چیزوں کا ذکر بیان واقعے کے طور پر ہوتا ہے، نہ کہ کسی آدمی کی شخصی تعریف کے طور پر۔ اس طرح کے معاملات میں صحیح رائے قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کے اندر وہ چیز پائی جاتی ہو جس کو ڈیٹیچڈ تھنکنگ (detached thinking) کہا جاتا ہے، یعنی اصل بات اور شخصیت کو ایک دوسرے سے الگ کر کے دیکھنا۔ علمی ذوق کا تقاضا ہے کہ چیزوں کو ہمیشہ ان کی میرٹ (merit) کی بنیاد پر دیکھا جائے، نہ کہ وہ کسی کی تعریف ہے یا تنقیص۔