Al-Risala · July 2013

جنت میں داخلہ

Al-Risala, July 2013

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ البقرہ میں بتایا گیا ہے کہ جنت میں داخلہ کسی نسل یا گروہ سے وابستگی کی بنیاد پر نہیں ہوگا، بلکہ وہ تمام تر شخصی صفات کی بنیاد پر ہوگا۔ اس سلسلے میں ارشاد ہوا ہے: بَلَىٰ مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَهُ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (2:112) یعنی جس نے جھکا دیا اپنا چہرہ اللہ کے لیے اور وہ محسن ہے تو ایسے شخص کے لیے اجر ہے اس کے رب کے پاس، اُن کے لیے نہ کوئی ڈر ہے اور نہ کوئی غم۔

قرآن کی اس آیت میں کسی انسان کے لیے جنت میں داخلے کی دو شرط بتائی گئی ہے— ایک، اپنا چہرہ اللہ کے لیے جھکا دینا۔ دوسرے، اُس انسان کا محسن ہونا۔ پہلی شرط کا تعلق فارم (form) سے ہے اور دوسری شرط کا تعلق اسپرٹ (spirit) سے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ جنت اُس انسان کے لیے ہے جو دنیا کی زندگی میں دو شرطوں پر پورا ایک، یہ کہ اس کی زندگی بہ اعتبار فارم اسلام پر مبنی ہو۔ مگر صرف فارم کو اختیار کرنا کافی نہیں، اُسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ محسن ہو۔ محسن یا احسان کا مطلب ہے کسی کام کو اچھی طرح کرنا (to do better)۔ کسی انسان کی زندگی میں جب یہ دو شرطیں جمع ہوں تو اس کے بعد ہی وہ جنت میں داخلے کا مستحق قرار پا تا ہے۔

کسی کام کو اچھی طرح کرنا کب ممکن ہوتا ہے، یہ اُس وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ انسان اپنے کام کو صرف جسمانی طور پر نہ کرے، بلکہ اس کا دل ودماغ اس کے ساتھ وابستہ ہو جائے۔ وہ اسی کے لیے سوچے، اس کے جذبات اسی کے ساتھ وابستہ ہوں، وہ کام پوری طرح اس کی توجہ کا مرکز بن گیا ہو، اس کی زندگی میں اُس کام کا درجہ مقصد حیات کا ہو، نہ کہ صرف ایک رسم یا ایک رٹین (routine) کا۔ یہی احسان ہے، اور کوئی شخص جنت میں داخلے کے قابل صرف اُس وقت بنتا ہے جب کہ اُس کے دینی عمل میں احسان کی یہ روح شامل ہو جائے۔

Printed page