کشتی کا انتخاب کیوں
Al-Risala, January 2013
By Maulana Wahiduddin Khan
صور اسرافیل قیامت کا ناطق اعلان ہے اور کشتی نوح (دابہ) قیامت کا غیر ناطق اعلان۔ صور اسرافیل جس حقیقت کو بول کر بتائے گا، اسی حقیقت کا اعلان خاموش زبان میں کشتی نوح (دابہ) کے ذریعے کیا جائے گا۔
اس مقصد کے لئے کشتی کا انتخاب کیوں کیا گیا۔ حسب ذیل پہلوؤں پر غور کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ قدیم زمانے میں کشتی ہی اس مقصد کا سب سے زیادہ بہتر ذریعہ بن سکتی تھی: سنت اللہ کے مطابق، کشتی کے لئے لفظ دابہ کی صورت میں ایک ملتبس نام (disguised name) درکار تھا اور کشتی کے لئے لفظ دابہ کی صورت میں ایک ملتبس نام نہایت آسانی سے حاصل ہوتا ہے۔
مطلوب مقصد کے لئے ایک ایسی چیز درکار تھی جو طوفان میں تیر کر ایک جگہ سے دوسری جگہ
یہ کام صرف کشتی کے ذریعے ہو سکتا تھا۔
3- اس کام کے لئے ایک ایسا ذریعہ درکار تھا جو کچھ لوگوں کو بچائے اور کچھ لوگوں کو تباہ یہ کام بھی صرف کشتی کے ذریعے ممکن تھا۔
4- اس کام کے لئے ایک ایسی چیز کی ضرورت تھی جو ہزاروں سال تک برف کے نیچے دب کر باقی رہے اور بعد کو ظاہر ہو کر وہ لوگوں کے سامنے آئے۔
5- کشتی کا ایک فائدہ یہ بھی تھا کہ وہ کیمیائی عمل کے تحت فاصل (fossil) بن کر محفوظ رہے، تاکہ وہ بعد والوں کے لئے ایک نشانی بنے۔
یہ تمام صفات کشتی میں موجود تھیں۔ مزید یہ کہ اللہ کی سنت (6:8) کے مطابق، کشتی وہ واحد چیز تھی جس کے لیے دابّہ کی صورت میں ایک ملتبس نام (disguised name) مل سکتا تھا۔ سنت کے مطابق، کشتی کا حوالہ کشتی کے نام سے دینا مطلوب نہیں تھا، بلکہ اس کا حوالہ ایک ایسے بالواسطہ نام کے ذریعہ دینا مطلوب تھا جس کو صرف غور کر کے سمجھا جا سکتا ہو۔ اس کے لیے دابہ نہایت موزوں نام تھا، کیوں کہ کشتی بھی پانی پر رینگتی ہے اور دابہ کے لفظی معنی ہیں رینگنے والا۔ قرآن میں ہے کہ جب وقت آئے گا تو ہم، لوگوں کے لئے زمین سے ایک دابہ (رینگنے والا) نکالیں گے (27:82)۔ یہ الفاظ بہت خوبی کے ساتھ اصل واقعہ کو بتاتے ہیں۔ کیوں کہ کشتی کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا، وہ یہ تھا کہ اس کے اوپر برف کی بہت موٹی تہ جم گئی۔ پھر گلوبل وارمنگ کے زمانے میں برف پگھلنا شروع ہوئی تو دھیرے دھیرے کشتی کھل کر سامنے آگئی۔ ’’رینگنے والی چیز‘‘ کا زمین سے نکلنا بالکل لفظی طور پر اس واقعہ کی تصویر کشی کر رہا ہے۔
قرآن میں دابہ کا ذکر جہاں آیا ہے، وہاں صرف یہ بتایا گیا ہے کہ دابہ لوگوں سے ’’کلام‘‘ کرے گا اور یہ خبر دے گا کہ لوگوں نے اللہ کی آیتوں (signs) پر یقین نہیں کیا۔ قرآن میں دابہ کے بارے میں اتنا ہی بتایا گیا ہے۔ قرآن میں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ لوگ دابہ کی بات سنیں گے تو اس کے بعد تمام لوگ اس کو ماننے والے بن جائیں گے۔ قرآن سے یہ تو ثابت ہے کہ دابہ لوگوں سے ’’کلام‘‘ کرے گا،
لیکن یہ بات قرآن میں نہیں ہے کہ لوگ دابۃ کے کلام کو سن کر اُس کے مومن بن جائیں گے۔ اس سے مستنبط ہوتا ہے کہ دابہ (کشتی نوح) کا ظہور دوبارہ اُسی نوعیت کا ہوگا جیسے کہ نوح کے زمانے میں ہوا تھا۔ حضرت نوح کی دعوت و تبلیغ سے ان کے زمانے کے بہت کم لوگ اُن پر ایمان اسی طرح یہی معاملہ بعد کے زمانے میں بھی پیش آئے گا، یعنی دوسری بار بھی صرف کچھ لوگ اس سے اثر قبول کریں گے اور زیادہ لوگ اس کو نظر انداز کر دیں گے۔
حقیقت یہ ہے کہ بعد کے زمانے میں دابہ (کشتی نوح) کا ظہور صرف اعلان کے لئے ہوگا۔ اس کے نتیجے میں ایسا نہیں ہوگا کہ تمام لوگ اس کے مومن بن جائیں اور دنیا میں کوئی خدا کا انکار کرنے والا باقی نہ رہے۔