Al-Risala · July 2013

مغربی تہذیب، مغربی کلچر

Al-Risala, July 2013

By Maulana Wahiduddin Khan

مغربی تہذیب اور مغربی کلچر دونوں ایک دوسرے سے اُسی طرح الگ ہیں جس طرح اسلام اور مسلمانوں کی قومی تاریخ دونوں ایک دوسرے سے الگ ہیں۔ ایک شخص اگر ایسا کرے کہ وہ صرف مسلم تاریخ کو پڑھے اور اُسی سے اسلام کے متعلق رائے قائم کرے تو وہ کہہ سکتا ہے کہ مسلمانوں کا مذہب نام ہے— باہمی لڑائی، خاندانی حکومت، ملک گیری، فرقہ بندی، عسکریت اور خود کش بم باری جیسی چیزوں کا۔ مگر یہ تاثر سراسر غلط ہوگا، کیوں کہ یہ چیزیں بلا شبہ مسلم تاریخ کا حصہ ہیں، لیکن وہ ہرگز مذہب اسلام کا حصہ نہیں۔ اسلام کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کو مسلمانوں کی قومی تاریخ سے الگ کر کے دیکھا جائے، ورنہ آدمی اسلام کو سمجھنے سے قاصر رہے گا۔

یہی معاملہ مغربی تہذیب اور مغربی کلچر کا ہے۔ دونوں ایک دوسرے سے الگ ہیں۔ تہذیب اصلاً سائنسی تہذیب، بالفاظ دیگر، قوانین فطرت کی دریافت کا نام ہے۔ اس دریافت کے نتیجے میں جو نظام وجود میں آیا، اُسی کا نام مغربی تہذیب ہے۔ دوسری چیز مغربی اقوام ہیں۔ کو اُسی طرح آزادی ملی ہوئی ہے جس طرح دوسری قوموں کو آزادی ملی ہوئی ہے۔ وہ بھی اُسی طرح خواہشات کا شکار ہوتی ہیں جس طرح دوسری قومیں خواہشات کا شکار ہوتی ہیں۔ ان کے درمیان بھی اُسی طرح ایک قومی سیاست وجود میں آتی ہے جس طرح دوسرے گروہوں کے درمیان ان کی قومی سیاست وجود میں آتی ہے۔ ان اسباب کی بنا پر مغربی قوموں کے درمیان بھی وہ تمام خرابیاں پیدا ہوئیں جو دوسری قوموں میں پیدا ہوئیں، حتیٰ کہ خود مسلم قوموں کے درمیان بھی۔ عدل کا تقاضا ہے کہ ہم دونوں پہلوؤں کو ایک دوسرے سے الگ کر کے دیکھیں۔ اِس قسم کی عادلانہ تفکیر کا یہ نتیجہ ہوگا کہ ہم اِس غلطی سے بچ جائیں گے کہ ہم اہل مغرب کی قومی خرابیوں کو سائنسی تہذیب کا حصہ سمجھ لیں اور مغربی اقوام اور سائنسی تہذیب دونوں کے بارے میں یکساں طور پر منفی ذہن کا شکار ہو جائیں۔ یہ عین وہی منصفانہ طریق مطالعہ ہے جو اسلام اور مسلمانوں کے ذیل میں کیا جاتا ہے مسلمانوں کی قومی خرابیوں کو الگ کر کے

اسلام کو اس کی نظریاتی حیثیت میں دیکھا جاتا ہے۔ اس طریق مطالعہ کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مطالعہ کرنے والے کے سامنے اسلام کی بھی درست تصویر آتی ہے اور مسلم قوم کی بھی درست تصویر۔ مغربی تہذیب بمعنیٰ سائنسی تہذیب، اسلام کی دشمن نہیں، بلکہ وہ اسلام کے لیے ایک عظیم مددگار کی حیثیت رکھتی ہے۔ مغربی تہذیب بمعنیٰ سائنسی تہذیب کے ذریعے موجودہ زمانے میں بہت سی نئی حقیقتیں سامنے آئی ہیں۔ ان حقیقتوں کے ذریعے سائنس نے فیصلے کی ایک نئی بنیاد فراہم کی ہے جو عین ہمارے حق میں ہے۔ مثال کے طور بر سائنسی طریق مطالعہ کا ایک نتیجہ یہ تھا کہ کوئی چیز مقدس (holy) نہیں، ہر چیز علمی تنقیح (scientific scrutiny) کے تابع ہے۔ اس اصول کا نتیجہ یہ ہوا کہ مذہبی تاریخ میں ایک نیا شعبہ علم وجود میں آیا جس کو تنقید عالیہ (higher criticism) کہا جاتا ہے۔ اس شعبہ علم کے تحت قدیم مذہبی کتابوں، خصوصاً بائبل کا، تنقیدی مطالعہ کیا جانے لگا، جب کہ یہ کتابیں پہلے تنقید سے بالا تر سمجھی جاتی تھیں۔ اس مطالعے کا نتیجہ یہ ہوا کہ خالص علمی اعتبار سے، یہ ثابت ہو گیا کہ یہ کتابیں تاریخی اعتبار یت (historical credibility) سے خالی ہیں۔ اس سلسلے میں مغربی زبانوں میں بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں، اُن میں سے ایک کتاب یہ ہے :

Albert Schweitzer, The Quest of the Historical Jesus, Published 1910, London اسی طرح، سائنسی تہذیب نے ایک نیا فکر پیدا کیا جس کو مبنیٰ پر قطعیت فکر (exact thinking) کہا جاتا ہے۔ اس فکر کا نتیجہ یہ ہوا کہ سبجیکٹیو طرزِ فکر (subjective thinking) غیر معقول قرار پا گیا اور آبجیکٹیو طرز فکر (objective thinking) کو درست سمجھا جانے لگا۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ وہ کتابیں غیر معتبر قرار پا گئیں جو صلیبی جنگوں (Crusades) کے بعد اسلام اور پیغمبر اسلام کو بد نام کرنے کے لیے غیر علمی انداز میں لکھی گئی تھیں ۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے حسب ذیل کتاب کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے :

Printed page