مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے
Al-Risala, July 2013
By Maulana Wahiduddin Khan
اس صورت حال کی بنا پر مولانا محمد الیاس کاندھلوی نے نماز کی اہمیت پر بہت زیادہ زور دیا۔ نماز کو زندہ کرنے کے لیے انھوں نے ایک مستقل تحریک اٹھائی۔ لیکن بعد کو یہ تحریک غلو اور تعصب کا شکار ہو گئی۔ لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ دین صرف "مسجد وار تحریک" کا نام ہے۔ حالاں کہ دین کی دعوت و تبلیغ ایک انسان وار تحریک ہے، وہ محدود معنوں میں صرف مسجد وار تحریک نہیں۔ موجودہ زمانے میں اجتہادی خطا کی ایک مثال جماعت اسلامی ہے جو مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی
کے افکار پر قائم ہوئی ۔ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی (وفات: 1979) ایک ایسے زمانے میں پیدا ہوئے جب کہ دنیا میں سیاسی تحریکوں کا زور تھا_ اشتراکی تحریک، جمہوری تحریک، قومی آزادی کی تحریک، وغیرہ_ لوگ عام طور پر سیاست کو سب سے بڑی چیز سمجھنے لگے تھے۔ مولانا ابو الاعلیٰ مودودی ان حالات سے متاثر ہوئے۔ انھوں نے اسلام کو اس طرح پیش کیا جیسے کہ وہ کوئی سیاسی نظام ہو، جیسے کہ اس کا نشانہ عالمی حکومت قائم کرنا ہو۔ اس تصور کے تحت مولانا مودودی نے قرآن کی آیتوں کی سیاسی تفسیر کی اور سنتِ رسول کو سیاسی اصطلاحوں میں بیان کیا۔ یہ واضح طور پر اجتہادی خطا کی ایک کیوں کہ اسلام ایک ربانی تحریک ہے، نہ کہ کوئی سیاسی تحریک۔ (اس موضوع پر راقم الحروف کی ایک تفصیلی کتاب ”تعبیر کی غلطی“ کے نام سے چھپ چکی ہے۔ اس کتاب کا عربی ترجمہ بھی چھپ چکا ہے۔ اس کا ٹائٹل یہ ہے: خطأ فی التفسیر۔