مسئلے کا حل
Al-Risala, July 2013, p. 16
By Maulana Wahiduddin Khan
دوبارہ اصلاحِ حال کے لیے ضروری ہے کہ ہر گروہ برابر اپنا محاسبہ کرتا رہے، وہ اپنے اکابر کے افکار کا بے لاگ انداز میں بار بار جائزہ لیتا رہے۔ جس چیز کو اس کے اکابر نے حالات کے زیرِ اثر اختیار کیا تھا، اُس کو دوبارہ اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت کی روشنی میں جانچا جائے اور کھلے ذہن کے ساتھ اس کا تجزیہ کیا جائے، کوئی بھی تحریک یا گروہ اس جائزے سے مستثنیٰ نہیں۔ اس جائزے کا یہ نتیجہ ہوگا کہ امر حق دوبارہ منقح ہو کر سامنے آجائے گا، ہر گروہ دوبارہ دینِ خداوندی کو دریافت کر کے اُس پر قائم ہو جائے گا۔
ایک عالمِ یار ہنما کے ساتھ یہ واقعہ پیش آنا کہ وہ حالات کے زیرِ اثر بات کہے یا دین کا ایک تقاضا بیان کرے، اپنی ابتدائی صورت میں وہ تفرق فی الدین کا واقعہ نہیں ہوگا، بلکہ وہ ایک فرد کا طرزِ فکر یا ایک فرد کا ذاتی اجتہاد ہوگا۔ لیکن جب اُس کے گرد ایک گروہ بن جائے اور وہ تعصب کی نفسیات میں مبتلا ہو کر ایک جامد گروہ کی صورت اختیار کرلے تو یہی وہ واقعہ ہے جہاں سے تفرق فی الدین کی برائی کا آغاز یہ برائی رفتہ رفتہ شدید ہو کر اس نوبت کو پہنچ جاتی ہے کہ ہر گروہ شعوری یا غیر شعوری طور پر
یہ سمجھنے لگتا ہے کہ صرف وہی حق پر ہے اور دوسرے تمام گروہ باطل پر۔ اسی کو قرآن میں تحزُّب کہا گیا ہے۔ لوگ تحزب کی اس نفسیات کا شکار ہوں، وہ کسی بھی حال میں اپنے خلاف کوئی تنقید سننے پر راضی نہیں ہوتے، خواہ تنقید کتنے ہی زیادہ قوی دلائل کے ساتھ کی گئی ہو۔
تفرق فی الدین ایک مسئلہ ہے، وہ کوئی ابدی برائی نہیں۔ حالات کے زیر اثر ہر امت میں یہ مسئلہ ضرور پیدا ہوتا ہے، لیکن اسی کے ساتھ اس مسئلے کا حل بھی بلا شبہ موجود ہے۔ یہ حل وہی ہے جس کو محاسبہ (introspection) کہا جاتا ہے۔ محاسبہ کی ایک قسم وہ ہے جو انفرادی محاسبہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسی کے ساتھ قرآن میں اجتماعی محاسبہ کی بھی تعلیم دی گئی ہے، قرآن کی درج ذیل آیات کا تعلق اسی اجتماعی محاسبہ سے ہے: وَتُوْبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَا الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (24:31) یعنی اے ایمان والو، تم سب مل کر اللہ کی طرف رجوع کرو، تا کہ تم فلاح پاؤ۔
قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ فلاح (اصلاح حال) کا تعلق اجتماعی تو بہ سے ہے۔ اجتماعی تو بہ کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کے اجتماعی ادارے کھلے طور پر اس قسم کا اعلان کریں، مسلمانوں کے دار الافتا اس قسم کے فتوے دیں، مسلمانوں کے میڈیا میں اس قسم کے مضامین شائع کیے جائیں، اسی طرح کی اجتماعی کوشش کو مذکورہ آیت میں اجتماعی تو بہ کہا گیا ہے۔ یہی وہ طریقہ ہے جس سے دوبارہ اصلاح حال کا دروازہ کھل سکتا ہے۔ (30 اپریل 2013)