مسلم تاریخ کی مثال
Al-Risala, July 2013
By Maulana Wahiduddin Khan
مسلم ملت دفع کے اس تاریخی قانون سے مستثنیٰ نہیں۔ چناں چہ پچھلے چودہ سو سال میں یہ معاملہ بار بار پیش آیا ہے، یعنی ایک گروہ کو مقام اقتدار سے ہٹا کر اس کی جگہ دوسرے گروہ کو
مقام اقتدار پر لانا، ایک گروہ کو معزول کر کے دوسرے گروہ کو کام کا موقع دینا۔ پچھلے چودہ سوسال میں جن مسلم گروہوں کو اقتدار ملا، اُن کی بنیادی تقسیم یہ ہے: 1- خلافت راشدہ (Rashidun Caliphate) 661-632ء 2- خلافت امویہ (Umayyad Caliphate) 661-750ء 3- خلافت اندلس (Moorish Empire) 711-1492ء 4- خلافت بنو عباس (Abbasid Empire) 750-1258ء 5- مغل سلطنت (Mughal Empire) 1226-1857ء 6- عثمانی خلافت (Ottoman Empire) 1299-1922ء مذکورہ سیاسی واقعات میں ہم دیکھتے ہیں کہ ایک مسلم گروہ کو اقتدار حاصل ہوتا ہے اور پھر ایک مدت کے بعد اُس کو ہٹا کر اس کی جگہ دوسرے گروہ کو لایا جاتا ہے۔ مسلم ملت کے درمیان یہ سلسلہ تقریباً انیسویں صدی کے آخر تک جاری رہتا ہے۔ اس کے بعد مسلمانوں کا غلبہ ختم ہو جاتا ہے اور مغربی قوموں کو غلبہ حاصل ہو جاتا ہے، خواہ براہِ راست طور پر یا بالواسطہ طور پر۔ یہ تمام واقعات اتفاقاً نہیں ہو رہے ہیں، بلکہ وہ اللہ رب العالمین کے قائم کردہ تاریخی قانون کے تحت ہو رہے ہیں۔ خلافت راشدہ کی اصطلاح ایک سیاسی ادارہ کی حیثیت سے بعد کے دور میں وضع ہوئی۔ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت کا جو سیاسی ادارہ قائم ہوا، وہ تقریباً 30 سال تک باقی رہا۔ اس کے بعد اس کا خاتمہ ہو گیا۔ ایسا اتفاقاً نہیں ہوا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ بعد کے زمانے میں خلافت کا یہ ادارہ اپنی اخلاقی خوبیوں کے باوجود سیاسی استحکام (political stability) کو باقی رکھنے کے قابل نہ رہا، اس لیے اس کو ہٹا کر بنو امیہ کا دور لایا گیا۔ بنو امیہ کا خاص کارنامہ یہ تھا کہ انھوں نے عربی زبان اور عرب کلچر (المروءۃ، وغیرہ) کے فروغ کا شدت سے اہتمام کیا جو کہ اُس وقت قرآن کی کامل حفاظت کے لیے ضروری تھا۔ بنو امیہ کی حکومت تقریباً 90 سال تک جاری رہی۔ ان کے دورِ حکومت کے آخری زمانے میں یہ بات واضح ہوگئی کہ عربیت کے تحفظ میں انھوں نے عالمی تقاضے کو فراموش کر دیا۔ چناں چہ اس کے بعد
بنو امیہ کو اقتدار کے مقام سے ہٹا کر ان کی جگہ بنو عباس کو لایا گیا۔ بنو عباس کے دور میں کئی بڑے بڑے کام انجام پائے۔ احادیث کو جمع کرنا، علوم اسلامی کی تدوین، اسلام کی اشاعت، وغیرہ۔ علاوہ انھوں نے اُس وقت کے سیکولر علوم کو حاصل کیا اور ان کو فروغ دیا۔ اس کے نتیجے میں مسلمانوں کے اندر عالمی فکر پیدا ہوا۔ بنو عباس کے دبدبے کے تحت حفاظتِ دین کا کام کامیابی کے ساتھ جاری رہا۔ واضح ہو کہ دورِ قدیم میں حفاظتِ دین کے لیے سیاسی دبدبہ ضروری تھا، مگر اب پرنٹنگ پریس اور دوسرے موافق اسباب کے ظہور کے بعد سیاسی دبدبے کے بغیر خدا کا دین کامل طور پر محفوظ ہے۔ بنو عباس کی سلطنت تقریباً 500 سال تک جاری رہی۔ اس کے بعد فطری طور پر بنو عباس میں جمود کا دور آ گیا ۔ وہ ترقی کے سفر کو مزید جاری رکھنے کے قابل نہ رہے۔ چناں چہ تیرھویں صدی عیسوی میں تاتاریوں کے ذریعے ایک آپریشن کیا گیا اور اس طرح عباسی سلطنت کا خاتمہ ہو گیا۔ اس کے بعد تاریخی قانون کے مطابق، دوسری قوموں کو موقع دیا گیا۔ عباسی دور ہی میں ایک مسلم گروہ اٹھا جس نے اندلس (اسپین) میں اپنا اقتدار قائم کر لیا۔ اس حکومت کو سیکولر مورخین مورش سلطنت (Moorish Empire) کا نام دیتے ہیں۔ مورش سلطنت کو موافق حالات ملے، چناں چہ انھوں نے علم کی ترقی میں مزید بہت زیادہ اضافہ کیا۔ اس دور کے ترقیاتی نمونوں کو استنبول (ترکی) کے میوزیم (The Istanbul Museum of the History of Science and Technology in Islam) میں دیکھا جا سکتا ہے۔
مگر بعد کے دور میں اندلس کی مسلم سلطنت میں بگاڑ آگیا۔ اس کے حکمراں عیش و عشرت میں آخر کار 700 سال سے زیادہ مدت کے بعد اُن پر دفع کا قانون نافذ ہوا اور اسپین کے مسیحی حکمراں نے لڑ کر اِن کا خاتمہ کر دیا۔
اسی دور میں مغل حکمراں ہندوستان میں داخل ہوئے اور یہاں ایک طاقت ور مسلم سلطنت قائم کر دی ۔ مغل سلطنت کے زیر سایہ ہندوستان میں کئی کام انجام پائے۔ مغل حکمرانوں کو دعوت و تبلیغ سے کوئی دلچسپی نہ تھی، لیکن اُن کے دبدبے کے تحت صوفیوں کو یہ موقع ملا کہ وہ اس ملک میں اسلام کی
اشاعت بڑے پیمانے پر کر سکیں۔ لیکن بعد کے دور میں مغل حکمرا نوں میں بھی وہی بگاڑ آیا جو ہر قوم میں آتا ہے۔ چناں چہ 600 سال کے بعد ہندوستان میں برٹش قوم ابھری اور اس نے 1857 میں مغل سلطنت کے خاتمہ کر دیا۔
اس سلسلے میں آخری نام عثمانی خلافت کا ہے۔ اس نے یورپ اور ایشیا اور افریقہ کے بڑے رقبے میں اپنی سلطنت قائم کی۔ اس نے لمبے عرصے تک اسلام کا دبدبہ قائم رکھا۔ اس طرح یہ ہوا کہ پرنٹنگ پریس اور دوسرے موافق اسباب کے ظہور سے پہلے کے دور میں وہ دین اسلام کی محافظ بنی آخر کار عثمانی خلافت میں بھی بڑے پیمانے پر جمود پیدا ہوا، وہ مسلسل کمزور ہوتی چلی گئی، یہاں تک کہ 600 سال کے بعد مغربی قوموں کا ظہور ہوا اور اس طرح عثمانی خلافت کا دور ختم ہو گیا۔ کہا جاتا ہے کہ کمال اتا ترک (وفات: 1938) نے عثمانی خلافت کا خاتمہ کر دیا، مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ کمال اتا ترک نے 1924 میں ترک خلافت کے خاتمے کا صرف اعلان کیا تھا، اُس کا خاتمہ اس سے بہت پہلے ہو چکا تھا (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، ماہ نامہ الرسالہ، نومبر 2012)۔ جمہوریت کا رول دفع کا قانون پچھلے زمانے میں انقلابی عمل (ریڈیکل آپریشن) کے ذریعے انجام پاتا تھا، مگر موجودہ زمانے میں اس طریقے کو بدل دیا گیا۔ اسی بدلے ہوئے طریقے کو موجودہ زمانے میں جمہوریت کہا جاتا جمہوریت دراصل دفع کا قانون کا باقاعدہ انسٹی ٹیوشنلائزیشن (institutionalization) ہے۔ فرانسیسی انقلاب (French Revolution) جمہوری دور کا آغاز ہے جس نے 1792 میں بادشاہی نظام کا خاتمہ کیا۔ اس کے بعد عالمی سیاست میں ایک نیا دور آیا، جس کے نتیجے میں یہ ممکن ہو گیا کہ الیکشن کے ذریعے پرامن طور پر حکومت کی تبدیلی ممکن ہوگئی۔ اس طرح تاریخ میں ریڈیکل تبدیلی کے بجائے، پرامن تبدیلی (peaceful change) کا دور آگیا۔
موجودہ زمانے کے مسلمان اس الہی منصوبے کو سمجھ نہ سکے۔ وہ خود ساختہ ذہن کے تحت یہ کر رہے ہیں کہ کہیں وہ نا کام طور پر دوسری قوموں سے لڑ رہے ہیں۔ مسلمانوں کی یہ منفی روش
قانون الہی کے خلاف ہے، اس لیے اس کا کوئی مفید نتیجہ نکلنے والا نہیں۔ اسی طرح کہیں ایسا ہے کہ مسلمان پچھلے سیاسی ماڈل کی گرفت سے آزاد نہ ہونے کی بنا پر خاندانی لیڈر شپ قائم کئے ہوئے ہیں۔ کہیں اگر ان کو کچھ سیاسی اقتدار مل گیا ہے تو وہاں وہ آپس میں ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی صورت خدا کے منصوبے کے مطابق نہیں، اس لیے وہ نتیجہ خیز بننے والی بھی نہیں۔ رول کی تبدیلی اللہ نے انسان کی ہدایت کے لیے جو دین بھیجا، اُس کے دو تقاضے تھے ایک تھا، اس کی حفاظت (preservation)، اور دوسرا تھا اس کا اظہار۔ دین کی حفاظت کا کام پہلے، بنی اسرائیل کو سونپا گیا، مگر وہ اس میں ناکام ہو گئے۔ اس واقعہ کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے: اَلَّذِيۡنَ حُمِّلُوا التَّوْرَاةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوهَا (62:5)
بنی اسرائیل کی ناکامی کے بعد بنو اسماعیل (امت محمدی) کو دینِ خداوندی کے حامل ہونے کی یہ ذمے داری سپرد کی گئی۔ امت محمدی نے اپنے آغاز کے بعد ہزار سال کی مدت میں دین کی حفاظت کا کام پوری طرح انجام دے دیا۔ اب خدا کا دین کامل طور پر محفوظ ہے۔ امت محمدی کو اس کے آغاز کے بعد لمبی مدت تک مددگار قوت کے طور پر سیاسی دبدبہ عطا کیا گیا۔ اس دبدبے کا خاص مقصد یہی تھا کہ دین کا متن (text) اور اس کی تاریخ مستند طور پر محفوظ ہو جائے۔
اس کے بعد دوسرا کام جو مطلوب تھا، اس کو ایک لفظ میں اظہار کہا جا سکتا ہے۔ امت مسلمہ اس دوسرے کام کو انجام نہ دے سکی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کو غیر معمولی مواقع دئے گئے تعداد، دولت اور سیاسی طاقت، وغیرہ۔ مگر امت مسلمہ اس دوسرے مطلوب کام کو انجام دینے میں ناکام رہی۔ اٹھارھویں صدی کے آخر میں یہ واضح ہو گیا کہ امت مسلمہ اب اُسی طرح ایک بے جان قوم بن چکی ہے، جیسا کہ اس سے پہلے بنی اسرائیل اپنے دورِ زوال میں ایک بے جان قوم بن چکے تھے۔ بے جان ہونے کا مفہوم کسی امت کے بے جان ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ دینِ خداوندی کو چھوڑ دے اور
اعلان کے ساتھ کوئی دوسرا دین اختیار کرلے۔ اس قسم کی تبدیلی نہ پہلے کبھی ہوئی اور نہ آج ہوگی۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ 14 صدیاں گزرنے کے بعد امت مسلمہ پر وہ وقت آگیا جو پچھلی امتوں پر آیا تھا، یعنی مسلمان عملًا ایک بے جان قوم بن گئے۔ اب کوئی بھی اصلاحی جدوجہد ان کو مجموعی طور پر دوبارہ زندہ کرنے والی نہیں۔ اب جو چیز ہونے والی ہے، وہ صرف یہ کہ امت کے کچھ افراد کو شخصی طور پر زندگی ملتی رہے گی، نہ کہ پورے مجموعے کو۔
اس صورت حال کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ دھیرے دھیرے امت کی بعد کی نسلوں میں یہ واقعہ پیش آتا ہے کہ لوگ اسلام کے نام پر ایک خود ساختہ اسلام (self-styled version of Islam) بنا لیتے ہیں۔ اس خود ساختہ اسلام میں اسپرٹ حذف ہوجاتی ہے اور صرف کچھ ظاہری شکلیں باقی رہتی ہیں۔ پھر لمبی مدت تک اُس پر قائم رہتے ہوئے وہ اُس پر پختہ (conditioned) ہوجاتے ہیں۔ اس پختگی (conditioning) کے ساتھ ہمیشہ ایک فرضی یقین (false conviction) جمع ہوجاتا ہے۔ وہ اپنے وضع کردہ اسلام پر اس طرح جینے لگتے ہیں، جیسے کہ وہ خدا اور رسول کے دین پر قائم ہیں۔ اسی فرضی یقین کا نام بے جان ہونا یا زندگی سے محرومی ہے۔ جو لوگ اس حالت پر پہنچ جائیں، وہ اس صلاحیت سے محروم ہوجاتے ہیں کہ وہ دوبارہ اپنی روش پر نظرثانی کرسکیں۔