Al-Risala · January 2013

پیغمبرانہ یادگاریں

Al-Risala, January 2013

By Maulana Wahiduddin Khan

حضرت نوح سے حضرت محمد تک خدا کے بہت سے پیغمبر دنیا میں آئے۔ اُن میں سے تین پیغمبر ایسے ہیں جن کی مادی یادگاریں آج بھی دنیا میں موجود ہیں۔ یہ تین پیغمبر ہیں— حضرت نوح، حضرت ابراہیم اور حضرت محمد۔ تین پیغمبروں کی یہ مادی یادگاریں علامتی طور پر دعوت کے تین دور کو بتاتی ہیں۔ پہلی مادی یادگار حضرت نوح علیہ السلام کی ہے، جو ایک کشتی کی صورت میں آج بھی موجود ہے۔ علامتی طور پر بتاتی ہے کہ ایسا ہونے والا نہیں کہ انسانوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے، بلکہ تمام پیدا ہونے والے انسانوں کو آخر کار دو گروہ میں تقسیم کیا جائے گا۔

یہ تقسیم لوگوں کے ریکارڈ (record) کے مطابق ہوگی۔ اور پھر اچھے ریکارڈ والوں کے لیے جنت کا فیصلہ کیا جائے گا اور برے ریکارڈ والوں کے لیے جہنم کا فیصلہ۔ دوسری مادی یادگار حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ہے جو کعبہ کی صورت میں آج بھی مکہ میں موجود ہے۔ کعبہ علامتی طور پر اُس غیر معمولی منصوبہ بندی (extraordinary planning) کی یادگار ہے جب کہ یہاں کے صحرائی علاقہ میں حضرت ابراہیم نے اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل کو بسایا اور پھر توالد اور تناسل کے لمبے دور کے بعد وہ نسل تیار ہوئی جس کو بنو اسماعیل

کہا جاتا ہےـ رسول اور اصحابِ رسول اسی نسل کے منتخب افراد تھے۔ یہ ایک استثنائی گروہ تھا جس کو ایک مستشرق نے ہیروز کی قوم (a nation of heroes) کہا ہے۔

تیسری مادی یادگار حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے جو مدینہ کی مسجد نبوی کی صورت میں موجود مسجد نبوی کے اندر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر واقع ہے۔ حضرت محمد اور آپ کے اصحاب کی غیر معمولی کوشش سے انسانی تاریخ میں ایک نیا دور شروع اس نئے دور کو دور شرک کا خاتمہ اور دور توحید کا آغاز کہا جا سکتا ہے۔ حضرت محمد اور آپ کے اصحاب نے انسانی تاریخ میں ایک نئے عمل (process) کا آغاز کیا۔ اس کے نتیجہ میں وہ انقلابی واقعہ پیش آیا جس کو قرآن میں اظہارِ دین (48:28) کہا گیا ہے۔

اظہارِ دین سے مراد کوئی سیاسی اظہار نہیں ہے، اس سے مراد زیادہ وسیع نوعیت کا ایک ہمہ جہتی اظہار ہے۔ اس کے نتیجہ میں وہ عالمی واقعہ پیش آیا جس کو انفجارِ مواقع (opportunity explosion) کہا جاسکتا ہے۔

حضرت محمد اور آپ کے اصحاب کے ذریعے تاریخ میں جو عمل (process) شروع ہوا، وہ اکیسویں صدی عیسوی میں اپنی آخری تکمیل تک پہنچ چکا ہے۔ اس انقلاب کے مختلف پہلو ہیں۔ مذہبی آزادی، توحید کے حق میں سائنسی شواہد، عالمی کمیونیکیشن، گلوبل موبلٹی (global mobility)، پرنٹنگ پریس، سیاست کا ڈی سینٹرلائزیشن (decentralization of political power)، اداروں کا دور (age of institutions)، وغیرہ۔

انھیں جدید مواقع میں سے ایک یہ ہے کہ نئے حالات کے نتیجہ میں حضرت نوح کی کشتی ظاہر ہو کر لوگوں کے سامنے آگئی جو کہ کئی ہزار سال تک برف کی بھاری تہہ کے نیچے چھپی ہوئی تھی۔ دابہ کا نکلنا قرآن کی سورہ النمل میں قیامت سے پہلے کی ایک نشانی کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے: وإذا وقع القول عليه أخرجنا لهم دابة من الأرض تكلمهم أن الناس كانوا بأياتنا

لا يوقنون (27:82) اور جب ان پر بات واقع ہو جائے گی تو ہم ان کے لئے زمین سے ایک دابۃ نکالیں گے جو اُن سے کلام کرے گا کہ لوگ ہمارے نشانیوں پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ قرآن کی یہ آیت 1400 سال سے غیر واضح بنی ہوئی تھی، لیکن حضرت نوح کی کشتی کے بارے میں حال میں جو معلومات سامنے آئی ہیں، اس کی روشنی میں محفوظ طور پر یہ استنباط کیا جاسکتا ہے کہ دابہ سے مراد غالباً حضرت نوح کی کشتی ہے، یعنی پانی کے اوپر رینگنے والا دابہ۔ قرآن میں حضرت نوح کی کشتی کو ایک نشانی (آیت) کہا گیا ہے۔ اسی طرح قرآن میں دابہ کو بھی ایک آیت کہا گیا ہے۔ کشتی نوح اور دابہ کے درمیان یہ مشابہت بہت با معنی ہے۔ آغازِ انسانی سے اللہ نے یہ انتظام کیا کہ ہر دور میں خدا کے پیغمبر آئیں اور انسان کو بتائیں کہ ان کے بارے میں اللہ کا تخلیقی منصوبہ (creation plan) کیا ہے، مگر انسان نے اپنی سرکشی کی بنا پر یہ کیا کہ اس نے پیغمبروں کو نظر انداز کیا، حتیٰ کہ انسانیت کی مدون تاریخ (recorded history) میں پیغمبروں کا اندراج نہ ہوسکا، پیغمبر عقیدہ کا معاملہ بن گئے، نہ کہ تاریخی طور پر ثابت شدہ حقیقت کا معاملہ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انسان نے بظاہر تخلیق (creation) کو جانا، مگر وہ مقصدِ تخلیق (purpose of creation) سے بالکل بے خبر رہا۔

قرآن کی مذکورہ آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ قیامت سے پہلے ایسا ہوگا کہ اس متھ (myth) کو توڑ دیا جائے گا۔ اور اس متھ کو توڑنے کا ذریعہ ایک پیغمبر کی ایک تاریخی نشانی کا ظہور ہوگا، جس کا ذکر بائبل اور قرآن دونوں میں موجود ہے۔ اس طرح مذہبی عقیدہ ایک علمی مسلمہ بن جائے گا۔ جیسا کہ عرض کیا گیا، دابہ کا لفظی مطلب ہے رینگنے والا۔ حضرت نوح کی کشتی پانی پر رینگنے والی وہ طوفان کے اوپر چلتی ہوئی ترکی کے سرحدی پہاڑ ارارات (Ararat) پر پہنچ گئی۔ اب اکیسویں صدی میں کشتی نوح کا یہ معاملہ ایک واقعہ بن کر سامنے آگیا ہے۔ بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے جب کہ وہ پوری طرح منظر عام پر آ جائے اور پھر زبانِ حال سے کلام کر کے لوگوں کو بتائے کہ پیغمبر کی جس نشانی کا تم انکار کرتے رہے، وہ اب تمھارے سامنے عیاناً موجود ہے۔ حضرت نوح نے براہ راست طور پر اپنی قوم سے اور بالواسطہ طور پر تمام انسانیت کو بتایا تھا کہ

اللہ کے منصوبے کے مطابق ،مقصد تخلیق کیا ہے۔ سیارہ ارض پر انسان کا قیام ایک مقرر مدت تک ہے (71:4) یعنی ایک مقرر وقت (apppointed time) تک دنیا میں حالت امتحان میں رہنا اور اس کے بعد آخرت میں اللہ کے سامنے حساب کے لئے پیش کر دیا جانا۔ یہی زندگی کی وہ حقیقت ہے جس کو حضرت نوح نے اور دوسرے پیغمبروں نے انسان کو بتایا، لیکن انسان نے اس پیغمبرانہ انتباہ (warning) کو اپنے ریکارڈ سے خارج کر دیا۔

دابہ کے ظہور کا ذکر قرآن میں بھی ہے اور حدیث میں بھی، لیکن دونوں جگہ اس کا ذکر مستقبل کی پیشین گوئی کے طور پر ہے، اس لیے دابہ کے بارے میں شارحین اور مفسرین کی مختلف رائیں ہیں۔ دابہ کے بارے میں مزید مطالعے کے بعد اب میں جس نتیجے پر پہنچا ہوں، اس کو میں نے اس مضمون میں درج کر دیا ہے۔ اب تک کی معلومات کے مطابق ،یہی رائے مجھ کو زیادہ درست معلوم ہوتی ہے: هذا ما عندي، والعلم عند الله۔

اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق ،کئی بار ایسا ہوا کہ کسی پیغمبر کی قوم پر انکار کے نتیجے میں عذاب مگر دوسرے تمام پیغمبروں کے معاملے میں جو صورت اختیار کی گئی، وہ یہ تھی کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب کا فیصلہ ہوا تو پیغمبر کے ماننے والوں سے کہا گیا کہ تم بستی کو چھوڑ کر چلے جاؤ۔ بستی کو چھوڑ کر دور کے علاقہ میں گئے تو مقامی طور پر شدید طوفان یا زلزلے کے ذریعے منکر قوم کو تباہ کر دیا گیا، مگر حضرت نوح کی قوم کے معاملے میں ایک بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا گیا۔ حضرت نوح نے لمبی مدت تک اپنی قوم کو خدا کا پیغام پہنچایا۔ کچھ لوگ آپ پر ایمان لائے اور زیادہ تر لوگ منکر بن گئے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح کو حکم دیا کہ تم ایک بڑی کشتی بناؤ۔ اس میں اہل ایمان کو اور اسی کے ساتھ مویشیوں کے جوڑوں کو سوار کرو۔ جب یہ سب ہو گیا اور لوگ کشتی میں سوار ہو چکے تو بہت بڑا سیلاب آیا۔ پانی زمین سے بھی نکلا اور آسمان سے بھی برسا۔ پانی کی مقدار اتنی زیادہ تھی کہ اس کی سطح پہاڑی کی چوٹی تک پہنچ گئی۔

اسی مختلف انداز کی بنا پر یہ ہوا کہ حضرت نوح کی کشتی بعد کی انسانی نسلوں کے لیے محفوظ رہے۔

اس کی وجہ سے یہ ہوا کہ کشتی زمین سے اوپر اٹھ کر پہاڑ کی بلندی تک پہنچ گئی۔ کشتی نوح کے بارے میں جو بات قرآن میں کہی گئی ہے، اس کی مزید تفصیل دابہ والی آیت سے معلوم اس آیت میں یہ الفاظ ہیں: تکلمهم أن الناس كانوا بآياتنا لا يوقنون اس آیت کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ دابہ بتائے گا کہ لوگ اللہ کی نشانیوں پر یقین نہیں کرتے تھے۔ اس آیت میں آیات (نشانیوں) سے مراد پچھلے ادوار میں اللہ کے پیغمبروں کا ظہور ہے۔ ہر پیغمبر اللہ کی طرف سے ایک نشانی ہوتا تھا، مگر قدیم زمانے میں پیغمبروں کے معاصرین نے پیغمبروں کا اس واقعے کا ذکر قرآن میں اس طرح کیا گیا ہے: ”جو رسول بھی اُن کے پاس آیا، وہ اس کا مذاق ہی اُڑاتے رہے۔

پیغمبروں کا آیت الہی ہونا اُن کے مخاطبین کے لیے مجرد ایک نظری شہادت (theoretical evidence) کے ہم معنی ہوتا تھا، اسی لیے وہ ان کی تکذیب کرتے رہے۔ تعالی نے چاہا کہ پیغمبر اور پیغمبری کے حق میں ایک مادی شہادت (material evidence) قائم ہو، اور کشتی نوح بمعنی دابہ غالباً اسی قسم کی ایک مادی شہادت کا درجہ رکھتی ہے۔ موجودہ زمانے میں کشتی نوح ظاہر ہو کر بزبانِ حال یہ کہہ رہی ہے کہ اے انسانو، تم نے پیغمبر نوح اور ان کے خدائی مشن کا انکار کیا۔ تم نے اپنی تاریخ سے اُن کو اس طرح حذف کیا جیسے کہ کبھی ان کا وجود ہی اب عیانًا وہ تمھارے سامنے اس طرح ظاہر ہو چکی ہے کہ اس کا انکار تمھارے لیے ممکن نہیں۔ شہادت کا معاملہ اختیاری اعتراف کی حیثیت رکھتا تھا، مگر مادی شہادت کا معاملہ جبری اعتراف کا درجہ رکھتا اب انسان کے لیے اس بات کا کوئی منطقی جواز باقی نہیں رہا کہ وہ پیغمبر اور پیغمبرانہ مشن کے معاملے میں انکار کا طریقہ اختیار کرے۔

موجودہ زمانے میں کشتی نوح کا ظہور دین خداوندی کے لیے ایک عظیم تاریخی دلیل کی حیثیت رکھتا ہے، مگر عجیب بات ہے کہ اس معاملے میں مسلمانوں کا کوئی حصہ نہیں۔ یہ واقعہ تمام تر مسیحی علما اور یہودی علما کی تحقیقات کے ذریعے انسانی علم میں آیا۔ کیوں کہ قرآن کے علاوہ، کشتی نوح کا ذکر

بائبل (Old Testament) میں موجود تھا، اس لیے وہ مسیحی علما اور یہودی علما کا موضوع تحقیق بن انھوں نے جدید ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے اس کی تحقیق کی اور پھر اپنے نتائج تحقیق کو شائع کرکے اس کو عام کر دیا۔

Printed page