Al-Risala · July 2013

کنڈیشننگ کی حالت

Al-Risala, July 2013

By Maulana Wahiduddin Khan

یہی وہ حالت ہے جس کا ذکر یہود کے حوالے سے قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: وَقَالُوا قُلُوبُنَا غُلْفٌ بَلْ لَّعَنَهُمُ اللَّهُ بِكُفْرِهِمْ فَقَلِيلًا مَّا يُؤْمِنُونَ (2:88) یعنی وہ کہتے ہیں کہ ہمارے دلوں کے اوپر غلاف ہے۔ نہیں، بلکہ اللہ نے ان کے کفر کی وجہ سے ان پر لعنت کردی ہے، اس لیے وہ بہت کم ایمان لاتے ہیں۔

قرآن کی اس آیت میں غُلف کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ عبداللہ بن عباس نے اس کی تشریح ان الفاظ میں کی ہے: أي قلوبنا ممتلئة علما، لا تحتاج إلى علم محمد ولا غيره (القرطبی 2/25)

یعنی ہمارے دل علم سے بھرے ہوئے ہیں، وہ محمد یا کسی اور کے علم کے محتاج نہیں۔ لعنت کوئی پراسرار چیز نہیں، لعنت سے مراد شدید قسم کی کنڈیشننگ ہے جس کی ڈی کنڈیشننگ عام طور پر ممکن نہیں ہوتی۔ یہاں ”علم“ سے مراد معروف معنوں میں علم نہیں، بلکہ خود ساختہ تصورِ دین ہے۔ یہود کا یہ خود ساختہ دین اپنی حقیقت کے اعتبار سے، علم پر مبنی نہیں تھا، بلکہ وہ امانی (2:78) پر مبنی تھا۔ ٹھیک یہی حال موجودہ زمانے میں مسلم ملت کا ہوا ہے۔ وہ دین کے خود ساختہ ماڈل پر قائم ہیں۔ زمانہ گزرنے کے بعد وہ اپنے اس خود ساختہ ماڈل پر اتنے پختہ ہو چکے ہیں کہ اب وہ اُس پر نظر ثانی کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ پچھلی امتوں کے بارے میں قرآن میں یہ آیت آئی ہے: اَلَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَهُمْ وَكَانُوْا شِيَعًا ۖ كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُوْنَ (30:32) یعنی انھوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر لیا اور وہ بہت سے گروہ ہو گئے۔ ہر گروہ اپنے خود ساختہ طریقے پر نازاں ہے۔

یہی حال موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا ہوا ہے۔ وہ خود ساختہ تعبیرات کے مطابق، مختلف گروہوں میں بٹ گئے ہیں۔ یہ تمام گروہ خود ساختہ تصورِ دین پر قائم ہیں۔ لیکن لمبی مدت گزرنے کے بعد اب ہر گروہ کا ذہن اپنے ماڈل کے حق میں اتنا زیادہ پختہ ہو چکا ہے کہ اب وہ اس کی ضرورت نہیں سمجھتا کہ وہ اُس پر نظر ثانی کرے۔

Printed page