امتِ مسلمہ اور اس کے بعد
Al-Risala, July 2013
By Maulana Wahiduddin Khan
امتِ مسلمہ کے حال اور مستقبل کو سمجھنے کے لیے قرآن کے سورہ الانبیاء کی ان آیات کا مطالعہ کیجیے: وَحَرَامٌ عَلَى قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَهَا أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ ە حَتَّى إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ (21:95-96) یعنی جس بستی والوں کے لیے ہم نے ہلاکت مقرر کر دی ہے، اُن کے لیے حرام ہے کہ وہ رجوع کریں، یہاں تک کہ جب یاجوج اور ماجوج کھول دئے جائیں گے اور وہ نہایت تیزی کے ساتھ ہر بلندی سے نکل پڑیں گے۔
یہ قرآن کی دو آیتیں ہیں۔ دوسری آیت میں واضح طور پر مستقبل میں پیش آنے والے ایک واقعے کا ذکر ہے، یعنی یاجوج اور ماجوج کا ظہور۔ پہلی آیت میں اگرچہ استقبال کا صیغہ
استعمال نہیں ہوا ہے، لیکن اس سے مراد بھی مستقبل میں پیش آنے والا واقعہ ہے، یعنی یا جوج اور ماجوج کے ظہور سے فوراً پہلے کا واقعہ۔
اصل یہ ہے کہ پہلی آیت میں قرآن کے مخصوص اسلوب میں، امت مسلمہ کے مستقبل کا ذکر ہے۔ اس آیت میں دفع کا وہی قانون بیان کیا گیا ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا۔ یہاں حرام سے مراد امت کا ’غلف‘ کی حالت تک پہنچ جانا ہے، یعنی دورِ زوال کی حالت۔ اور ہلاک سے مراد یہ ہے کہ جب امت پر یہ حالت آئے گی تو اُس کو خدائی رول کے لیے رد کر دیا جائے گا۔ یہ فطرت کا ایک عام قانون ہے جو امت مسلمہ پر بھی لازماً آئے گا (لتتبعن سنن من كان قبلكم)، لیکن ایک فرق کے ساتھ، وہ یہ کہ امت یہود کو نظری اور عملی دونوں اعتبار سے رد کیا گیا تھا، لیکن امت مسلمہ کا رد کیا جانا صرف نظری اعتبار سے ہوگا، اس کے بعد بھی عملی طور پر موجودہ دنیا میں اُن کی حیثیت باقی رہے گی، کیوں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب کوئی اور نبی آنے والا نہیں جو دونوں اعتبار سے امت مسلمہ کے رد کیے جانے کا اعلان کر سکے۔ قرآن کی مذکورہ آیات میں صرف پہلی آیت امت مسلمہ کے بعد کے دور کے بارے میں جب کہ قانون فطرت کے مطابق، امت اپنے زوال کی آخری حد پر پہنچ چکی ہوگی۔ میں ہلاکت سے مراد معروف ہلاکت نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد وہی چیز ہے جس کو ذہنی جمود (intellectual stagnation) کہا جاتا ہے۔ آیت میں حرام سے مراد بھی معروف حرام نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد جمود کی وہ حالت ہے، جب کہ لوگوں کے اندر بے حسی کا وہ درجہ آجائے جس کو قرآن میں قساوت کہا گیا ہے، یعنی قبولیت (receptivity) کے مادے کا ختم ہو جانا۔
اس معاملے کی مثال فطرت میں پتھر اور زرخیز زمین (soil) کی صورت میں رکھ دی گئی ہے۔ پتھر پر پانی ڈالا جائے تو پتھر اس کو قبول نہیں کرے گا۔ پانی اس کے اوپر سے بہہ جائے گا۔ برعکس، زرخیز مٹی میں پانی ڈالا جائے تو وہ اس کو بھر پور طور پر قبول کر لیتی ہے۔ اسی طرح جب کوئی قوم زندہ ہو تو اس کے اندر قبولیت کی صلاحیت بھر پور طور پر موجود ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، جب قوم میں جمود آجائے تو وہ قبولیت کی صلاحیت سے محروم ہو جاتی ہے۔
کسی امت کی یہ حالت کیوں ہوتی ہے۔ اس کا سبب صرف ایک ہے، اور وہ ہے فرضی یقین دور زوال میں یہ ہوتا ہے کہ امت حقیقتاً بے روح (spiritless) ہو جاتی ہے، لیکن ظاہری طور پر وہ ایک خود ساختہ دین (self-styled version of religion) پر قائم دھیرے دھیرے وہ اپنے اسی خود ساختہ دین پر اتنی پختہ ہو جاتی ہے کہ اس کے خلاف سوچنا اس کے لئے ناممکن ہو جاتا ہے۔ اس کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ حقیقی دین اس کے لیے اجنبی (غریب) بن جاتا ہے، خواہ اس کو کتنا ہی دلائل کے ساتھ پیش کیا گیا ہو۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسی امت کے اندر کوئی نیا فکری انقلاب (intellectual revolution) لانا نا ممکن ہو جاتا ہے۔ اس مرحلے پر پہنچ کر وہ تخلیقی فکر (creative thinking) سے محروم ہو جاتی ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو مذکورہ آیت میں ’أنهم لا يرجعون‘ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔