تائید دین کے چاراہم کام
Al-Risala, July 2013, p. 29
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے: مثل أمتي مثل المطر، لا يدرى أوله خير، أم آخره (سنن الترمذي، رقم الحديث: 2869) یعنی میری امت کی مثال بارش جیسی ہے، نہیں معلوم کہ اس کا اول زیادہ بہتر ہے یا اس کا آخر زیادہ بہتر ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، بارش کا اول اور آخر دونوں اپنے اپنے لحاظ سے بہتر ہوتا ہے۔ میں امت کے دو دور کا ذکر ہے ــــ ابتدائی دور اور آخری دور، ایک پہلو سے امت کا ابتدائی دور بہتر ہے اور دوسرے پہلو سے اس کا آخری دور بہتر ہے۔
اس حدیث رسول میں دراصل امت کے بارے میں ایک پیشین گوئی کی گئی ہے جو کہ اب واقعہ بن چکی ہے۔ امت کے پہلے دور میں ایک طرف، دین کو محفوظ دین کی حیثیت دی گئی ہے اور دوسری طرف، اس دور میں ایک ایسا انقلاب برپا ہوا جس نے انسانی تاریخ میں ایک نیا پر اس جاری کر دیا۔ اس تاریخی پر اس کا آغاز امت مسلمہ نے کیا تھا، لیکن بعد کے زمانے میں یہ رول مشرق سے مغرب کی طرف
منتقل ہو گیا۔ اس عمل (process) کے تکمیلی مرحلے میں جو چیزیں مطلوب تھیں، وہ زیادہ تر اہل مغرب کے ذریعے انجام پائیں۔ اس تاریخی عمل کا آغاز ساتویں اور آٹھویں صدی عیسوی میں امت مسلمہ کے اس کے بعد اہل مغرب نے اس معاملے میں تائیدی رول (supporting role) انجام دیا، جس کی تکمیل انیسویں اور بیسویں صدی میں ہوئی۔