چار پہلو
Al-Risala, July 2013
By Maulana Wahiduddin Khan
اس معاملے میں اہل مغرب کے ذریعے جو کام انجام پایا، اس کے چار خاص پہلو ہیں اور ان چاروں پہلوؤں کا اشارہ قرآن میں موجود ہے۔ ان میں سے ایک کام وہ ہے جس کا ذکر بطور پیشین گوئی قرآن کی اس آیت میں کیا گیا ہے: سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (41:53) یعنی عنقریب ہم اُن کو آفاق میں اور نفس میں اپنی نشانیاں دکھائیں گے، یہاں تک کہ اُن پر یہ بات کھل جائے گی کہ یہ قرآن حق ہے۔
قرآن کی اس آیت میں جس پیشین گوئی کا ذکر ہے، اس کا پس منظر یہ ہے کہ اس دنیا میں معرفت اور ایمانی رزق کے بے شمار آئٹم ہیں، جن کو قرآن میں آیات اور آلاء اللہ اور کلمات اللہ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اس قسم کی چیزوں کا ذکر قرآن اور حدیث میں ابتدائی طور پر موجود ہے، لیکن ان کی تفصیلات کو جاننا سائنٹفک مطالعے پر موقوف تھا جس کو قرآن میں زمین و آسمان پر تفکر سے تعبیر کیا گیا ہے۔ سائنسی مطالعے کے اس کام کا آغاز امت مسلمہ کے افراد نے کیا تھا، لیکن اس کی تکمیل تمام تر اہل مغرب کے ذریعے انجام پائی۔ یہی وہ کام ہے جس کو موجودہ زمانے میں، ماڈرن سائنس (modern science) کہا جاتا ہے۔ ماڈرن سائنس کا نظریاتی حصہ پورا کا پورا قرآن کی اس آیت کی تفصیل ہے۔ قدیم زمانے میں آیاتِ اللہ کا علم صرف عینی مشاہدے کے ذریعے ممکن ہوتا تھا، اہل مغرب نے اس کو وسیع کرکے دور بینی مشاہدہ اور خوردبینی مشاہدے تک پہنچادیا۔ موجودہ زمانے کی نظریاتی سائنس نے فطرت (nature) کے بارے میں جو حقیقتیں دریافت کی ہیں، اُن کے ذریعے سے پہلی بار یہ ممکن ہوا کہ انسان تخلیق میں خالق کو دریافت کر سکے، وہ
معرفت حق کے اُن اعلیٰ درجات تک پہنچ سکے جو قدیم روایتی دور میں انسان کے لیے ممکن نہ تھا۔ اس معاملے میں اہل مغرب کی دوسری دین یہ ہے کہ انھوں نے شکر خداوندی کے نئے بے شمار آئٹم دریافت کیے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ انعامات کو شعوری طور پر جانے اور اُن کے لیے منعم کا اعتراف کرے۔ اسی اعتراف کا مذہبی نام شکر ہے۔ شکر کی حیثیت دین کے اہم ترین مطلوب کی ہے، لیکن اعلیٰ شکر، انعامات کی اعلیٰ معرفت ہی سے ہوسکتا ہے، اور یہ وہ کام ہے جو تاریخ میں پہلی بار اہل مغرب کے ذریعے انجام پایا۔
اس سلسلے میں قرآن کی ایک متعلق آیت یہ ہے: وَآتَاكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَظَلُومٌ كَفَّارٌ (34: 14) یعنی خدا نے تم کو وہ سب کچھ دے دیا جو تم نے اُس سے مانگا۔ اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گنو تو تم گن نہیں سکتے۔ انسان بہت ظالم اور بہت ناشکر گزار ہے۔
خالق نے انسان کو اس کی ضرورت کی تمام چیزیں بطور عطیہ دے دی ہیں۔ یہ عطیات سب کے سب خدائی انعامات ہیں۔ ان عطیات کی واقفیت سے اللہ کے لیے بے پناہ شکر پیدا ہوتا ہے۔ یہ عطیات یا نعمتیں بے شمار ہیں، مگر قدیم زمانے میں انسان ان میں سے بہت کم عطیات کو جانتا تھا۔ ایسی حالت میں وہ بڑا شکر نہیں کر سکتا تھا۔ جدید مغربی سائنس نے فطرت میں چھپے ہوئے بے شمار نئے عطیات کو دریافت کیا اور جدید صنعت اور رٹکنالوجی کے ذریعے اس کو عام انسان کے لیے قابلِ حصول بنا دیا۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جو اہل مغرب کے ذریعے پہلی بار انجام پایا۔ طرح یہ ممکن ہو گیا کہ انسان اپنے رب کے لیے زیادہ بڑا شکر ادا کر سکے۔ اہل مغرب کا یہ عطیہ بلا شبہ تائیدِ دین کی ایک اعلیٰ مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔
اس سلسلے میں اہل مغرب کی تیسری دین وہ ہے جس کو عالمی مواصلات کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب تھا کہ اس نے اپنا پیغام جو پیغمبروں کے ذریعے بھیجا ہے، وہ تمام اہل عالم اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: تَبٰرَکَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ
لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِیرًا (25:1) یعنی بہت بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل کیا، تاکہ وہ تمام عالم کے لیے آگاہ کرنے والا ہو۔
یہی بات حدیث میں پیشین گوئی کی زبان میں اس طرح آئی ہے: لا يبقى على ظهر الأرض بيت مدر ولا وبر إلا أدخله الله كلمة الإسلام (مسند أحمد، رقم الحديث: 24215) یعنی زمین کی سطح پر کوئی گھر یا خیمہ نہیں بچے گا، مگر اللہ اس میں اسلام کا کلمہ داخل کر دے گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کو یہ مطلوب تھا کہ اُس نے پیغمبروں کے ذریعے جو ہدایت نامہ بھیجا ہے، وہ دنیا میں بسنے والے تمام انسانوں تک پہنچے۔ مگر قدیم زمانے میں یہ عالمی پیغام رسانی ممکن نہ تھی۔ زمانے میں دعوت الی اللہ کا کام عملاً صرف مقامی طور پر ہوا، وہ عالمی طور پر انجام نہ پا سکا۔ موجودہ زمانے میں پہلی بار وہ ذرائع اور وسائل وجود میں آئے ہیں جن کو استعمال کر کے کرہ ارض کے ہر چھوٹے اور بڑے گھر میں اللہ کا پیغام پہنچ جائے، زمین پر بسنے والا کوئی بھی انسان اُس سے بے خبر نہ رہے۔ یہ ذرائع اور وسائل خالق نے فطرت (nature) کے اندر بڑے پیمانے پر رکھ دئے تھے، مگر قدیم زمانے میں ان ذرائع اور وسائل کو دریافت کرنا ممکن نہ ہو سکا۔ اہل مغرب نے پہلی بار ان کو دریافت کیا اور ان کو صنعتی مصنوعات (industrial products) کی صورت دے کر داعیوں اور مبلغوں کے لیے قابلِ حصول بنا دیا۔
4- قدیم زمانے میں اقوام کی تنظیم (international organisation) کا تصور نہ تھا۔ قدیم زمانے میں صرف سیاسی تنظیم (political organisation) کا تصور تھا، جو کسی بڑی سلطنت کے تحت بذریعہ طاقت قائم ہوتا تھا۔ اس تصور کے تحت قدیم زمانے میں وہ نظریہ وضع ہوا جس کو جنگ برائے امن (war for peace) کہا جاتا ہے۔ موجودہ زمانے میں پہلی بار یہ واقعہ پیش آیا ہے کہ اقتدار کے باہر اصول کی بنیاد پر قوموں کی تنظیم قائم کی جائے جو بین اقوامی معاملات میں اقتدار کے استعمال کے بغیر پر امن طور پر فیصلہ کن رول ادا کر سکے۔
قدیم زمانے میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ امن صرف سیاسی اقتدار کے ذریعے قائم ہوتا ہے۔
اس تصور کا نتیجہ یہ تھا کہ قدیم زمانے میں ہزاروں سال تک ساری دنیا میں جنگوں کا سلسلہ جاری رہا۔ طریقہ خدا کے تخلیقی منصوبے کے خلاف تھا۔ خدا کے تخلیقی منصوبے کا تقاضا ہے کہ قوموں کے درمیان پر امن تعلقات ہوں ، تاکہ دعوت اور تعلیم جیسا تعمیری کام کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رہے۔ لیے اسلام میں یہ مطلوب تھا کہ بین اقوامی امن کو سیاسی اقتدار سے الگ کر دیا جائے ۔ بین اقوامی امن کو معاہدات کی بنیاد پر قائم کیا جائے ، نہ کہ سیاسی اقتدار کی بنیاد پر۔
پیغمبرِ اسلام اور آپ کے اصحاب کے زمانے میں جو انقلاب آیا ، اُس کا ایک پہلو یہ بھی اُس زمانے میں پہلی بار ایسا ہوا کہ معاہدات کی بنیاد پر بین الاقوامی امن کا قیام عمل میں آیا۔ یہ معاہدہ حدیبیہ تھا جو 628 عیسوی میں تشکیل پایا۔ اس معاہدہ امن میں براہ راست طور پر اہل مدینہ اور اہل مکہ شامل تھے، لیکن بالواسطہ طور پر یہودی بھی اس میں شامل تھے جو کہ اُس وقت مدینہ کی آبادی کا تقریباً نصف حصہ تھے۔ تاریخ کا یہ پہلا بین الاقوامی معاہدہ امن تھا جو اس لیے کیا گیا کہ قومی تعلقات کو جنگ کے بجائے امن کی بنیاد پر قائم کیا جائے ۔
معاہدہ حدیبیہ صرف ایک واحد واقعہ نہ تھا، وہ تاریخ میں ایک نئے دور امن کا آغاز تھا۔ بعد تاریخ میں ایک نیا عمل شروع ہوا، جو سفر کرتے ہوئے یورپ تک پہنچا۔ چناں چہ 1920 میں جنیوا (Switzerland) میں ایک بین اقوامی ادارہ قائم کیا گیا جس کا نام جمعیت اقوام (League of Nations) اس جمعیت میں کُل 63 قو میں شامل تھیں، البتہ امریکا اس میں شامل نہ تھا۔ یہ تنظیم مستقل ثابت نہ ہوسکی، یہاں تک کہ 1946 میں باقاعدہ طور پر اس کے خاتمے کا اعلان کر دیا گیا۔ اس کے بعد اس مقصد کے لیے 1945 میں نئی اور زیادہ بڑی تنظیم قائم ہوئی۔ اس کا نام تنظیم اقوام متحدہ (United Nations Organisation) تھا۔ اس دوسری تنظیم میں 193 ممالک اس کا صدر دفتر نیو یارک (امریکا) میں ہے۔ یہ ایک غیر سیاسی تنظیم ہے۔ وہ امن کے میدان میں زیادہ موثر رول ادا کر رہی ہے۔
یہ واقعہ بھی انھیں واقعات میں سے ہے جس کا ذکر ’تائید دین‘ کے طور پر کیا گیا ہے ، اس واقعے کو
دوسرے الفاظ میں، دو شمشیر کو ختم کر کے عملاً دورِ امن کو لانا کہا جا سکتا ہے۔ بین اقوامی تعلقات میں یہ تبدیلی عین اسلام کے حق میں ہے۔ یہ واقعہ اُس تاریخی عمل (historical process) کا نقطہ انتہا ہے جس کا آغاز ساتویں صدی کے ربع اول میں معاہدہ حدیبیہ کے ذریعے کیا گیا تھا۔ قدیم زمانے میں جنگ اور امن کا کوئی متفقہ اصول نہ تھا۔ جو لوگ سیاسی اقتدار پر قابض ہوتے تھے، وہی جنگ اور امن کا فیصلہ کرتے تھے۔ قوموں کے درمیان معاہداتی تنظیم کے مذکورہ طریقے نے اس صورتِ حال کو ختم کر دیا۔ اب یہ ممکن ہو گیا کہ باہمی مسائل کا فیصلہ بین اقوامی گفت وشنید (international negotiation) کے ذریعے طے کیا جائے اور باہمی اختلافات کے باوجود عالمی امن کو برقرار رکھا جائے ۔ اس طرح یہ ممکن ہو گیا کہ ہر حال میں تعمیری سرگرمیاں کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رہیں۔
جو لوگ چیزوں کو معیار کے پیمانہ (ideal yardstick) سے ناپتے ہیں، وہ ان اداروں پر تنقید کرتے رہتے ہیں۔ پہلے وہ جمعیتِ اقوام کے ناقد تھے، اب وہ اقوامِ متحدہ کے ناقد بنے ہوئے ہیں، مگر یہ صرف بے دانشی کی بات ہے۔ یہ لوگ معیاری امن (ideal peace) کی باتیں کرتے ہیں، مگر اس دنیا میں معیاری امن کا حصول سرے سے ممکن ہی نہیں۔ اس دنیا میں کوئی چیز صرف خدا کے تخلیقی منصوبے کے تحت ہی حاصل کی جاسکتی ہے، اور یہ ایک حقیقت ہے کہ خدا کے تخلیقی منصوبے کے تحت اس دنیا میں صرف قابلِ عمل امن (workable peace) کا حصول ممکن ہے، اور بلاشبہ اقوامِ متحدہ نے قابلِ عمل امن کے حصول کو ممکن بنا دیا ہے۔ خدا کے منصوبے کے مطابق ، اس دنیا میں انسان کو کامل آزادی دی گئی ہے۔ آزادی کو منسوخ کرنا کسی کے لیے بھی ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس دنیا میں کوئی چیز معیاری درجے میں نہیں، بلکہ صرف قابلِ عمل (workable) درجے میں حاصل ہوتی ہے، خواہ وہ امن اور عدل ہو یا اور کوئی چیز۔
قرآن کی سورہ الانفال میں رسول اور اصحابِ رسول کو ایک حکم ان الفاظ میں
دیا گیا تھا: وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ (8:39) یعنی تم ان سے قتال کرو، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب کا سب، اللہ کے لیے ہو جائے۔ اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے، وہ قرآن کے مخصوص اسلوب میں یہی بات ہے۔
دوسرے الفاظ میں، اس حکم کا مطلب یہ ہے کہ اپنی ساری طاقت استعمال کر کے تاریخ میں ایک نیا پر اسس جاری کرو جس کے نتیجے میں ایسا ہو کہ دنیا میں جنگ کی حالت نہ رہے اور امن کی حالت قائم ہو جائے۔ قرآن کی یہ آیت ایک دور کو ختم کرنے اور دوسرے دور کا آغاز کرنے کے معنی میں ہے، نہ کہ کسی وقتی کارروائی کے معنی میں۔