استبدال قوم کا قانون
Al-Risala, July 2013
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں ایک خدائی قانون کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَإِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلُ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُمْ (47:38) یعنی اگر تم پھر جاؤ تو اللہ تمھاری جگہ دوسری قوم کو لے کر آئے گا، پھر وہ تم جیسے نہ ہوں گے۔
قرآن کی اس آیت میں جس استبدال (replacement) کا ذکر ہے، اس کے دو پہلو ایک پہلو سے اس کا تعلق مسلمانوں سے ہے۔ اگر مسلمانوں کے اندر عمومی طور پر زوال اور فساد آجائے تو اللہ تعالی کو یہ مطلوب ہوگا کہ یہ صورت حال بدلے اور ایسے اہل ایمان پیدا ہوں جو صحیح معنوں میں دین خداوندی پر قائم ہوں۔
لیکن اس استبدال کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بگڑی ہوئی امت اگر ایک بلین کی تعداد میں ہے تو اس کی جگہ ایک بلین ہی کی تعداد میں دوسری صالح امت پیدا کر دی جائے۔ یہ استبدال ہمیشہ افراد کے اعتبار سے ہوتا ہے، نہ کہ مجموعی طور پر ایک پوری امت کے اعتبار سے۔
اس استبدال کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا، یعنی اظہار دین کے اجزا کو دریافت کرنے میں اگر امت مسلمہ نا کام ہو جائے تو اللہ تعالی سیکولر طبقے میں سے ایسے مؤیدین کو اٹھائے گا جو اس کام کو انجام دیں اور معرفت اور شکر اور دعوت کے اعلی درجات تک پہنچنے کو ممکن بنا دیں۔