خلاصہ کلام
Al-Risala, July 2013
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان کے بارے میں اللہ کا تخلیقی منصوبہ (creation plan) یہ ہے کہ انسان کو آزادی دے کر اس کو یہ موقع دیا جائے کہ وہ خود دریافت کردہ معرفت self-discovered) (realisation پر کھڑا ہواور کامل اختیار رکھتے ہوئے اللہ کے تخلیقی منصوبے کے تحت زندگی گزارے۔ جولوگ اس امتحان میں کامیاب ہوں، وہی وہ لوگ ہیں جو آخرت کی ابدی جنتوں میں داخل کیے جائیں اللہ نے نبیوں کو اسی لیے بھیجا کہ وہ انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے اس کی رہنمائی کریں۔ اس رہنمائی کے مختلف مراحل ہیں، جو کہ قرآن وحدیث کے مطالعے سے معلوم ہوتے ہیں۔ حضرت ابراہیم کا زمانہ تقریباً چار ہزار سال پہلے کا زمانہ ہے۔ حضرت ابراہیم کے زمانے تک جو پیغمبر آئے، وہ انفرادی سطح پر انسان کو رہنمائی دیتے رہے۔ حضرت ابراہیم کے بعد ایک نئی منصوبہ بندی کی گئی، یعنی ایک قوم وجود میں لانا اور تاریخ میں ایک انقلابی عمل (revolutionary process) جاری کرنا، جو بالآخر اللہ کے دین کے کامل اظہار تک پہنچ جائے۔
یہ نیا منصوبہ حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل سے شروع ہوا۔ اس کے بعد رسول اور اصحاب رسول کے ذریعے اس کو طاقت و تحریک (boost) ملی۔ اس کے بعد امت مسلمہ کی حکومتوں کا اس دور اقتدار میں خدا کا دین اصولی اور نظریاتی طور پر پوری طرح محفوظ ہو گیا۔ اسی کے ساتھ تاریخ میں ایک نیا عمل جاری ہوا۔
اس آخری دور میں اہل مغرب نے بالواسطہ طور پر تائید کا رول ادا کیا۔ انھوں نے فطرت کے قوانین کو دریافت کرکے اس بات کو ممکن بنا دیا کہ خدا کے دین کو انسان کے مسلمہ علمی معیار پر مدلل کیا جا سکے۔ عطیاتِ الہی کے چھپے ہوئے اجزا کو دریافت کرکے انھوں نے اس بات کو ممکن بنایا کہ انسان اعلیٰ عطیاتِ الہی کا تجربہ کرے اور اپنے رب کے لیے اعلیٰ شکر کا رسپانس دے سکے۔ اس طرح اہل مغرب نے یہ کیا کہ انھوں نے فطرت کے اندر چھپے ہوئے امکانات کو دریافت کرکے جدید مواصلات تک دست رس حاصل کی۔ یہ ممکن ہو گیا کہ اللہ کے پیغام کو عالمی سطح پر ہر عورت اور مرد تک پہنچایا جا سکے۔ اسی طرح اہل مغرب نے
انسانی تاریخ کو دورِ سیاست سے نکال کر دورِ تنظیم (age of organization) تک پہنچایا۔ یہ ممکن ہو گیا کہ سیاسی طاقت کے بغیر آزادانہ طور پر تمام دینی تقاضے انجام دئے جا سکیں۔ جہاں تک حفاظتِ دین کا تعلق ہے، اس کو تمام تر امتِ مسلمہ نے انجام دیا۔ اظہارِ دین کے کام کا آغاز بھی امتِ مسلمہ کے ذریعے ہوا، لیکن کامل اظہار کے لیے جو وسائل درکار تھے، وہ قدیم زمانے میں موجود نہ تھے۔ اس میدان میں بھی امتِ مسلمہ نے ابتدائی کام کیا، لیکن اس کو اتمام تک پہنچانا باقی اظہارِ دین کا یہ تکمیلی مرحلہ اہلِ مغرب کی جدید دریافتوں کے ذریعے انجام پایا۔ معاملے میں اہلِ مغرب کا حصۂ تائید با اعتبارِ وسائل ہے، تاہم تائید کا یہ واقعہ اتفاقاً پیش نہیں آیا، بلکہ وہ اُس تاریخی عمل (historical process) کا نقطہ انتہا (culmination) تھا جو امتِ مسلمہ کے ذریعے ساتویں صدی عیسوی میں شروع ہوا تھا۔ (1 دسمبر 2012)