اسٹریس ایک نعمت
Al-Risala, July 2013
By Maulana Wahiduddin Khan
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اسٹریس (stress) ایک برائی (evil) ہے۔ وہ انسان کی قوت کارکردگی کو گھٹا دینے والا ہے، وہ انسان کو ذہنی سکون سے محروم کر دیتا ہے، حتیٰ کہ اسٹریس ایک ایسی برائی ہے جو آدمی کی عمر کو کم کر دینے والی ہے۔ اس تصور کے تحت ساری دنیا میں ایک نئی انڈسٹری کھل گئی ہے۔ اس کو ڈی اسٹریسنگ (de-stressing) کہا جاتا ہے۔ مگر حال میں امریکا میں اس موضوع پر ایک رسرچ ہوئی ہے۔ اس سے ثابت ہوا ہے کہ اسٹریس کوئی برائی نہیں ہے، بلکہ اسٹریس کسی انسان کے لیے ذہنی ارتقا کا ذریعہ ہے: Stress primes the brain for improved performance and optimal alertness. دنیا میں مختلف قسم کے مسائل ہیں۔ یہی مسائل انسان کے لیے اسٹریس یا ٹینشن کا ذریعہ بنتے ہیں۔ فلاسفہ نے ان مسائل کو لے کر ایک نظریہ بنایا جس کو وہ پرابلم آف اول (problem of evil) ان کے نزدیک، یہ مسائل (problems) اس بات کا ثبوت ہیں کہ اس دنیا کا کوئی خالق نہیں، اگر اس دنیا کا کوئی خالق ہوتا تو وہ دنیا کو پرفیکٹ انداز میں بناتا اور پھر ہم کو رہنے کے لیے ایک پرابلم فری دنیا مل جاتی۔ مگر تحقیقات نے بتایا کہ دنیا میں مسائل کا ہونا ایک نعمت ہے، کیوں کہ یہی مسائل ذہنی ارتقا کا ذریعہ بنتے ہیں، یہی مسائل دماغ کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کو انفولڈ کرتے ہیں۔ Being overworked and stressed may have a positive side, say scientists who found short-lived stress primes the brain for improved performance and optimal alertness. Researchers from University of California, Berkeley uncovered exactly how acute stress, short-lived, not chronic, primes the brain for improved performance. "You always think about stress as a really bad thing, but it's not. Some amounts of stress are good to push you just to the level of optimal alertness, behavioural and cognitive performance", said Daniela Kaufer, associate professor of integrative biology at the UC Berkeley. (The Times of India, New Delhi, April 18, 2013, p. 19)
سوال و جواب 2013ء کے ماہنامہ دارالعلوم کے صفر کے اسٹاٹسٹکس ایک طرف، عرض ہے کہ آپ نے ماہ نامہ الرسالہ مارچ 2013 کے شمارے کے ٹائٹل پر ایک عبارت تحریر فرمائی ہے، جو اس طرح ہے: "چھوٹوں کو عزت دینا اخلاص کی پہچان ہے اور بڑوں کو عزت دینا منافقت کی پہچان۔ " میں اس عبارت کو سمجھنے سے قاصر ہوں۔ آپ نے بڑوں کو عزت دینے کو منافقت سے تعبیر کیا ہے، جب کہ احادیث سے ثابت ہے کہ بڑوں کو عزت دینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے۔ کی میری ہے، یا یہ کہ مدعی یہ کہہ رہا ہے کہ جس کی ورث میں یہ از راه کرم، اس عبارت کی وضاحت فرمائیں۔ (فیصل احمد، کشمیر)
الرسائل کے ٹائٹل پر چھپنے والا قانونِ موجودہ زمانہ کے تناسخ الرسالہ کے ٹائٹل پر چھپنے والا یہ قول موجودہ زمانے کی نسبت سے ہے۔ اس عبارت کو اگر آپ اس اضافے کے ساتھ پڑھیں کہ موجودہ زمانے میں یہ ایک عام بات ہے کہ لوگ چھوٹے (کم حیثیت کے ) لوگوں کو عزت نہیں دیتے اور وہ بڑوں ( زیادہ حیثیت والوں ) کو عزت دیتے ہیں، تو اس قول کا مطلب بالکل واضح ہو جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی اخلاقیات کے مطابق ، چھوٹوں کو عزت دینا اخلاص کی پہچان ہے اور بڑوں کو عزت دینا منافقت کی پہچان۔
الرسالہ کے اس قول میں ” چھوٹوں “ سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو معمولی درجے سے تعلق رکھنے والا سمجھا جاتا ہے اور ”بڑوں “ سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو اعلی درجے سے تعلق رکھنے والا سمجھا جاتا ہے۔ مذکورہ حدیث ( لیس منا من لم يرحم صغيرنا ولم يوقر كبيرنا ) سے الرسالہ کے اس قول کا کوئی مذکورہ حدیثِ رسول دوسرے سیاق میں آئی ہے اور الرسالہ کا یہ قول دوسرے سیاق دونوں کا سیاق (context) بالکل الگ ہے۔