خبر نامه اسلامی مرکز - 223
Al-Risala, July 2013
By Maulana Wahiduddin Khan
1- سہارن پور (یوپی) میں 20 مارچ 2013 کو ایک احتجاجی جلوس کو روکنے کے لیے مقامی پولیس انتظامیہ کے لوگ تعینات تھے۔ اس موقع پر سہارن پور ٹیم کے ممبران نے انتظامیہ کے لوگوں سے مل کر اُن کو دعوتی لٹریچر دیا۔ 2- مقامی انتظامیہ اور نئی دہلی کے اسکارٹ ہارٹ انسٹی ٹیوٹ کے ماہرین کی ٹیم کے ساتھ مل کر نیشنل میڈیکل کالج کی ٹیم نے 23 مارچ 2013 کو سہارن پور شہر میں طبی معائنے کا ایک کیمپ لگایا۔ اس موقع پر ٹیم کی طرف سے تمام ڈاکٹروں، وغیرہ کو قرآن کا ترجمہ اور دیگر دعوتی لٹریچر دیا گیا۔
3- ہوٹل رائل ریزیڈنسی (سہارن پور) میں 24 مارچ 2013 کو ایک پروگرام ہوا۔ اس موقع پر ہمارے ساتھیوں نے اس میں شرکت کی اور حاضرین کو خاص طور پر، چیف جسٹس آئی ایم قدوسی کو دعوتی لٹریچر دیا۔ 4- پیس ہال (سہارن پور) میں 28 مارچ 2013 کو ایک دعوتی پروگرام ہوا۔ اس موقع پر، دوسرے لوگوں کے علاوہ، جسٹس قدوسی، ڈاکٹر وید پرکاش تیاگی (چیرمین سی سی آئی ایم)، ڈاکٹر انور سعیدی اور مسٹر کرن سنگھ شریک پروگرام کے خاتمے پر تمام حاضرین کو دعوتی لٹریچر دیا گیا۔
5- رڑکی (اتر اکھنڈ) اور سہارن پور میں مارچ اور اپریل 2013 کے دوران شادی کی کئی تقریبات ہوئیں، ہمارے ساتھیوں نے یہاں شرکت کے دوران حاضرین کو قرآن کا ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیا۔ 6- نیشنل میڈیکل کالج (سہارن پور) میں 7 اپریل 2013 کو ڈاکٹر ہیپی مینس ڈے کے موقع پر ایک بڑا اس میں دوسرے لوگوں کے علاوہ، ڈاکٹر سی بی ترپاٹھی (اے ڈی ایم ای)، ڈاکٹر آر پی شرما (سی ایم ایس) اور ڈاکٹر شلبھ جین جیسے لوگوں نے شرکت کی۔ یہاں تمام حاضرین کو قرآن کا ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیا گیا۔ 7- برطانیہ (Earls Court) میں 12 اپریل سے یکم مئی 2013 کے دوران لندن بک فیر ہوا۔ اس میں دنیا بھر کے پرنٹرز اور پبلشرز نے شرکت کی۔ یہاں گڈ ورڈ بکس (نئی دہلی) نے بھی اپنا اسٹال لگایا۔ اسٹال کا انتظام سی پی ایس دعوہ فیلڈ ٹیم (DFT) کے ہیڈ مسٹر خرم قریشی (پائلٹ) نے سنبھالا۔ یہاں سے بڑی تعداد میں زائرین نے قرآن کے انگریزی ترجمے حاصل کیے۔ مسٹر خرم قریشی نے لندن کے اس سفر کو دعوتی مقصد کے لیے بھر پور استعمال کیا۔ سفر کے دوران انھوں نے لندن کی مختلف مساجد، اداروں اور سنٹرز کا دورہ کیا۔ مثلاً لندن سنٹرل ماسک، ایسٹ لندن ماسک، مسلم کونسل آف برطانیہ، اسلامک فاؤنڈیشن، برمنگھم سنٹرل ماسک اور گلاسکو اسلامک سنٹر، وغیرہ۔ ان اداروں کے ذمے داروں نے سی پی ایس (نئی دہلی) کے دعوتی کام کو بہت پسند کیا۔ انھوں نے ہمارے یہاں سے بڑے پیمانے پر قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر حاصل کیا ہے، تا کہ وہ اس کو غیر مسلموں تک پہنچا سکیں۔ اس سفر کے دوران لندن اور اطراف کے قارئین الرسالہ کے ساتھ میٹنگ بھی ہوئی اور وہاں دعوتی کام کو منظم کیا گیا۔ اس سفر کو زیادہ سے زیادہ بہتر بنانے میں جن حضرات نے تعاون کیا، ہم ان کے بے حد شکر گزار ہیں۔ غیر مقامی ساتھیوں میں سے خاص طور پر
خواجہ کلیم الدین (امریکہ)، حکیم انور عباس (دہلی)، وغیرہ۔ اسی طرح مقامی ساتھیوں میں سے مزحنا، مسٹر ثاقب، ڈاکٹر پرویز، ڈاکٹر ظہور، مسٹر شاہ نواز، چودھری سرور، مسٹر طارق ملا، مسٹر نجم الحسن، وغیرہ۔ 8- دوسرے مقامات کی طرح کلکتہ میں ہمارے ساتھی دعوہ ورک کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں 14 اپریل 2013 کو گرو دوارہ (ایم جی روڈ) میں ایک انٹر فیتھ میٹ (Interfaith Meet) ہوئی۔ اس پروگرام کا موضوع تھا۔ عالمی اخوت (Universal Brotherhood)۔ اس کی دعوت پر پیس اینڈ اسپرچول فورم (کلکتہ) ٹیم کے ساتھیوں نے اس میں شرکت کی اور ٹیم کے سربراہ مولانا محمد شفیق قاسمی (امام مسجد نا خدا) نے موضوع پر ایک تقریر کی۔ اس موقع پر اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ موجود تھے۔ مثلاً آرک بشپ مسٹر تھامس، کلکتہ پولیس کمشنر سر بنجیت، ڈپٹی پولیس کمشنر مسٹر ڈی پی سنگھ وغیرہ۔ یہاں تمام حاضرین کو دعوتی لٹریچر دیا گیا۔ لوگوں نے اس کو بے حد شوق سے قبول کیا۔ 9- ہالینڈ یونی ورسٹی کی ریسرچ اسکالر مز بیٹ ڈام (Bett Dam) اسلام اور طالبان کے موضوع پر ریسرچ کر رہی اس سلسلے میں آج کل وہ افغانستان میں مقیم ہیں۔ 16 اپریل 2013 کو انھوں نے صدر اسلامی مرکز سے اس موضوع پر انگریزی زبان میں ایک تفصیلی انٹرویو لیا۔ مزبیٹ ڈام کو پرافٹ آف پیس اور قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا گیا۔ 10- انڈیا اور انڈیا کے باہر مختلف مقامات پر ہمارے ساتھی دعوتی کام کر رہے ہیں۔ مثلاً ہمارے ایک ساتھی مولانا عبد الباسط عمری دوحہ (قطر) میں مقیم غیر مسلموں کے درمیان خاص طور پر دعوتی کام کرتے ہیں۔ سلسلے میں انھوں نے 18 اپریل 2013 کو اللولو ہائپر مارکیٹ (دوحہ) کے اسٹاف کو قرآن کا انگریزی ترجمہ بطور گفٹ پیش کیا۔ اسی طرح 20 اپریل 2013 کو انھوں نے وہاں کے مشہور شاپنگ سنٹر (الخو ر مال) میں لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی پمفلٹس دئے۔ اس کو لوگوں نے خوشی اور شکریہ کے ساتھ قبول کیا۔ 11- نئی دہلی کے دور درشن (DDN) چینل پر 19 اپریل 2013 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا گیا ہے۔ انٹرویو کا موضوع تھا— صدر اسلامی مرکز کی لائف اور ان کامشن۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ مسلمانوں کے پچھڑے پن کا سبب ہے جدید تعلیم میں ان کا آگے نہ بڑھنا۔ اسی طرح آخری نصیحت کے طور پر صدر اسلامی مرکز نے کہا کہ دیش کے نوجوانوں کے لیے میری آخری نصیحت صرف ایک ہے اور وہ ہے— ایجوکیشن۔ ملک کے نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ ہر چیز کو سکینڈری بنا کر ایجوکیشن میں آگے بڑھیں۔ 12- یکم مئی 2013 کو آن لائن جریدہ ’’خبر ساؤ تھ ایسٹ ایشیا‘‘ کے نمائندہ مسٹر الطاف احمد نے صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا۔ یہ انٹرویو اس ویب سائٹ پر دیکھا جا سکتا ہے: 13- مولانا آزاد انجینئر نگ کالج (پٹنہ، بہار) میں 6-4 مئی 2013 کے درمیان ایک سالانہ پروگرام ہوا۔ میں ہمارے ساتھی مسٹر دانیال اور ان کے دوسرے رفقا کے تعاون سے کالج میں ایک بک اسٹال لگایا گیا۔ اس موقع پر انٹریکشن کے دوران لوگوں کو اسلام کا تعارف کیا گیا اور یہاں کالج کے اسٹوڈنٹس اور پروفیسرز کو دعوتی لٹریچر دیا گیا۔
14- طرابلس (لیبیا) سے چار اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد ڈاکٹر عمر علی احمد، احمد مصطفیٰ المفتی، جمال السیفاو القبلی، محمد طارق بن الشارف الساسی— 24 مارچ 2013 کو دہلی آئے۔ وہ صدر اسلامی مرکز سے مل کر اُن کے دعوتی مشن کو مزید سمجھنا چاہتے تھے۔ اُنھوں نے یہ سفر صرف اسی مقصد کے لیے کیا تھا۔ یہ لوگ 1980 سے الرسالہ مشن سے وابستہ ہیں اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر عرب نوجوانوں خاص طور پر عرب مسیحیوں کے درمیان دعوتی کام کر رہے ہیں۔ صدر اسلامی مرکز کی کئی کتابوں کے عربی ایڈیشن شائع کیے ہیں۔ اُنھیں میں سے ایک کتاب وہ ہے جو جمعيۃ الرسالة (طرابلس) کے صدر شیخ محمد سليمان القائد نے مرتب کی تھی۔ اس کا نام یہ ہے: منهج الهداية (صفحات: 175)۔ کتاب کو گُڈ ورڈ بکس سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ یہ کتاب دعوتِ الی اللہ کے موضوع پر ہے۔ اس میں صدر اسلامی مرکز کے دعوتی افکار کا خلاصہ قرآن وسنت کے دلائل کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ اس موقع پر 30 مارچ 2013 کو نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سنٹر میں ڈنر کا ایک پروگرام ہوا۔ یہاں سی پی ایس کے ممبران کے علاوہ، لیبیا سے آئے ہوئے افراد نے بھی اپنے تاثرات بیان کیے۔ مثلاً ان کے نمائندہ مسٹر طارق الشارف بن الساسی نے کہا کہ ــــ اگرچہ ہم عرب تھے، مگر ہم نے اسلام کی حقیقت کو الرسالہ مطبوعات کے ذریعے ری ڈسکور کیا۔ ہم نے اسی لٹریچر کے ذریعہ دعوت اور معرفت کو اپنا نشانہ بنایا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر یہ لٹریچر ہم کو نہ ملا ہوتا تو ہم اب تک ہلاک ہو چکے ہوتے۔ اس موقع پر مولانا محمد ذکوان ندوی نے عربی زبان میں اپنے تاثرات بیان کیے۔ لیبیا کے یہ افراد 2 اپریل 2013 کو دہلی سے لیبیا کے لیے روانہ ہوئے۔ درمیان وہ شہر میں اپنے قیام کے دوران مسلسل طور پر سی پی ایس کے ممبران اور صدر اسلامی مرکز کے ساتھ میٹنگ اور انٹریکشن اُنھوں نے لیبیا اور اطراف میں منظم طور پر دعوت الی اللہ کا کام کرنے کے لیے طرابلس میں ایک ادارہ (جمعية الرسالة للتعريف بالإسلام) قائم کیا ہے۔ یہاں صدر اسلامی مرکز کی تمام مطبوعات دستیاب ہیں۔ 15- نئی دہلی کے سہ ماہی میگزین (God Bless Our Home) کے نمائندہ نے 8 مئی 2013 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ انٹرویو کا موضوع خدا اور اسپرچوئلٹی جیسے موضوعات تھے۔ انگریزی زبان میں تھا۔ یہ انٹرویو میگزین کے ویب سائٹ (www.godblessourhome.in) پر موجود ہے۔ 16- ٹائمس آف انڈیا (نئی دہلی) میں اسپیکنگ ٹری (The Speaking Tree) کے تحت صدر اسلامی مرکز کے مضامین مسلسل طور پر شائع ہو رہے ہیں۔ یہ تمام مضامین حسب ذیل ویب سائٹ پر موجود ہیں: 17- انگریزی ترجمہ قرآن اور الرسالہ مشن سے متعلق چند تاثرات یہاں درج کیے جاتے ہیں:
• Respected Maulana, I want to say that I was very confused before adopting your views, your real Islamic thought. Alhamdulillah, today I dont have any confusion, Some years ago, when I was in Nadwa, that time my mind was very suspicious towards everything even Islam, but now I am fully satisfied, there is no confusion, I respect all
سی پی ایس کے ممبر ثانی اثنین خاں کو 1 مئی 2013 کو اُن کی کتاب ’دی اسٹوری آف خدیجہ‘ (The Story of Khadija) کے لیے شارجہ چلڈرنس بک ایوارڈ (Sharjah Children's Book Award) سے نوازا گیا۔ یہ ایوارڈ 15,000 امارتی درہم کے نقد انعام پر مشتمل ہے۔ یہ کتاب ’دی اسٹوری آف خدیجہ‘ پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ کی زندگی پر مبنی ہے۔ اس کتاب کو گڈورڈبکس (نئی دہلی) نے خصوصی طور پر شائع کیا اس کتاب کا ترجمہ فرنچ، جرمن، ترکی، ملائے اور عربی زبان میں ہو چکا ہے۔ الرسالہ اور مطبوعات الرسالہ کے آن لائن مطالعے کے لیے ملاحظہ فرمائیں:
الرسالمہ بیک وقت اردو اور انگریزی میں شائع ہوتا ہے۔ الرسالمہ (اردو) کا مقصد مسلمانوں کی اصلاح اور ذہنی تعمیر ہے۔ (انگریزی) کا خاص مقصد یہ ہے کہ اسلام کی بے آمیز دعوت کو عام انسانوں تک پہنچایا جائے۔ الرسالمہ کے تعمیری اور دعوتی مشن کا تقاضا ہے کہ آپ نہ صرف اس کو خود پڑھیں بلکہ اس کی ایجنسی لے کر اس کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں دوسروں تک پہنچائیں۔ گویا الرسالمہ کے متوقع قارئین تک اس کو مسلسل پہنچانے کا ایک بہترین درمیانی وسیلہ ہے۔ الرسالمہ (اردو) کی ایجنسی لینا ملت کی ذہنی تعمیر میں حصہ لینا ہے جو آج ملت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ اسی طرح الرسالمہ (انگریزی) کی ایجنسی لینا اسلام کی عمومی دعوت کی مہم میں اپنے آپ کو شریک کرنا ہے جو کارِ نبوت ہے اور ملت کے اوپر سب سے بڑا فریضہ ہے۔