سورہ العصر
Al-Risala, August 2013
By Maulana Wahiduddin Khan
سورہ العصر قرآن کی ایک چھوٹی سورہ ہے۔ اس کی صرف تین آیتیں ہیں۔ اس کا متن اور ترجمہ یہ ہے: وَالْعَصْرِ اِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ اِلَّا الَّذِیْنَ اَمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ (103:1-3) یعنی زمانہ گواہ ہے کہ بے شک انسان گھاٹے میں ہے۔ سوا ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور عمل صالح کیا، اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی۔
قرآن کی یہ سورہ پورے قرآن کا خلاصہ ہے۔ امام شافعی نے کہا کہ: لو لم ينزل الله سوى هذه السورة، لكفت الناس - (صفوة التفاسير للصابوني: 3/60) یعنی اگر اللہ صرف اس سورہ کو اتارتا تو یہی ایک سورہ لوگوں کی رہنمائی کے لیے کافی ہو جاتی۔ یہ بات بلا شبہ درست ہے۔ لیکن سورہ العصر کا یہ فائدہ صرف اس کے ترجمے سے معلوم نہیں کیا یہ فائدہ صرف اُس وقت معلوم ہوتا ہے جب کہ اُس پر تدبر کیا جائے۔ قرآن کے تمام گہرے معانی صرف اُس انسان پر کھلتے ہیں جو تدبر کے شرائط کے ساتھ اس پر تدبر کرے۔ ’عصر‘ کا لفظی مطلب زمانہ ہے۔ لیکن یہ لفظ یہاں تاریخ کے معنی میں ہے، یعنی انسانی تاریخ اپنے نتیجے کے اعتبار سے اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ انسان گھاٹے میں ہے۔ محرومی کے معنی میں ہے۔ اس محرومی سے مستثنی صرف وہ لوگ ہیں جو ایمان اور عمل صالح کا ثبوت دیں، اور وہ تواصی بالحق اور تواصی بالصبر کی صفت اپنے اندر رکھتے ہوں ۔
اس آیت میں جس چیز کو ایمان اور عمل صالح اور حق وصبر کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، اُس کا مفہوم دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ وہ لوگ جو اللہ کے تخلیقی منصوبہ (creation plan) کو جانیں، وہ اس حقیقت کو اس طرح دریافت کریں کہ وہ اُن کے شعور کا حصہ بن جائے۔ اسی منصوبہ تخلیق کے مطابق، وہ اپنی شخصیت کی تعمیر کریں، وہ خود اپنی زندگی میں اس کو اختیار کریں
اور اِسی کے ساتھ وہ دوسروں کو بھی اِس کی تلقین کریں۔
مزید غور کیجئے تو معلوم ہوتا ہے کہ سورہ العصر کا پیغام یہ ہے کہ اللہ نے انسان کو امکانی طور پر ایک کامیاب انسان کی حیثیت سے پیدا کیا۔ لیکن تاریخ کا مشاہدہ بتاتا ہے کہ انسان نے اپنے حق میں اِس امکان سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ اِس کے برعکس، اِس نے یہ کیا کہ وہ گھاٹے اور محرومی کا کیس بن گیا۔ یہ واقعہ اللہ کی تقدیر کی بنا پر نہیں ہوا، بلکہ اِس لیے ہوا کہ انسان نے اللہ کے تخلیقی منصوبے کو نہیں سمجھا۔ اُس نے بطور خود اپنی زندگی کا نقشہ بنایا۔ اِس خود ساختہ رویے کا نتیجہ یہ ہوا کہ انسان محرومی کا شکار ہو کر رہ گیا۔
انسان سے یہ مطلوب تھا کہ وہ اپنی زندگی کا مقصد اللہ کے تخلیقی منصوبے کی روشنی میں متعین کرے ۔ اللہ جو اِس کا خالق اور مالک ہے، اُسی کو وہ اپنا سب سے بڑا کنسرن (sole concern) بنائے۔ وہ محبت اور خوف کے جذبات کو اللہ کے لیے خالص کر دے۔ صرف اللہ کا عبادت گزار بنے۔ اخلاقی معاملے میں وہ اللہ کے مقرر کیے ہوئے اصول کی پابندی وہ اپنی انفرادی زندگی اور اجتماعی زندگی کو اللہ کے بتائے ہوئے نقشے کے مطابق تشکیل وہ دنیا کو دار الامتحان سمجھے۔ وہ آخرت کی کامیابی کو اپنا نشانہ بنائے۔ وہ آخری حد تک جنت کا حریص ہو، وہ جہنم سے آخری حد تک ڈرنے والا بن جائے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ بیش تر لوگ اللہ کا مطلوب انسان بننے میں ناکام رہے۔ اُن کو یہ کرنا تھا کہ وہ دنیا سے رخصت ہوں تو وہ اللہ کے مطلوب انسان بن چکے ہوں، تاکہ موت کے بعد جب وہ اللہ کے سامنے کھڑے ہو تو اللہ اُنھیں رد نہ کرے، بلکہ وہ اُنھیں قبول کرلے۔ مگر بیش تر انسانوں کا کیس اِس معاملے میں، خسران کا کیس بن گیا۔
قرآن کی یہ سورہ جو ساتویں صدی عیسوی کے آغاز میں اتری، وہ گویا ایک انتباہ (warning) ہے۔ وہ انسان کو متنبہ کر رہی ہے کہ وہ اِس غلطی سے بچے ۔ وہ اُن خوش قسمت انسانوں میں سے بنے جن کے لیے آخرت میں جنت کے دروازے کھولے جائیں گے۔