انسان کی محرومی
Al-Risala, August 2013
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ الاعراف میں انسان کی حالت پر ایک تبصرہ ان الفاظ میں کیا گیا ہے: وَاۡتۡلُ عَلَیۡہِمۡ نَبَاَ الَّذِیۡ اٰتَیۡنٰہُ اٰیٰتِنَا فَانۡسَلَخَ مِنۡہَا فَاَتۡبَعَہُ الشَّیۡطٰنُ فَکَانَ مِنَ الۡغٰوِیۡنَ وَلَوۡ شِئۡنَا لَرَفَعۡنٰہُ بِہَا وَلَکِنَّہُ اَخۡلَدَ اِلٰی الۡاَرۡضِ وَاتَّبَعَہٗ ہَوٰہُ ۚ فَمَثَلُہٗ کَمَثَلِ الۡکَلۡبِ ٭ اِنۡ تَحۡمِلۡ عَلَیۡہِ یَلۡہَثۡ اَوۡ تۡتُرُکۡہُ یَلۡہَثۡ ؕ ذٰلِکَ مَثَلُ الۡقَوۡمِ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا ۪ فَاقۡصُصِ الۡقَصَصَ لَعَلَّہُمۡ یَتَفَکَّرُوۡنَ (7:175-176) یعنی اُن کو اس شخص کا حال سناؤ جس کو ہم نے اپنی نشانیاں دی تھیں تو وہ اُن سے نکل بھاگا۔ پس شیطان اس کے پیچھے لگ گیا اور وہ گمراہوں میں سے ہو گیا۔ اگر ہم چاہتے تو اس کو اُن نشانیوں کے ذریعے سے بلندی عطا کرتے، مگر وہ تو زمین کا ہورہا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کرنے لگا۔ پس اس کی مثال کتے کی سی ہے کہ اگر تو اُس پر بوجھ لادے تب بھی وہ ہانپے اور اگر چھوڑ دے تب بھی ہانپے۔ یہ مثال اُن لوگوں کی ہے جنھوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا۔ پس تم یہ احوال اُن کو سناؤ، تاکہ وہ غور کریں۔
شانِ نزول کی روایت کے مطابق، قرآن کی اس آیت میں ایک شخص کا قصہ بیان ہوا ہے۔ حضرت موسیٰ کے زمانے کا ایک بڑا اسرائیلی عالم تھا جس کا نام بلعم بن باعوراء بتایا گیا ہے۔ مگر قرآن کے اسلوب کے مطابق، یہاں انفرادی حوالہ (particular reference) میں ایک عمومی بات کہی گئی اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے علم میں ایسی نشانیاں (signs) آتی ہیں جو اس کو بتاتی ہیں کہ وہ اپنی زندگی کو اعلیٰ مقصد کے لیے استعمال کرے۔ لیکن شیطانی وسوسے کے زیر اثر وہ اپنی خواہشات سے مغلوب ہو جاتا ہے اور اُن چیزوں کو اپنا نشانہ بنا لیتا ہے جس کے لیے وہ پیدا نہیں کیا گیا تھا۔ قرآن کی اس آیت میں وہی بات کہی گئی ہے جو انسان کے حوالے سے دوسرے مقام پر ان الفاظ میں آئی ہے: کَلَّا بَلۡ تُحِبُّوۡنَ الۡعَاجِلَۃَ ۙ وَتَذَرُوۡنَ الۡاٰخِرَۃَ (75:20-21)۔ اصل یہ ہے کہ انسان کی ذات میں تخلیقی طور پر ایسی نشانیاں ہیں جو بتاتی ہیں کہ اُس کو ایک اعلیٰ مقصد کے لیے
پیدا کیا گیا ہے۔ وہ اعلیٰ مقصد یہ ہے کہ آدمی اپنے اندر ربانی شخصیت کی تعمیر کرے اور آخرت میں ابدی جنت کی صورت میں اس کا انعام پائے۔
مگر ’’آج‘‘ کے مواقع کو نظر انداز کرکے ’’کل‘‘ کے لیے اپنے آپ کو وقف کردینا انسان کو مشکل معلوم ہوتا ہے، اس لیے وہ ایسا کرتا ہے کہ وہ آنے والے کل (tomorrow) کو نظر انداز کردیتا ہے اور اُس فوری فائدہ کے حصول کو اپنا نشانہ بنا لیتا ہے جس کو آج کل ’رائٹ ہیئر، رائٹ ناؤ‘ (right here, right now) کہا جاتا ہے، اس طرح انسان اپنے آپ کو اُس اعلیٰ کامیابی سے محروم کرلیتا ہے جو اُس کے خالق نے اس کے لیے مقدر کیا ہے۔
ایسے انسان کی مثال اُس کتے سے دی گئی ہے جس کا حال یہ ہوتا ہے کہ اگر اس پر بوجھ لادا جائے تب بھی وہ ہانپے اور اگر چھوڑ دیا جائے تب بھی ہانپے۔ یہ تمثیل بہت بامعنی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی تخلیق کے اعتبار سے چوں کہ جنت کے لیے پیدا کیا گیا ہے، اس لیے جنت کے سوا کوئی اور نشانہ اختیار کرنے کی صورت میں اس کی فطرت ہمیشہ غیر مطمئن رہتی ہے۔ پہلے مرحلے میں اُس کو یہ نشانہ بہت مشکل نظر آتا تھا کہ وہ نہ دکھائی دینے والی آخرت کی خاطر دکھائی دینے والی دنیا کو قربان لیکن جب وہ دکھائی دینے والی دنیا کے حصول کے لیے اپنی پوری طاقت لگا دیتا ہے اور بظاہر اپنا نشانہ پورا کرلیتا ہے، تب بھی وہ غیر مطمئن رہتا ہے، کیوں کہ جس دنیوی چیز کو اُس نے پایا ہے، وہ اس کی اُس داخلی طلب کے مطابق نہیں جو فطری طور پر اس کے اندر موجود ہے۔
’’یہ مثال اُن لوگوں کی ہے جنھوں نے ہماری نشانیوں کی تکذیب کی۔ ‘‘ یہاں تکذیب سے مراد نظر انداز کرنا یا سبق نہ لینا ہے۔ انسان کا معاملہ یہ ہے کہ اُس کو ایک خدا طلب مخلوق (God-seeking being) کے طور پر پیدا کیا گیا ہے۔ جب وہ خدا کے سوا کسی اور چیز کو اپنا مقصود بناتا ہے تو بہت جلد اس کو عدم مطابقت کا احساس ہونے لگتا ہے۔ اس کی فطرت یاد دلاتی ہے کہ یہ وہ چیز نہیں جو تمھارا اصل مقصود تھی، مگر آدمی شیطان کے زیر اثر فطرت کے ان اشاروں کو نظر انداز کردیتا ہے، وہ بدستور ایسا کرتا ہے کہ وہ غیر مقصود کو اپنا مقصود بنائے رہتا ہے۔ وہ اسی حال میں جیتا ہے، یہاں تک کہ مرکر اس دنیا سے چلا جاتا ہے۔