Al-Risala · August 2013

فہمِ قرآن ایک مطالعہ

Al-Risala, August 2013

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن، خدا کی محفوظ کتاب ہے۔ قرآن ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا گیا۔ قرآن میں اس کے نزول کا مقصد ان الفاظ میں بتایا گیاہے: تَبٰرَکَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِيرًا (25:1) یعنی بہت بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر قرآن اتارا، تا کہ وہ جہان والوں کے لیے آگاہ کرنے والا ہو۔ قرآن ساتویں صدی عیسوی کے قدیم عرب میں اترا۔ اُس وقت وہ صرف امکانی طور پر نذیر عالم کیوں کہ بطور واقعہ نذیر عالم بننے کے لیے عالمی کمیونیکیشن (global communication) کے ذرائع درکار ہیں، جو اُس وقت موجود ہی نہ تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن میں یہ بات مستقبل کے اعتبار سے کہی گئی تھی، نہ کہ حال کے اعتبار سے۔ جیسا کہ معلوم ہے ، قرآن کے نزول کے بعد انسانی تاریخ میں ایک انقلابی پراس (revolutionary process) شروع ہوا۔ یہ عمل مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے تقریباً ایک ہزار سال کے بعد اپنے نقطہ انتہا (culmination) تک پہنچا۔ یہ عالمی کمیونیکیشن کا اب وقت آ گیا تھا کہ قرآن کو نذیر عالم کی حیثیت سے ساری دنیا میں پہنچا دیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ جدید مواصلاتی دور، قرآن کو عالمی بنانے کا دور تھا:

The age of communication was the age of universalization of the Quran. مگر ابھی یہ امکان واقعہ نہ بن سکا۔ اس سلسلے میں یہاں یہاں ایک جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔ ایک تاریخی جائزہ قرآن جس زمانے میں اترا، اِس زمانے میں پرنٹنگ پریس موجود نہ تھا۔ لوگ قرآن کو یاد کر لیتے اور حافظہ کی مدد سے وہ اس کو پڑھتے یا دوسروں کو پڑھ کر سناتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات (632 عیسوی) تک یہ حال تھا کہ ہر جگہ صرف قرآن کا چرچا ہوتا تھا۔ آپ کی وفات کے بعد

حدیث کا چرچا بڑھ گیا۔ عباسی دور میں فقہ کا چرچا شروع ہوا۔ اس کے بعد اسی دور میں مسلم تاریخیں لکھی گئیں اور تاریخ کا چرچا ہونے لگا۔ اس پورے زمانے میں باتیں یا تو حافظہ میں ہوتی تھیں یا ہاتھ سے لکھے ہوئے اوراق میں۔ چناں چہ فطری طور پر قرآن کا دائرہ اشاعت عملاً محدود رہا۔ پندرھویں صدی عیسوی میں پرنٹنگ پریس وجود میں آیا۔ اسی کے ساتھ کاغذ بھی وسیع پیمانے پر بننے لگا۔ سولھویں صدی عیسوی میں یہ حال ہوا کہ یورپ میں کتابوں کی چھپائی عام کتابوں کے مطبوعہ نسخے عمومی طور پر دستیاب ہونے لگے۔ مگر مسلم دنیا ابھی تک پرنٹنگ پریس سے نا آشنا تھی۔ اورنگ زیب عالم گیر سترھویں صدی کا مسلم بادشاہ ہے۔ زمانے میں وہ صرف یہ جانتا تھا کہ لمبی مدت کے دوران قرآن کو اپنے ہاتھ سے لکھ کر اس کا ایک نسخہ تیار کیا جائے۔ وہ پرنٹنگ ٹکنالوجی کی بابت کچھ نہیں جانتا تھا۔

مسلم دنیا میں پرنٹنگ پریس اٹھارھویں صدی کے آخر میں پہنچا۔ نپولین 1798 میں مصر میں وہ اپنے ساتھ فرانس سے پرنٹنگ پریس لایا تھا۔ انیسویں صدی کے آغازمیں کرسچن مشنری کے لوگ انڈیا میں پرنٹنگ پریس لے آئے۔ اس طرح دھیرے دھیرے پرنٹنگ پریس پوری مسلم دنیا میں پھیل گیا۔ بیسویں صدی میں یہ حال ہوا کہ قرآن کے چھپے ہوئے نسخے ہر جگہ پائے جانے لگے۔ گھر، مسجد، مدرسہ، لائبریری، کوئی جگہ قرآن کے مطبوعہ نسخوں سے خالی نہ رہی۔ مگر اب بھی جو حال ہوا، وہ صرف یہ کہ قرآن مسلمانوں کے لیے کتاب تلاوت بنارہا، وہ عمومی طور پر ساری انسانیت کے لیے عملاً نذیر عالم نہ بن سکا۔ ایسا کیوں ہوا، کیوں ایسا ہوا کہ عالمی ابلاغ کے مواقع پیدا ہونے کے باوجود قرآن کی عالمی اشاعت نہ ہوسکی۔ اس کا سبب یہ ہے کہ یہ کام مسلمانوں کو انجام دینا تھا، جو کہ قرآن کے حامل ہیں، مگر اس زمانے کے مسلمان دعوت کے شعور سے مکمل طور پر خالی بیسویں صدی کے مسلمان ساری دنیا میں منفی سوچ کا شکار ہو گئے، وہ مدعو قوموں کو اپنا حریف اس قسم کی منفی سوچ کے ساتھ دعوت وتبلیغ جیسا مثبت کام نہیں کیا جا سکتا۔ اصل یہ ہے کہ جس زمانے میں جدید کمیونی کیشن کا دور آیا، اُسی زمانے میں ایک اور چیز مسلم دنیا میں

داخل ہوگئی، یعنی وہ چیز جس کو مغربی نو آبادیات (western colonialism) کہا جاتا ہے۔ کمیونیکیشن اور نو آبادیات دونوں ایک ساتھ مسلم دنیا میں داخل ہوئے:

The age of communication coincided with the age of colonialism. مغرب کی نو آبادیاتی قو میں جدید طاقتوں سے مسلح تھیں۔ چناں چہ فطری طور پر یہ ہوا کہ وہ عمومی طور پر اُس زمانے کے مسلم ممالک پر غالب آ گئیں۔ انھوں نے مسلم اداروں اور مسلم حکومتوں کو زیر کر لیا۔ اس کے ردعمل کے طور پر یہ ہوا کہ تمام دنیا کے مسلمان مغربی قوموں کے خلاف نفرت میں مبتلا ہو گئے۔ زمانے کے تقریباً تمام مسلم رہنماؤں کا ذہن یہ بن گیا کہ سب سے پہلا کام یہ ہے کہ مغربی طاقتوں سے لڑ کر اُن کو مسلم دنیا سے نکالو۔ اس سیاسی جہاد میں تقریباً تمام لوگ شریک ہو گئے، صرف اس فرق کے ساتھ کہ کچھ لوگ اُس میں فکری اعتبار سے شریک تھے اور کچھ لوگ مسلح ٹکراؤ میں مشغول تھے۔ یہ پورا دور مسلمانوں کے لیے منفی ردعمل کا دور تھا۔ نفرت اور تشدد کے ماحول میں وہ یہ بھول گئے کہ مغربی قو میں اُن کے لیے دشمن نہیں، بلکہ مدعو ہیں۔ تاریخ میں پہلی بار یہ امکان پیدا ہوا ہے کہ قرآن اور ترجمہ قرآن کے مطبوعہ نسخوں کو نہ صرف مغربی قوموں، بلکہ تمام دنیا کی قوموں تک پہنچا دیا جائے، تاکہ قرآن اپنے مقصد نزول کے اعتبار سے نذیر عالم بن جائے، یعنی وہ پیشین گوئی پوری ہو جس کو حدیث میں عالمی ادخال کلمہ کہا گیا ہے۔ مسلمانوں کے اندر دوسری قوموں کے لیے منفی ردعمل کا یہ مزاج انیسویں صدی کے نصف ثانی میں شروع ہوا اور اکیسویں صدی کے نصف اول تک منفی ردعمل کی یہ نفسیات بدستور جاری ہے۔

موجودہ زمانے کے مسلمانوں نے دوسری قوموں کو اپنا دشمن قرار دے کر جو لڑائی جاری کی، وہ ہر قسم کی بے پناہ قربانیوں کے باوجود مکمل طور پر بے نتیجہ رہی۔ کوششوں کا یہ منفی انجام کافی تھا کہ مسلمان اس معاملے میں اپنے موقف پر نظر ثانی کریں۔ مگر عجیب بات ہے کہ کھلے ہوئے نا کام تجربے کے باوجود آج بھی مسلمانوں کے اندر اس معاملے میں نظر ثانی کا عمل جاری نہ ہوسکا۔

Printed page