Al-Risala · August 2013

قرآن فہمی کا اصول

Al-Risala, August 2013

By Maulana Wahiduddin Khan

علماء تفسیر نے عام طور پر قرآن فہمی کے لیے 15 علوم میں مہارت کو ضروری قرار دیا ہے علم لغت، علم نحو، علم صرف، علم اشتقاق، علم معانی، علم بیان، علم بدیع، علم قرآت، علم عقائد، علم اصول فقہ، علم اسبابِ نزول، علم ناسخ و منسوخ، علم فقہ، علم حدیث، علم وہبی۔ مگر تجربہ بتاتا ہے کہ صرف یہ علوم قرآن فہمی کے لیے کافی نہیں۔ بیسویں صدی عیسوی میں کثیر تعداد میں ایسے علما اٹھے جن کا مقصد قرآنی علم کو عام کرنا یہ علما مذکورہ تمام علوم کے ماہر تھے، مگر عین اسی دور کے مسلمان ایک بہت بڑے قرآنی علم سے بے خبر رہ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ قرآن فہمی کے لیے صرف مذکورہ علوم سے واقف ہونا کافی نہیں۔ مطلوب قرآنی علم وہ ہے جس کو کتاب اللہ میں ’’فرقان‘‘ (8:29)کہاگیاہے- (29: (8:29)کہاگیاہے- فرقان فرق کا اس کا مطلب ہے: دو چیزوں کے درمیان فرق کرنے والا۔ قرآن کی ایک صفت یہ ہے کہ

وہ قاری قرآن کے اندر فرقان کی صفت پیدا کرتا ہے۔ وہ قاری کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ کسی چیز کے دو پہلوؤں کے درمیان فرق کر سکے۔ مثلاً وہ ایسا کر سکے کہ وہ کسی چیز کے پلس پوائنٹ کو اس کے مائنس پوائنٹ سے الگ کر کے دیکھ سکے۔

موجودہ زمانے میں نو آبادیاتی طاقتیں مغربی تہذیب کو لے کر مسلم دنیا میں داخل ہوئیں۔ مغربی تہذیب کے دو پہلو تھے۔ ایک یہ کہ وہ مغربی قوموں کو مسلم دنیا میں غالب کر رہی تھیں۔ اور اس کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ یہ لوگ پہلی بار دنیا میں جدید مواقع لائے تھے، جن میں کمیونیکیشن سرفہرست ہے۔ علماء قرآن کو چاہیے تھا کہ وہ ان دونوں پہلوؤں کو الگ کر کے دیکھیں۔ وہ خُذ ما صفاوَدَع ما کدر کے اصول پر مغربی تہذیب کے غیر مطلوب پہلو کو نظر انداز کر دیتے اور دعوتی مواقع کو بھر پور طور پر استعمال کرتے ، مگر وہ ایسا نہ کر سکے۔

یہ واقعہ بتاتا ہے کہ دور جدید کے علما اور رہنما اس معاملے میں فرقان کی صفت سے محروم تھے، یعنی مغربی تہذیب کے مذکورہ دو پہلوؤں کے درمیان فرق کرنا ۔ اُن کے مطالعہ قرآن نے اُن کے اندر یہ صلاحیت پیدا نہیں کی تھی کہ وہ مغربی تہذیب کے اندر چھپے ہوئے مثبت دعوتی پہلو کو اس کے دوسرے پہلو سے الگ کر کے دیکھیں اور دعوتی مواقع کے پہلو کو استعمال کر کے دور جدید میں اسلام کی عالمی دعوتی اشاعت کا کام انجام دے سکیں۔

Printed page