Al-Risala · August 2013

غیر قرآنی ذہن

Al-Risala, August 2013

By Maulana Wahiduddin Khan

ربانی شاکلہ کیا ہے۔ ربانی شاکلہ دراصل غیر متعصبانہ طرز فکر (unbiased thinking) کا

دوسرا نام ہے۔ ایک آدمی جب ہر قسم کے تعصّبات سے باہر آ کر کھلے ذہن کے تحت سوچے تو اس کی سوچ فطری سوچ بن جاتی ہے۔ وہ، حدیث کے الفاظ میں، اللہ کے نور سے دیکھنے لگتا ہے۔ اسی کا نام ربانی شاکلہ یا ربانی مائنڈ سیٹ (mindset) ہے۔ ربانی مائنڈ سیٹ کیا ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دعا سے معلوم ہوتا ہے۔ یہ دعا ان الفاظ میں آئی ہے: اللهم أرنا الحق حقاً وارزقنا اتباعه، وأرنا الباطل باطلاً وارزقنا اجتنابه، وأرنا الأشياء كماهي۔

اس دعا کا خلاصہ ایک لفظ میں یہ ہے کہ خدایا، تو مجھے توفیق دے کہ میں چیزوں کو ایز اٹ از (as it is) دیکھنے لگوں، یعنی کسی آمیزش کے بغیر خالص فطری انداز میں۔ اس سے مراد چیزوں کو اُس نظر سے دیکھنا ہے جس نظر سے خدا اُن کو دیکھتا ہے۔ اسی طرزِ فکر کا نام ربانی طرزِ فکر ہے، اور یہ ربانی طرزِ فکر کسی آدمی کے اندر کامل ذہنی تطہیر کے ذریعے پیدا ہوتا ہے۔

انسانی شاکلہ اور ربانی شاکلہ کے فرق کی ایک مثال صلح حدیبیہ ہے، جس کی بابت قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: علم ما لم تعلموا (48:27) یعنی اللہ نے وہ جانا جو انسان نے نہیں جانا۔ حدیبیہ کا معاہدہ یک طرفہ شرطوں پر طے کیا گیا تھا۔ اس بنا پر انسانی ذہن نے اس کو ذلت آمیز معاہدہ لیکن اللہ اس کو مستقبل میں دعوتی مواقع کھلنے کے اعتبار سے دیکھ رہا تھا، یعنی انسان اس معاہدہ کو حال کی نسبت سے دیکھ رہا تھا، جب کہ خدا اس کو مستقبل کی نظر سے دیکھ رہا تھا، اس بنا پر ایسا ہوا کہ جس چیز کو انسان شکست کا درجہ دے رہا تھا، اُس کو خدا نے فتح مبین کا درجہ دے دیا۔ قرآن کی سورہ الاسراء میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: وَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ جَعَلْنَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُورًا (17:45) یعنی جب تم قرآن پڑھتے ہو تو ہم تمھارے اور اُن لوگوں کے درمیان ایک چھپا ہوا پردہ حائل کر دیتے ہیں، جو آخرت کو نہیں مانتے: When you recite the Quran, we place an invisible barrier between you and those who do not believe in the Hereafter.

قرآن کی اس آیت میں حجابِ مستور سے مراد غیر ربانی مائنڈ سیٹ ہے۔ قرآن کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے اپنے غیر ربانی مائنڈ سیٹ کو توڑنا پڑتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، یہ کہ اپنے آپ کو کامل طور پر آبجیکٹیو مائنڈ (objective mind) بنانا پڑتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلی شرط سلبی ہے، نہ کہ ایجابی۔

ایجابی ذہن کا مطلب ہے، قرآن کو قرآن کے ذہن سے پڑھنا۔ سلبی ذہن کا مطلب ہے، اپنے غیر قرآنی ذہن کی تطہیر کرنا۔ قرآن کے صحیح مطالعے کے لیے جو ترتیب ہے، وہ یہ ہے کہ آدمی پہلے اپنے غیر قرآنی ذہن کے خول سے باہر آئے، اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوگا کہ وہ ایجابی ذہن کے تحت قرآن کو پڑھے اور اس کو سمجھ سکے۔ گویا کہ کلمہ توحید (لا إله إلا الله) کی طرح یہاں بھی یہ اصول ہے کہ پہلے نفی کا مرحلہ ہے اور اس کے بعد اثبات کا مرحلہ، یعنی پہلے اپنے ذہن کے حجاب کو ہٹانا پڑتا ہے، اس کے بعد ہی کسی کے لیے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ قرآن کو پڑھے اور اس کے صحیح مفہوم تک پہنچ سکے۔ جس زمانے میں کمیونزم کا زور تھا، ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے قرآن کو پڑھا۔ وہ اشتراکی فکر سے متاثر تھے۔ وہ قرآن کو پڑھتے ہوئے اس آیت تک پہنچے: إِنَّ الأَرْضَ لله (7:128)۔ آیت کو پڑھ کر انھوں نے اپنے مائنڈ سیٹ کے مطابق، یہ سمجھ لیا کہ قرآن بھی اشتراکیت کی تعلیم دیتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس آیت میں کہا گیا ہے کہ زمین اللہ کی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زمین اسٹیٹ کی اسٹیٹ کو یہ حق ہے کہ وہ لوگوں کی زمین پر قبضہ کر کے اشتراکی اصول پر زراعت کا نظام بنائے۔ اسی طرح ایک اور تعلیم یافتہ مسلمان جو جمہوری فکر سے متاثر تھے، انھوں نے جب قرآن میں یہ آیت پڑھی: وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ (42:38) تو انھوں نے خوش ہو کر کہا کہ دیکھو، قرآن میں بھی جمہوریت (ڈیموکریسی) کی تعلیم موجود ہے۔

ایک اور تعلیم یافتہ مسلمان نے قرآن کی یہ آیت پڑھی: فَأَوْقِدْ لِي يَا هَامَانُ عَلَى الطِّينِ فَاجْعَلْ لِّي صَرْحًا (28:38)۔ ان الفاظ کو پڑھ کر مذکورہ مسلمان نے کہا کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن سیرامک انڈسٹری (ceramic industries) کی تعلیم دے رہا ہے۔

اس کا تقاضا ہے کہ مسلمان سیر میک انڈسٹریز اور دوسری صنعتیں قائم کریں ۔ وہ صنعت اور تجارت کے میدان میں آگے بڑھیں ۔

اس قسم کی بہت سی مثالیں ہیں جو بتاتی ہیں کہ اگر قاری کا ذہن تیار ذہن نہ ہو تو وہ خود اپنے مائنڈ سیٹ کے مطابق ، قرآن کو پڑھے گا ۔ وہ قرآن کی آیتوں میں ایسی بات پالے گا جو خود قرآن میں موجود نہیں ، بلکہ وہ خود اس کے اپنے ذہن میں پائی جاتی ہے ۔

Printed page