Al-Risala · August 2013

چند وضاحتی مثالیں

Al-Risala, August 2013

By Maulana Wahiduddin Khan

مصر کے مشہور انقلابی رہنما سید قطب کا نظریہ تھا کہ پیغمبروں کی دعوت کا نشانہ یہ تھا کہ وہ دنیا میں حکومت الہیہ قائم کریں۔ اس ذہنی تاثر (obsession) کے تحت، انھوں نے قرآن کو پڑھا تو عجیب و غریب طور پر ان کو نظر آیا کہ قرآن اُن کے سیاسی ذہن کی تصدیق کر رہا ہے۔ مثلاً قرآن کی سورہ الاعراف میں بتایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ نے جب اُس وقت کے مصری حکمراں فرعون کے سامنے اپنی دعوت پیش کی تو فرعون نے اپنی جوابی تقریر میں اپنے درباریوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: یُرِیدُ أَنْ يُخْرِجَكُمْ مِنْ أَرْضِكُمْ (7:110) یعنی موسیٰ چاہتے ہیں کہ وہ تم کو تمھارے ملک مصر سے نکال دیں۔ سید قطب نے جب ان الفاظ کو پڑھا تو اپنے مائنڈ سیٹ کے مطابق، انھوں نے یہ سمجھا کہ حضرت موسیٰ کی دعوت ملک میں سیاسی اقتدار قائم کرنے کی دعوت تھی۔ چناں چہ وہ اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں: إنها الخروج من الأرض، إنها ذهاب السلطان، إنها إبطال شرعية الحكم، أو محاولة قلب نظام الحكم، بالتعبير العصري الحديث (3/1348) یعنی یہ سرزمین مصر سے نکلنے کا معاملہ ہے، یہ اقتدار کا خاتمہ ہے، یہ ہماری حکمرانی کو نا جائز ٹھہرانا ہے، یا یہ، دورِ جدید کی تعبیر کے مطابق ، نظامِ حکومت کو بدلنے کی کوشش ہے۔

مذکورہ مصنف کے یہ الفاظ خود ان کے اپنے ذہن کی ترجمانی ہیں، وہ حضرت موسیٰ کی ترجمانی واضح بات ہے کہ حضرت موسیٰ کا پیغام کلامِ موسیٰ سے نکلے گا، نہ کہ کلامِ فرعون سے۔ متاثر ذہن کی بنا پر مصنف اس فرق کو نہ سمجھ سکے۔ انھوں نے قرآن کی آیت کی ایسی تشریح کر دی جس کا تعلق

خود قرآن سے نہ تھا، بلکہ خود اُن کے اپنے مائنڈ سیٹ سے تھا۔

2- امام ابن تیمیہ کی ایک مشہور کتاب ہے۔ اس کا ٹائٹل یہ ہے: الصارم المسلول علی اس کتاب میں انھوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اسلام میں شاتم رسول کی سزا قتل ہے۔ اُن کا دعویٰ ہے کہ یہ حکم قرآن کی متعدد آیتوں میں بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً اس سلسلے میں انھوں نے قرآن کی یہ آیت پیش کی ہے: اِنَّ الَّذِيْنَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ (33:57) یعنی جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دیتے ہیں، اللہ نے اُن پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی۔

ابن تیمیہ آیت کی شرح میں لکھتے ہیں: وهذه الآية تو جب قتلَ مَن آذى الله ورسوله (صفحہ 26) یعنی یہ آیت واجب قرار دیتی ہے کہ اُس شخص کو قتل کر دیا جائے جو اللہ کو اور اس کے رسول کو ایذا پہنچائے۔ مذکورہ آیت کی اس شرح کا تعلق خود قرآن کی آیت سے نہیں ہے۔ اس آیت میں شتم رسول پر قتل کا مسئلہ سرے سے بیان ہی نہیں ہوا ہے، مگر مصنف کے خود اپنے مائنڈ سیٹ کی بنا پر ایسا ہوا کہ انھوں نے ’’اذیت‘‘ کو شتم کے معنی میں لے لیا، اور ’’لعنت‘‘ کو قتل کے معنی میں۔ باتیں خود مصنف کے دماغ میں تھیں، وہ ہرگز قرآن کی مذکورہ آیت میں موجود نہ تھیں۔ ربانی مائنڈ سیٹ کا معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہیں، وہ نہایت سنگین معاملہ ہے۔ اگر ربانی مائنڈ سیٹ نہ ہو تو آدمی قرآن کی رہنمائی سے محروم ہو جائے گا۔ وہ کسی مسئلے کو دیکھ کر اپنے مائنڈ سیٹ کی بنا پر اس کے بارے میں منفی رائے دے گا، حالاں کہ اُس مسئلے کے بارے میں قرآن میں مثبت نقطہ نظر مگر وہ اپنی منفی سوچ کی بنا پر قرآن کی اس رہنمائی کو اخذ کرنے سے محروم رہے گا۔ مثلاً ایک عربی مجلہ میں مسلم اقلیتوں کے بارے میں ایک مضمون چھپا ہے۔ مضمون نگار نے اپنے اس مضمون میں مسلم اقلیتوں (Muslim minorities) کے بارے میں یہ الفاظ لکھے ہیں: الأقليات المسلمة تواجه خطر الذوبان (مسلم اقلیتوں کے لیے غیر مسلم اکثریت میں جذب ہونے کے خطرے کا سامنا)۔ مسلم اقلیتوں کے بارے میں یہ تصور تمام تر خود ساختہ مائنڈ سیٹ کی بنا پر

اگر اس مسئلے کو ربانی شاکلہ کی نسبت سے دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ قرآن کسی اقلیت کے بارے میں برعکس طور پر پر امید تصور دیتا ہے۔ قرآن کی وہ آیت یہ ہے: کم من فئۃ قلیلۃ غلبت فئۃ کثیرۃ باذن اللہ (2:249) یعنی کتنے ہی اقلیتی گروہ ہیں جو اکثریتی گروہ پر غالب آجاتے ہیں، اللہ کے اذن سے۔

قرآن کی اس آیت پر غور کیجئے تو معلوم ہو گا کہ جب دو گروہ کسی علاقے میں مشترک طور پر رہتے ہوں، ایک گروہ اقلیت میں ہو اور دوسرا گروہ اکثریت میں۔ ایسے ماحول میں یہ ہوتا ہے کہ اکثریتی گروہ، اقلیتی گروہ کے لیے ایک مسلسل چیلنج بن جاتا ہے۔ یہ چیلنج اقلیتی گروہ کے اندر فطری طور پر زیادہ سوچ اور زیادہ عمل کا مزاج بناتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اقلیتی گروہ جو پہلے صرف ایک اقلیتی گروہ تھا، اب وہ ایک تخلیقی اقلیت (creative minority) بن جاتا ہے۔ یہ ایک فطری حقیقت ہے کہ جس فرد یا جس گروہ میں تخلیقی صلاحیت پیدا ہوجائے، وہ زیادہ بڑے کارنامے انجام دینے کے قابل ہو جاتا ہے۔

Printed page