Al-Risala · August 2013

اجتہادی تفسیر

Al-Risala, August 2013

By Maulana Wahiduddin Khan

اجتہادی تفسیر اور تفسیر بالرائے دونوں ایک تفسیر نہیں ہیں۔ تفسیر بالرائے ایک غیر مطلوب تفسیر اس کے مقابلے میں، اجتہادی تفسیر عین مطلوب تفسیر ہے۔ تفسیر بالرائے قرآن سے انحراف ہے، جب کہ اجتہادی تفسیر کامل معنوں میں قرآن کا اتباع ہے۔

اجتہادی تفسیر کیا ہے؟ اجتہادی تفسیر کا مطلب قرآن کی کسی آیت کی معنویت کو از سر نو دریافت کرنا ہے۔ اجتہادی تفسیر دراصل یہ ہے کہ بدلے ہوئے حالات میں قرآن کا انطباق نو (re-application) معلوم کیا جائے۔ اجتہادی تفسیر، قرآن کے تسلسل کا اظہار ہے۔ اجتہادی تفسیر کے ذریعے یہ ممکن ہے کہ قرآن ہر دور کے ذہن کو ایڈریس کرتا رہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انبیا اپنے وقت کے ملاء کو خطاب کرتے تھے۔ ملاء کا لفظ قرآن میں تقریبا 30 بار آیا ہے۔ ملاء کا مطلب ہے — سردار قوم (head of nation)۔

پیغمبر کا اسلوب دعوت یہ ہے کہ قبیلہ یا قوم کے سردار کو خصوصی طور پر خطاب کیا جائے۔ اس حکمت کا سبب یہ ہے کہ ملاء کی حیثیت ذہن ساز (opinion-maker) کی ہوتی ہے۔ اس لیے ملاء تک پیغام پہنچانا، بالواسطہ انداز میں، پورے گروہ تک پیغام پہنچانا ہوتا ہے۔

ملاء قوم کے اس تصور کو اجتہادی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو اس سے ایک عظیم حقیقت کا انکشاف ہوتا ہے۔ موجودہ زمانے میں مغربی تہذیب کے علم برداروں کو یہی درجہ مل گیا تھا، وہ توسیعی معنوں میں گو یا ملاء عالم بن گئے تھے۔ پھر انھوں نے جدید ذرائع اور جدید کمیونیکیشن کو استعمال کر کے قائدِ عالم (world leader) کا درجہ حاصل کر لیا تھا۔

دعوہ ورک کے لیے یہ واقعہ ایک عظیم امکان (great opportunity) کی حیثیت رکھتا تھا۔ تہذیب کے علم برداروں تک قرآنی پیغام پہنچانا، بالواسطہ طور پر سارے عالم تک قرآنی پیغام پہنچانے کے ہم معنی بن گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانے کے رومی بادشاہ ہرقل کو ایک دعوتی خط اس میں یہ الفاظ درج تھے: فإن توليت فإن عليك إثم الأريسيين (اگر تم میری بات کو نہ مانو تو تمھارے اوپر تمھاری پوری قوم کی ذمے داری عائد ہو جائے گی)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رومی بادشاہ تک پیغام پہنچانا، اس کی پوری قوم تک پیغام پہنچانے کے ہم معنی تھا۔ اسی طرح موجودہ زمانے میں مغربی تہذیب کے علم برداروں تک قرآن کا پیغام پہنچانا، بالواسطہ طور پر پورے عالم تک قرآن کا پیغام پہنچانے کے ہم معنی تھا۔ مگر عین اُس وقت یہ ہوا کہ بعض سیاسی وجوہ کی بنا پر مسلم رہنما، مغربی تہذیب سے نفرت میں مبتلا ہو گئے۔ عرب سے عجم تک، تقریباً تمام مسلمانوں کا یہ حال ہوا کہ وہ مغربی قوموں سے نفرت کرنے لگے۔ انھوں نے مغرب کو مدعو کے بجائے عدو (دشمن) کا درجہ دے دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دورِ جدید کا ایک عظیم دعوتی امکان استعمال ہونے سے رہ گیا۔ موجودہ زمانے میں یہ حادثہ اس لیے پیش آیا کہ مسلم علما قرآن کی تفسیر مجتہدانہ انداز میں نہ وہ قرآن کے دعوتی اسلوب کا جدید انطِباق کرنے سے عاجز رہے۔ مجتہدانہ بصیرت، قرآن کے ابدی مفہوم کو سمجھنے کے لیے ایک لازمی شرط کی حیثیت رکھتی ہے۔

Printed page