Prima facie it stands rejected
Al-Risala, August 2013
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کی ایک مثال وہ تفسیر ہے جس کے مطابق، رسول پر شتم کرنا ایک ایسا فعل ہے جس پر شاتم مستوجبِ قتل ہو جاتا ہے۔ یہ نظریہ سرتا سر ایک غیر قرآنی نظریہ ہے۔ وہ خدا کے منصوبہ تخلیق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ قرآن کے مطابق، اس دنیا میں انسان کو کامل آزادی دی گئی ہے۔ اِس کو اختیار ہے، وہ چاہے تو اس آزادی کا صحیح استعمال کرے اور چاہے تو وہ اس آزادی کا غلط استعمال کرے (76:3)۔ آزادی کے غلط استعمال پر ضرور انسان کی پکڑ ہوگی، لیکن یہ پکڑ صرف آخرت میں ہوگی، دنیا میں ہرگز ایسی حالت میں شاتم کے لیے قتل کی سزا مقرر کرنا، خدا کے منصوبہ تخلیق میں ایک متناقض (inconsistent) حکم ہوگا، جب کہ قرآن خود اپنے بارے میں یہ اعلان کرتا ہے کہ اس میں کوئی تناقض نہیں (4:82)۔ قرآن کی صحیح تفسیر کے لیے یہ ایک لازمی شرط ہے۔ جو لوگ اس معاملے میں باشعور نہ ہوں، وہ یقینی طور پر قرآن کی صحیح تفسیر کرنے میں ناکام رہیں گے۔ قرآن اور حدیث کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں سماجی جرائم(social crimes) پر سزا ہے۔ مثلاً چوری اور قذف، وغیرہ۔ مگر جہاں تک فکری جرائم (intellectual crimes) کا تعلق ہے، اُن پر اسلام میں کوئی جسمانی سزا(physical punishment) نہیں۔ فکری جرائم پر صرف دعوت و تبلیغ ہے، نہ کہ سزا۔ اس معاملے میں قرآن کے یہ الفاظ انتہائی حد تک واضح ہیں: فَذَکِّرْ اِنَّمَا اَنْتَ مُذَکِّرٌ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَيْطِرِ اِلَّا مَنْ تَوَلّٰى وَكَفَرَ فَيُعَذِّبُهُ اللَّهُ
العَذَابِ الأَكْبَرِ O إِنَّ إِلَيْنَا إِيَابَهُمْ O ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَهُمْ (26-88)۔ غیر قرآنی ذہن کی تطہیر اصل یہ ہے کہ ہر آدمی کسی ماحول میں پیدا ہوتا ہے۔ اپنے تجربے اور مطالعے کے مطابق، اس کا اپنا ایک ذہنی سانچہ (mindset) بن جاتا ہے۔ وہ اپنے اسی بنے ہوئے ذہن (conditioned mind) کے تحت چیزوں کو دیکھتا ہے اور رائے قائم کرتا ہے۔ اسی مائنڈ سیٹ کو قرآن میں شاکلہ (17:84) کہا گیا ہے۔ قرآن کو سمجھنے کی لازمی شرط یہ ہے کہ آدمی اپنے اس ذاتی شاکلہ کو توڑے اور ربانی شاکلہ کی روشنی میں وہ قرآن کا مطالعہ کرے۔
مثال کے طور پر ہر آدمی کو اپنی زندگی میں کچھ منفی تجربات پیش آتے ہیں۔ اس کو لوگوں کی طرف سے ناخوش گوار تجربہ ہوتا ہے۔ ان تجربات کی بنا پر تقریباً ہر آدمی کا یہ حال ہوتا ہے کہ وہ خارجی دنیا کے بارے میں منفی سوچ کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسی تحریکیں لوگوں کے درمیان بہت جلد مقبول ہو جاتی ہیں جو کسی خارجی ظالم کے خلاف اٹھائی گئی ہوں۔ اس ذہن کو لے کر جو آدمی قرآن کو پڑھے گا، وہ پوری طرح قرآن کو سمجھ نہیں سکتا۔ مثلاً وہ قرآن میں صبر کی تعلیم وہ پڑھے گا کہ اللہ کے یہاں صبر کرنے والے کو سب سے زیادہ ثواب (reward) وہ اپنے مخصوص ذہن کی بنا پر یہ سمجھے گا کہ قرآن ظالم کے مقابلے میں جھکنے کی تعلیم دیتا ہے۔ چناں چہ اس کو قرآن کی تعلیمات زیادہ اپیل نہیں کریں گی۔
اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ آدمی پہلے یہ دریافت کرے کہ اس دنیا کے بارے میں خدا کا تخلیقی منصوبہ (creation plan) کیا ہے۔ وہ منصوبہ یہ ہے کہ اس دنیا کو خدا نے دار الامتحان (testing ground) کے طور پر بنایا ہے۔ اس بنا پر یہاں ہر انسان کو عمل کی پوری آزادی دی گئی ہے۔ ہر آدمی آزاد ہے، خواہ وہ اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرے یا غلط استعمال کرے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ چیز جس کو فلاسفہ پرابلم آف اول (problem of evil) کہتے ہیں، وہ دراصل پرابلم آف فریڈم (problem of freedom) ہے۔ چوں کہ اس دنیا میں انسان کی آزادی کو منسوخ کرنا
ممکن نہیں، اس لیے دنیا سے برائی کا کلی خاتمہ بھی ممکن نہیں۔
ایسی حالت میں اگر ایک شخص چیزوں کا آئیڈیل معیار (ideal yardstick) اپنے ذہن میں رکھ کر قرآن کا مطالعہ کرے تو وہ قرآن کی تعلیمات کو سمجھ نہ سکے گا۔ قرآن کے مطابق، اس دنیا میں جو چیز ممکن ہے، وہ فرد کی کامل اصلاح ہے، سماج کی کامل اصلاح اس دنیا میں ممکن نہیں۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ اپنی ذات کے اعتبار سے، آئیڈیل معنوں میں انصاف پسند بنے، لیکن سماج کے معاملے میں وہ ورکنگ انصاف (working justice) پر راضی ہو جائے۔