Al-Risala · January 2013

قرآن اور بائبل کے بیان کا فرق

Al-Risala, January 2013

By Maulana Wahiduddin Khan

یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اس معاملے میں بائبل کے بیان اور قرآن کے بیان میں ایک فرق پایا جاتا ہے۔ بائبل میں کشتی نوح (Noah's Ark) کا ذکر تفصیل سے آیا ہے، مگر ایک بات بائبل میں سرے سے موجود نہیں، اور وہ یہ پیشین گوئی ہے کہ کشتی نوح بعد کے زمانے میں ظاہر ہوگی اور وہ اللہ کی آیت (نشانی) بنے گی۔ کشتی نوح کے اس پہلو کا ذکر قرآن میں ایک سے زیادہ بار آیا ہے، لیکن بائبل میں وہ سرے سے موجود نہیں۔

یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ قرآن کے مومنین بعد کے زمانے میں کشتی نوح کو تلاش کریں اور اس کو دریافت کرکے بعد کے لوگوں کے لیے اس کو حجت بنا دیں۔ یہ کام وہ لوگ کر سکتے تھے جن کے اندر سائنسی تحقیق کا ذوق ہو، مگر موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ سائنسی تحقیق کے ذوق سے مکمل طور پر خالی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر مسیحی اور یہودی علما اس معاملے کی تحقیق نہ کرتے تو شاید تاریخِ نبوت کے اس معاملے سے انسان ابھی تک بے خبر رہتا۔

کشتی نوح کا ظاہر ہونا کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ قیامت سے پہلے قیامت کی آمد کا اعلان یہ اُس تاریخی واقعے کا اعلان ہے کہ خالق نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے اپنی مرضی سے باخبر کیا، مگر انسان نے اس کو نظر انداز کیا۔ یہ تخلیق خداوندی اور تاریخ انسانی کے درمیان فرق کو ختم کرنے کا اعلان ہے جس کو انسان نے قائم کر رکھا تھا، یعنی خالق کے مقرر کردہ منصوبہ تخلیق کو نظر انداز کرکے زمین پر زندگی گزارنا۔

قیامت کا دن حقیقت کے کلی ظہور کا دن ہے۔ اس سے پہلے کشتی نوح (Noa's Ark) کا ظہور حقیقت کے جزئی ظہور کا دن ہوگا۔ کشتی نوح کا ظہور علامتی طور پر بتائے گا کہ دنیا کے خالق نے

انسان کے لیے جو نقشۂ حیات مقرر کیا تھا اور پیغمبروں کے ذریعے جس کا علم بھیجا تھا، انسان نے اس کو کامل طور پر نظر انداز کیا، حتیٰ کہ اس کو اپنی تاریخ سے حذف کر دیا۔ کشتی نوح کا ظہور اس حذف شدہ تاریخ کو دوبارہ سامنے لانے کے ہم معنی ہوگا۔

یہی وہ وقت ہوگا جب کہ خدا کی محفوظ کتاب قرآن کو تمام انسانوں کے سامنے لایا جائے، کیوں کہ قرآن واحد کتاب ہے جس میں پیغمبروں کی تاریخ اور خدا کے منصوبہ تخلیق کو واضح طور پر بتایا کشتی نوح کا ظہور تاریخ انسانی کے ایک گم شدہ باب کی دریافت ہوگا اور قرآن تاریخ کے اس گم شدہ باب کا مستند بیان (authentic statement)۔

Printed page