قرآن کی تفسیر اپنی رائے سے
Al-Risala, August 2013
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: من قال في القرآن برأيه، فأصاب، فقد أخطأ (الترمذي، رقم الحديث: 3183) یعنی جس نے قرآن کے بارے میں اپنی رائے سے کہا، اور اس نے صحیح کہا، تب بھی اس نے غلطی کی۔
اس حدیث کی بنیاد پر کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ تفسیر بالرائے کا طریقہ مطلقا غلط ہے، مگر اس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے۔ اس حدیث میں تفسیر بالرائے کا مقابل، تفسیر بالروایت نہیں، بلکہ اس کا مقابل تفسیر بالتدبر ہے۔ اس حدیث میں دراصل ذمے دارانہ تفسیر اور غیرے ذمے دارانہ تفسیر میں فرق کو بتایا گیا ہے۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے معاملے میں کسی شخص کو ایسا نہیں کرنا چاہئے کہ کسی آیت کے بارے میں جو کچھ اُس کے ذہن میں آئے، بلا تحقیق وہ اُس کو بیان کرنے لگے۔ قرآن کی تفسیر کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ جس آیت کی وضاحت کرنا ہے، پہلے اس کی تحقیق کی جائے۔ کے تمام تقاضوں کو پورا کرنے کے بعد اُس پر لکھا یا بولا جائے گا۔
تفسیر بالرائے یہ ہے کہ آدمی کے ذہن میں پہلے سے ایک تصور (idea) موجود ہے۔ بعد وہ قرآن کو پڑھتا ہے۔ اُس کو قرآن میں اپنی بات کے مشابہ ایک لفظ مل جاتا ہے اور پھر وہ کہتا ہے کہ دیکھو، میری بات خود قرآن میں موجود ہے۔ مثال کے طور پر ایک شخص کے اندر سیاسی طرزِ فکر ہے۔ وہ سیاسی اقتدار کو سب سے بڑی چیز سمجھتا ہے۔ اس ذہن کو لے کر وہ قرآن پڑھتا ہے، پھر وہ اس آیت تک پہنچتا ہے: اِنِ الحُکمُ إلا لله (40: ۔ وہ فوراً کہہ اٹھتا ہے کہ سیاسی اقتدار کا تصور خود قرآن میں موجود ہے، قرآن کی اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ حکم صرف اللہ کا ہے۔ اس آیت کی سیاسی تفسیر کر کے وہ اس کو حکومتِ الہیہ کے معنی میں لے لیتا ہے اور پھر یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ہمارا فرض ہے کہ
ہم لوگوں سے لڑ کر دنیا میں خدا کی سیاسی حکومت قائم کریں۔ یہ بلاشبہ تفسیر بالرائے ہے، کیوں کہ قرآن کی اس آیت میں حکم سے مراد فوق الطبیعی (supernatural) حکم ہے، نہ کہ سیاسی حکم۔ قرآن کی مذکورہ آیت کی تفسیر کا ایک طریقہ یہ ہے کہ آپ کے ذہن میں پیشگی طور پر جو تصور ہو، اُس کو لے کر آپ قرآن کو پڑھیں، اور پھر ایک مشابہ لفظ (حکم) پا کر یہ کہنے لگیں کہ دیکھو، قرآن بھی اِسی تصورِ سیاست کی تعلیم دے رہا ہے۔ یہ طریقہ بلاشبہ تفسیر بالرائے کا طریقہ ہے۔ تفسیر کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ قرآن کی اس آیت پر کھلے ذہن کے ساتھ تدبر کریں۔ آپ آیت کے سیاق (context) کی روشنی میں اس کا مطالعہ کریں۔ جب آپ ایسا کریں گے تو آپ پر یہ واضح ہو جائے گا کہ اس آیت میں اصنام پرستی کے عقیدے کی تردید کی گئی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اس آیت میں حکم (اقتدار) سے مراد وہ اقتدار ہے جو زمین اور آسمان میں براہِ راست طور پر خدا نے قائم کر رکھا ہے، یہاں اُس سیاسی اقتدار کا کوئی ذکر نہیں جس کو انسان دوسرے انسانوں کے مقابلے میں سماج کی سطح پر قائم کرتا ہے، یعنی خدا کا قائم کردہ فوق الطبیعی اقتدار، نہ کہ انسان کا قائم کردہ سیاسی اقتدار۔
قرآن کی تفسیر خواہ کسی بھی انداز میں کی جائے، ہمیشہ ایسا ہوگا کہ آدمی اپنی رائے کو استعمال کرے گا۔ رائے سے مراد عقلی غور و فکر ہے اور عقلی غور و فکر کے بغیر کوئی بھی تفسیر ممکن نہیں، حتی کہ تقلیدی تفسیر بھی نہیں۔ قرآن کی سورہ ص میں ارشاد ہوا ہے: كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَيْكَ مُبٰرَکٌ لِيَدَّبَّرُوۡا اٰيٰتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ اُوْلُوا الْاَلْبَابِ (38:29) یعنی یہ ایک مبارک کتاب ہے جو ہم نے تمھاری طرف اتاری ہے، تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر تدبر کریں اور تاکہ عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں۔
تدبر کا مطلب غور و فکر (contemplation) ہے۔ قرآن میں تدبر یہ ہے کہ آپ کسی تعصب کے بغیر کھلے ذہن کے ساتھ قرآن کو پڑھیں، اس کے تمام پہلوؤں پر کسی تحفظ ذہنی (reservation) کے بغیر غور کریں۔ آپ کا مقصد سچائی کی تلاش ہو، نہ کہ اپنی بات کو قرآن سے نکالنا۔ اسی کے ساتھ آپ کو یہ اندیشہ لگا ہوا ہو کہ اگر آپ نے قرآن کی کسی آیت کی غلط تفسیر کی تو وہ خدا کے یہاں مقبول نہ ہوگی اور آپ اس کے لیے پکڑے جائیں گے۔ اس طرح کی سنجیدہ فکر کے ساتھ جو تفسیر کی جائے، اسی کا نام تدبر ہے۔
اور تدبر کے ساتھ قرآن کی تفسیر کرنے کا طریقہ ہی تفسیر کا صحیح طریقہ ہے۔ دوسرے لفظوں میں، غیر ذمے دارانہ تفسیر کا نام تفسیر بالرائے ہے، اور ذمے دارانہ تفسیر کا نام تفسیر بالتدبر۔ قرآن میں 114 سورتیں ہیں۔ اس کی سورہ نمبر 103 کا نام العصر ہے۔ سورہ العصر کے بارے میں امام شافعی (وفات: 820ء) کا مشہور قول ہے کہ: لو تدبر الناس هذه السورة، لوسعتہم (اگر لوگ سورہ العصر میں تدبر کریں تو یہی ایک سورہ ان کی ہدایت کے لیے کافی ہو جائے)۔ یہ بات بذات خود بالکل درست ہے۔ تدبر قرآن، نہ صرف سورہ العصر کو سمجھنے کے لیے، بلکہ پورے قرآن کے فہم کی کلید ہے۔ لیکن قرآن میں تدبر کی دو سورتیں ہیں— ایک ہے، فنی تدبر، اور دوسرا ہے، عارفانہ تدبر۔ قرآن کے مطالعے کے لیے فنی تدبر صرف ابتدائی فہم قرآن کے لیے کارآمد ہے۔ جہاں تک گہرے فہم قرآن کا تعلق ہے، اس کا حصول صرف عارفانہ تدبر کے ذریعے ممکن ہوتا ہے۔
فنی تدبر کا مطلب یہ ہے کہ آدمی لغت اور نحو اور صرف اور شان نزول، وغیرہ جیسی باتوں سے واقفیت رکھتاہو- ایسا آدمی اس پوزیشن میں ہوتا ہے کہ وہ قرآن کے سادہ مفہوم کو بظاہر صحت کے ساتھ سمجھ لے، مگر جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: لكل آية منها ظهر وبطن (الطبراني 105/10)۔ اس قسم کا فہم قرآن کسی آدمی کو صرف ظہر قرآن سے واقف کرا تا ہے، لیکن جہاں تک بطن قرآن کا معاملہ ہے، اُس سے آگاہ ہونے کے لیے صرف فنی واقفیت کافی نہیں۔ بطن قرآن تک رسائی حاصل کرنے کے لیے دین کی گہری معرفت ضروری ہے۔ یہ معرفت صرف اُس شخص کو ملتی ہے جو انتہائی سنجیدگی کے ساتھ قرآن اور سنت کا مطالعہ کرے، جو لمبی مدت تک دعا اور ذکر الہی میں زندگی گزارے، وہ صبح وشام کے لمحات میں قرآن کا طالب بنا ہوا ہو، جس کا مسلسل غور وفکر اس کو معرفت (realization) کی اُس سطح تک پہنچادے، جب کہ وہ فنی حد بندیوں سے اوپر اٹھ کر حقیقت کا ادراک کرنے کے قابل ہوجاتا ہے۔ اُس وقت وہ اُس درجہ معرفت کو حاصل کرلیتا ہے جس کو حدیث میں "محدث" (صحيح البخاري، رقم الحديث: 3689) کہا گیا ہے۔