Al-Risala · August 2013

قرآن کی عارفانہ تفسیر

Al-Risala, August 2013

By Maulana Wahiduddin Khan

جیسا کہ عرض کیا گیا، علماء تفسیر نے قرآن کی تفسیر کے لیے 15 علوم کو ضروری قرار دیا ہے۔ علوم میں سے ایک علم وہ ہے جس کو علم وہبی کا نام دیا گیا ہے۔ علم وہبی سے مراد معرفت ہے۔ بقیہ علوم کی حیثیت وفنی ہے اور معرفت وہ خصوصی صلاحیت ہے جس کو دوسرے الفاظ میں حکمت اور بصیرت (divine wisdom) کہا جاسکتا ہے۔ اس حکمت اور بصیرت کی ایک مثال قرآن کی یہ آیت ہے: هَلْ تَرَبَّصُونَ بِنَا إِلَّا إِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ (9:52) یعنی تم ہمارے لیے دو میں سے ایک بہتر چیز (one of the two good things) کا انتظار کر رہے ہو۔

قرآن کی اس آیت میں ’’دو بہتر میں سے ایک بہتر‘‘ کا مطلب مفسرین نے عام طور پر فتح اور شہادت لیا ہے، یعنی تمھارے مقابلے میں ہم کو یا تو فتح حاصل ہوگی جو بلاشبہ ایک بہتر چیز ہے، اور اگر تم نے ہم کو قتل کر دیا تو ہم شہادت کا درجہ پائیں گے، اور وہ بلاشبہ ہمارے لیے ایک بہتر چیز ہے۔ خالص علم فن کے اعتبار سے دیکھیے تو یہ تفسیر بالکل درست تفسیر معلوم ہوتی ہے، لیکن معرفت کے اعتبار سے دیکھیے تو یہ تفسیر ایک ناقص تفسیر ہے۔ فنی تفسیر کے اعتبار سے، اس آیت کا تعلق جنگی صورت حال سے ہے۔ لیکن معرفت شناس ذہن یہ کہے گا کہ قرآن کا تعلق صرف جنگ سے متعلق احکام سے نہیں ہے، بلکہ قرآن کا تعلق انسان کی پوری زندگی سے ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ’إحدى الحسنين‘ کی سعادت ایک مومن کے لیے زندگی کے دوسرے پہلوؤں کے اعتبار سے بھی قابل حصول ہو۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ایک شخص سے وقتی طور پر آپ کی ملاقات ہوتی ہے۔ آپ کے لیے موقع تھا کہ آپ اس کے ساتھ حسن معاملت کریں اور ثواب کے مستحق قرار پائیں، لیکن کسی وجہ سے آپ اس کے ساتھ حسن معاملت نہ کر سکے۔ اس صورت حال میں آپ کے لیے ’إحدى الحسنين‘ کی سعادت حاصل کرنے کا موقع باقی ہے۔ وہ اس طرح کہ آپ یہ دعا کریں کہ۔ خدایا، میں فلاں انسان کے ساتھ حسن سلوک نہ کر سکا، تو میری اس غلطی کو معاف فرما اور اُس انسان کے لیے میری طرف سے دعاء خیر لکھ دے اور اس کے حق میں میرے کوتاہی کی تلافی فرما۔

ایک شخص اگر فنی علوم کو حاصل کر لے تو وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ قرآن کی کسی آیت کے ظاہری پہلوؤں کو بخوبی طور پر جان لے۔ اُس آیت کا لفظی ترجمہ کیا ہے، اس کا شان نزول کیا ہے، سیاق و سباق کی رعایت سے اس کا کیا مفہوم بنتا ہے اور کیا مفہوم نہیں بنتا، وغیرہ۔ ایک شخص جس کو فنی واقفیت حاصل ہو، وہ آیت کے ظاہری مفہوم کو سمجھ سکتا ہے، لیکن اُس آیت میں الفاظ کے ماورا جو حقیقتیں چھپی ہوئی ہیں، وہ اُن سے بے خبر رہے گا۔ مثلاً وہ اس بات کو جان لے گا کہ الحمد للہ رب العالمین کا لفظی ترجمہ کیا ہے۔ لیکن قرآن کی اس آیت میں ایک اور گہرا پہلو چھپا ہوا ہے، لیکن اس گہرے پہلو تک پہنچنے کے لیے صرف فنی واقفیت کافی نہیں۔ یہ گہرا پہلو وہ ہے جس کا علم صرف صاحب معرفت انسان کو ہوتا ہے، صاحب معرفت انسان وہ ہے جس نے اللہ کی عظمتوں کو دریافت کر رکھا ہو، جس کے غور و فکر نے اس کو اللہ کی کائناتی ربوبیت کی پہچان کرا دی ہو، جو زمین و آسمان میں اس کی رحمتوں کا تجربہ کر رہا ہو۔ ایسا شخص جب الحمد للہ کہے گا تو اس کا شعور معرفت ان الفاظ کے اندر معانی کا سمندر بھر دے گا۔ الحمد للہ رب العالمین کی تفسیر کرتے ہوئے اس کو محسوس ہوگا کہ انسائیکلو پیڈیا کی وسیع جلدیں بھی اس کی تفسیر کے لیے ناکافی ہیں۔ قرآن کی فنی تفسیر قرآن کی صرف ٹیکنکل تفسیر ہے، اور قرآن کی عارفانہ تفسیر، قرآن کی تخلیقی تفسیر (creative commentary) ہے۔ فنی صلاحیت کے لیے کتابی مطالعہ کافی ہوسکتا ہے، لیکن معرفت ایک خدائی عطیہ ہے۔ معرفت کسی انسان کو صرف خدا کی توفیق سے ملتی ہے، اور خدا کی توفیق اُس انسان کو حاصل ہوتی ہے جس نے خدا کو اپنا واحد کنسرن (sole concern) بنا لیا ہو۔ قرآن فہمی کی شرط قرآن کی سورہ الواقعہ میں، قرآن کے بارے میں یہ آیت آئی ہے: لا يمسه إلا المطهرون (56:79) یعنی قرآن کو صرف وہی لوگ چھوتے ہیں جو پاکیزہ ہیں :

Printed page