دعوت، اجتماعیت
Al-Risala, August 2013
By Maulana Wahiduddin Khan
داعی یا مصلح کا ایک کام یہ ہے کہ وہ لوگوں کو سچائی کی بات بتائے۔ وہ لوگوں کو امر حق سے باخبر اس کام کا تقاضا یہ ہے کہ داعی اور مصلح سچائی کا گہرا علم رکھتا ہو۔ وہ ایسی زبان میں کلام کرے جو لوگوں کے دماغ کو اپیل کرنے والی ہو۔ اس کا دعوتی کلام اپنی زبان اور اپنے اسلوب، دونوں کے اعتبار سے، مخاطب کے لیے پوری طرح قابل فہم ہو۔ اس کے کلام میں وضوح (clairty) ہو۔ اس کا کلام کنفیوژن سے مکمل طور پر پاک ہو۔ دعوت اور اصلاح کی کوشش کے نتیجے میں جب کچھ لوگ اس سے متاثر ہوں اور وہ کم یا زیادہ تعداد میں اس کے گرد اکٹھا ہو جائیں تو اس کے بعد داعی کی ایک اور ذمے داری شروع ہو جاتی ہے، یہ کہ وہ ان متاثر افراد کو قریب کرے اور ان کی اجتماعیت کو برقرار رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرے۔ دعوت اور اصلاح کی اس دوسری ضرورت کو قرآن کی ایک آیت میں بتایا گیا ہے۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: ” (اے رسول) یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم اُن کے لیے نرم ہو۔ اگر تم تند خو اور سخت دل ہوتے تو یہ لوگ تمھارے پاس سے بھاگ جاتے۔
متاثر افراد کے درمیان اجتماعیت کو برقرار رکھنے کے لیے بنیادی صفت یہ ہے کہ داعی لوگوں کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرے، وہ اُن کے ساتھ سخت معاملہ نہ کرے ۔ اس کو ایک لفظ میں، لوگوں کے مزاج کی رعایت کہا جا سکتا ہے۔ جب بھی کچھ لوگ اکٹھا ہوں تو اُن کی طرف سے بار بار ایسی باتیں پیش آتی ہیں جو ناگواری کا پہلو لیے ہوتی ہیں۔ جہاں اجتماعیت ہو، وہاں لازمی طور پر مسائل بھی ہوتے ہیں، کیوں کہ ہر آدمی کا مزاج الگ الگ ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں، اجتماعیت کو برقرار رکھنے کی تدبیر صرف یہ ہے کہ لوگوں کے ساتھ نرمی کا سلوک کیا جائے۔ ان کی ناگوار باتوں کو نظر انداز کیا جائے۔ ایسے پروگرام رکھے جائیں جو لوگوں کے درمیان آپس کے تعلقات بڑھانے والے ہوں۔ مثلاً سادہ طور پر اجتماعی کھانا، وغیرہ۔ دعوت اور اصلاح کے کام میں یہ دوسرا پہلو عملی اعتبار سے بہت زیادہ اہم ہے۔ صداقت کے ساتھ اجتماعی حکمت اگر موجود نہ ہو تو کوئی بڑا کام نہیں کیا جا سکتا۔