Al-Risala · August 2013

فکری مستوی کے مطابق خطاب

Al-Risala, August 2013

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بعثنا معاشر الانبیاء نخاطب الناس، على قدر عقولهم (المقاصد الحسنة للسخاوي، رقم الحديث: 120) یعنی تمام پیغمبروں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ لوگوں کو اُن کے عقلی معیار کے مطابق خطاب کریں۔ اس حدیث میں ’قدرِ عقل‘ سے مراد فکری مستوی (intellectual level) ہے، یعنی لوگوں سے ایسی زبان میں خطاب کرنا جو اُن کے لیے قابلِ فہم ہو اور اُن کے ذہن کو ایڈریس کرے۔ دعوتی خطاب میں مدعو کی یہ رعایت شامل نہ ہو، وہ مطلوب دعوتی خطاب نہیں۔ اس حدیث رسول کا ایک تقاضا یہ ہے کہ داعی اور مدعو کے درمیان اگر ذہنی بُعد (intellectual gap) پیدا ہو جائے تو داعی کو چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو اس طرح تیار کرے کہ مدعو کے ذہن کے اعتبار سے، اس کا کلام ایک مؤثر کلام بن جائے۔

موجودہ زمانے کی نسبت سے ایک بہت بڑا مسئلہ یہ ہے کہ مسلم علما اپنی تعلیم کے اعتبار سے، صرف روایتی ذہن کو خطاب کرنا جانتے ہیں۔ اس بنا پر جدید تعلیم یافتہ طبقہ، علما کی پہنچ سے باہر ہو گیا علما کا روایتی طرزِ خطاب جدید ذہن کو اپیل نہیں کرتا۔ ایسی حالت میں علما کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس طرح تیار کریں کہ وہ جدید ذہن کو خطاب کرنے کے قابل ہو سکیں۔

جدید فکری مستوی کوئی پراسرار چیز نہیں، وہ دراصل عقلی مستوی (rational level) کا دوسرا آج کا انسان صرف اُس کلام سے متاثر ہوسکتا ہے جو جدید عقلی معیار پر پورا اترتا ہو، جو دورِ جدید کے مسلمات سے مطابقت رکھنے والا ہو، جو دینی حقائق کو عقل کے معروف اصولوں پر ثابت شدہ بناتا ہو۔ قدیم اسلوب کو اگر روایتی اسلوب کہا جائے تو جدید اسلوب کو سائنسی اسلوب کہا جائے گا۔ جو بات مذکورہ حدیثِ رسول میں کہی گئی ہے، اس کی اصل خود قرآن میں موجود ہے۔ قرآن کی سورہ ابراہیم میں یہ آیت آئی ہے: وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ

لِيُبَيِّنَ لَهُمْ (14:4) یعنی ہم نے جو پیغمبر بھی بھیجا، اس کی قوم کی زبان میں بھیجا، تاکہ وہ اُن سے اچھی طرح بیان کر دے:

And We have not sent any Messenger except with the language of his people in order that he might make the message clear to them. قرآن کی یہ آیت پیغمبر کے حوالے سے ہر دور کے تمام داعیوں کے لیے ہے۔ بعد کے زمانے میں اپنے ہم عصر مخاطبین کی نسبت سے داعیوں کی بھی وہی ذمے داری ہے جو قدیم زمانے میں اپنے ہم عصر مخاطبین کی نسبت سے پیغمبروں کی ذمے داری تھی۔ قرآن کی اس آیت کے مطابق، دعوت الی اللہ کے سلسلے میں داعی کی ذمے داری صرف یہ نہیں ہے کہ وہ مدعو کی زبان میں بول کر اس کو دعوت کا پیغام اسی کے ساتھ لازمی طور پر وہ چیز بھی ضروری ہے جس کو قرآن کی مذکورہ آیت میں ”تبیین“ کہا گیا ہے۔ تبیین کا مطلب ہے واضح کرنا، بات کو پوری طرح قابلِ فہم بنا دینا۔ اس سے معلوم ہوا کہ داعی کے لیے صرف مدعو کی زبان کا جاننا کافی نہیں، اسی کے ساتھ ضروری ہے کہ وہ مدعو کے مزاج کو سمجھے، وہ مدعو کی ذہنی ساخت کے مطابق، اُس سے خطاب کرے، تاکہ اس کا ذہن ایڈریس ہو سکے۔ اس اعتبار سے دیکھئے تو موجودہ زمانے میں داعی کی ذمے داری بہت بڑھ گئی ہے۔ قدیم زمانہ اگر روایتی اسلوب کا زمانہ تھا تو موجودہ زمانہ سائنٹفک اسلوب کا زمانہ ہے۔ آج کا مدعو کسی بات کو صرف اُس وقت سمجھ پاتا ہے جب کہ اُس بات کو عقلی اسلوب میں مدعو کے سامنے پیش کیا جائے۔ کا تقاضا ہے کہ داعی نہ صرف آج کی زبان سیکھے، بلکہ وہ آج کے ذہن کو پوری طرح سمجھے اور جدید ذہن کو سمجھنے کا یہ کام صرف اُس وقت ممکن ہے جب کہ انتہائی بے تعصبانہ انداز میں جدید افکار کا مطالعہ کیا جائے۔ یہ کام صرف اُس وقت ممکن ہے جب کہ داعی کے دل میں مدعو کے لیے کامل خیر خواہی موجود ہو۔ خیر خواہی موجود نہ ہو تو نہ زبان کا جاننا کافی ہو سکتا ہے اور نہ جدید علوم کا مطالعہ۔ اس معاملے کی ایک مثال یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے تمام علما مستشرقین (orientalists) کے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں۔ وہ مستشرقین کو اسلام کا دشمن اور اسلام کے خلاف سازش کرنے والا

قرار دیتے ہیں، حتیٰ کہ ایک عرب عالم نے مستشرقین کو دورِ جدید کے تین اثر دھوہوں میں سے ایک اثر دِہا قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: أجنحة المكر الثلاثة، تالیف: عبدالرحمن حبنکہ المیدانی) مستشرقین کے بارے میں یہ رائے یقینی طور پر درست نہیں۔ اصل یہ ہے کہ مسلم علما، مغربی مستشرقین کو غیر متعصبانہ ذہن کے ساتھ نہ پڑھ سکے، اس لیے وہ اُن کے کیس کو بھی سمجھنے سے قاصر مستشرقین کے کیس کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اُس فرق کو سمجھا جائے جو مسلم علما اور مستشرقین کے درمیان پایا جاتا ہے۔ مسلم علما دینِ اسلام کو وحی (revelation) کے ظاہر ہ کے تحت دیکھتے ہیں۔ اس کے برعکس مستشرقین اپنے طریق مطالعہ کے تحت دینِ اسلام کو صرف ایک سماجی ظاہر ہ (social phenomenon) یا تاریخی ظاہر ہ (historical phenomenon) کے طور پر طریق مطالعہ کے اس فرق کی بنا پر فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ دونوں کی رائے میں کچھ فرق واقع ہو جاتا ہے۔ یہ فرق یقینی طور پر کسی سازشی ذہن یا بدنیتی کی بنا پر نہیں ہوتا، بلکہ وہ صرف طریق مطالعہ (method of study) میں فرق کی بنا پر ہوتا ہے۔

Printed page