کشتی نوح اور ترکی
Al-Risala, January 2013
By Maulana Wahiduddin Khan
جیسا کہ عرض کیا گیا، حضرت نوح کی کشتی عراق (میسوپوٹامیا) کے علاقہ سے روانہ ہوئی۔ وہ اپنے چاروں طرف مختلف مقامات کی طرف جا سکتی تھی، لیکن اس نے ایک خاص رخ پر اپنا سفر کیا۔ پھر وہ چلتی ہوئی ترکی کے مشرقی سرحد پر واقع ایک پہاڑ کے اوپر ٹھہر گئی۔ ایسا کیوں ہوا ۔ حضرت نوح کی کشتی کے لیے مختلف آپشن (option) موجود تھے، لیکن اس نے صرف ایک ہی آپشن لیا اور وہ ترکی کے پہاڑ کا آپشن تھا۔ ایسا بلا شبہہ خدا کی ہدایت پر ہوا۔ معاملے کو اتفاقی واقعہ کے طور پر نہیں لے سکتے۔ ہمارے لیے لازم ہے کہ ہم اس کو خالق کے منصوبے کے تحت پیش آنے والا واقعہ سمجھیں ۔
اس معاملے پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوح کی کشتی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کو جو رول مطلوب ہے، اس رول کے لئے زیادہ موزوں مقام اپنی بعض خصوصیات کی بنا پر، ترکی اللہ تعالیٰ کو یہ معلوم تھا کہ بعد کے زمانے میں ترکی ایک مسلم ملک بنے گا۔ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ ترکی ایسا ملک ہے جو مشرقی دنیا اور مغربی دنیا کے درمیان جنکشن (junction) کی حیثیت رکھتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ مختلف اسباب سے ترکی میں ساری دنیا کے سیاح کثرت سے آئیں گے۔
اسی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو یہ بھی معلوم تھا کہ مسلم ملکوں کی لمبی فہرست میں ترکی وہ واحد ملک ہوگا جو مذہبی کٹر پن (religious fanaticism) سے خالی ہوگا اور اس بنا پر وہ سب سے زیادہ موزوں ملک ہوگا جہاں سے کشتی نوح کا مطلوب رول ادا کیا جا سکے۔
یہ مطلوب رول کیا ہے۔ وہ بلاشبہہ دعوت ہے، یعنی اللہ کے تخلیقی منصوبہ سے تمام مرد اور عورت باخبر ہو جائیں۔ اس مقصد کے لئے کشتی نوح ایک تاریخی شہادت (historical evidence) کی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ اُس خدائی منصوبہ کی ایک تاریخی یادگار ہے جس کا ظہور حضرت نوح کے ذریعہ کشتی نوح براہ راست طور پر حضرت نوح کی تاریخ کی مادی شہادت ہے اور بالواسطہ طور پر تمام نبیوں کی تاریخ کی مادی شہادت۔
اللہ تعالیٰ کو مطلوب تھا کہ قیامت سے پہلے تمام انسانوں کے سامنے اس بات کا محسوس اعلان ہو جائے کہ انسان کے بارے میں اللہ کا منصوبہ تخلیق کیا تھا۔ کشتی نوح اس خدائی منصوبہ تخلیق (creation plan of God) کی ایک ناقابل انکار شہادت ہے۔ اور مختلف اسباب سے اس شہادت کی ادائیگی کے لئے سب سے زیادہ موزوں مقام ترکی تھا۔
ضرورت ہے کہ تمام دنیا کے مسلمان عموماً اور ترکی کے مسلمان خصوصاً اس خدائی منصوبے کو سمجھیں اور اس منصوبے کی تکمیل کے لئے وہ سارا اہتمام کریں جو اس کے لئے ضروری ہو۔ طور پر وہ کشتی نوح کے مقام کو ایک اعلیٰ درجہ کے ٹورسٹ اسپاٹ (Tourist Spot) کے طور پر ڈولپ (develop) کریں۔ وہ وہاں آمد ورفت کی تمام سہولتیں مہیا کریں۔ پھر وہاں اعلیٰ معیار پر وہ یہ انتظام کریں کہ وہاں تربیت یافتہ افراد موجود ہوں، لائبریری موجود ہو۔ وہاں قرآن کا ترجمہ مختلف زبانوں میں برائے ڈسٹری بیوشن یا برائے فروخت موجود ہو۔ وہاں اس بات کا اعلیٰ انتظام کیا جائے کہ کشتی نوح کے حوالے سے پیغمبرانہ مشن لوگوں کے سامنے اطمینان بخش صورت میں آ سکے۔ کشتی نوح کے ظہور کا یہ مقام صرف ایک کشتی کے ظہور کا مقام نہ رہے، بلکہ وہ پورے معنوں میں جدید ترین معیار کا ایک دعوتی سنٹر بن جائے۔
خدا کے تخلیقی منصوبے کے مطابق، ہماری زمین کے لئے دو سیلاب مقدر تھا— ایک، حضرت نوح کے زمانے کا سیلاب اور دوسرا، وہ جو تاریخِ بشری کے خاتمے پر پیش آئے گا۔ کشتی نوح پہلے سیلاب کے لئے تاریخی یادگار کی حیثیت رکھتی ہے، اور دوسرے سیلاب کے لئے اس کی حیثیت تاریخی ریمائنڈر (historical reminder) کی ہے۔
اکیسویں صدی عیسوی کے ربع اول میں کشتی نوح (دابہ) کا ظہور گویا اس بات کی وارننگ ہے کہ لوگو، تیاری کرو، کیوں کہ آخری طوفان کا وقت قریب آگیا ہے۔
خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اس خدائی منصوبے کو سمجھیں اور اس کی تکمیل کر کے اللہ کے یہاں اجرِ عظیم کے مستحق بنیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہزاروں سال تک برف کے تودے میں دبے رہنے کے بعد کشتی نوح کا ظاہر ہونا صورِ اسرافیل سے پہلے کے دور کا سب سے بڑا واقعہ ہے۔ اس کے بعد اگلا واقعہ صرف صورِ اسرافیل ہوگا جو گویا اس بات کا آخری اعلان ہوگا کہ عمل کرنے کا وقت ختم ہو چکا اور عمل کا انجام پانے کا دور آگیا۔