استشراق کی حقیقت
Al-Risala, August 2013
By Maulana Wahiduddin Khan
استشراق (orientalism) کیا ہے، استشراق اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے، صرف ایک چیز کا نام ہے، وہ یہ ہے کہ نشاۃ ثانیہ (Renaissance) کے بعد مختلف اسباب سے یورپ میں ایک ذہن ابھرا جس کو روح تجسس (spirit of inquiry) کہا جاتا ہے۔ اس روح تجسس نے مزید ترقی پا کر موضوعی طریق مطالعہ (objective method of study) کا عنوان اختیار کیا۔ نشاۃ ثانیہ کے بعد یورپ میں پیدا ہونے والے تمام علوم، خواہ وہ مذہبی ہوں یا سیکولر، وہ اصلاً اسی طریق مطالعہ کی پیداوار ہیں۔ اس طریق مطالعہ کا استعمال بنیادی طور پر دو بڑے میدانوں میں ہوا— ایک، علم فطرت (natural sciences) اور دوسرا، علم انسانیات (humanities)۔ اس طریق مطالعہ سے بہت زیادہ فائدے حاصل ہوئے۔ ہر شعبے میں نئی نئی حقیقتیں سامنے آئیں، تحقیق کے نئے نئے دروازے کھلے، سوالات کے نئے نئے جوابات ملے، زندگی کے لیے نئی نئی رہنمائیاں حاصل ہوئیں۔
علم کے دونوں شعبوں میں ایک بنیادی فرق تھا۔ علمِ فطرت کا میدان فطرت کے اٹل قوانین تھے۔ ممکن تھا کہ علمِ ریاضی (mathematics) کے قطعی فارمولے کو استعمال کرتے ہوئے قطعی نتیجے تک پہنچا جائے اور اگر بالفرض کوئی انسان اپنے اندازے میں غلطی کر جائے تو دوسرا انسان مزید تجزیہ کے ذریعے اس کی تصحیح کر سکے۔ اسی لیے ان علوم کو قطعی علوم (exact sciences) کہا جاتا ہے۔ لیکن علمِ انسانیات، بہ شمولِ مذہب، میں اس کے استعمال کا معاملہ بالکل مختلف تھا۔ اس شعبے میں حتمی نوعیت کا کوئی ریاضیاتی طریقہ قابل حصول نہ تھا، اس لیے یہاں لازمی طور پر یہ ہونا تھا کہ انسانیات کے شعبے میں مطالعہ کرنے والوں کی رائے میں اختلاف پیدا ہو، وہ کسی معاملے میں غلط استنباط (wrong inference) کا شکار ہو جائیں۔ اس بنا پر یہ ممکن ہی نہ تھا کہ انسانیات کے دائرے میں مطالعہ کرنے والا انسان کوئی ایسا اصول وضع کر سکے جس میں سرے سے کوئی غلطی نہ پائی جاتی ہو۔ انسانیات کے مطالعے میں جو غلطیاں پائی جاتی ہیں، وہ اختلافِ رائے کی بنا پر ہیں، نہ کہ سازش یا بدنیتی کی بنا پر۔ یہی استشراق کا معاملہ ہے۔ استشراق کا کیس ایک طریقِ مطالعہ کا کیس ہے، نہ کہ سازش یا بدنیتی کا کیس۔
اس معاملے میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ مستشرقین کے اس ذہن کو مدعو کے ذہن کے طور پر لیا جائے، نہ کہ کسی دشمن کے سازشی ذہن کے طور پر۔ ہر مدعو کی اپنی سوچ ہوتی ہے۔ اس طرح مستشرقین کا کیس بھی مدعو کا کیس ہے اور ان کی بھی اپنی ایک سوچ ہے۔ اگر ہم مستشرقین کے کیس کو مدعو کے کیس کے طور پر لیں تو ہمارے دل میں اُن کے بارے میں وہی خیر خواہی پیدا ہو جائے گی جو ہر مدعو کے لیے ایک داعی کے دل میں ہوتی ہے۔ اس طرح یہ ممکن ہو جائے گا کہ ہم مستشرقین کے ذہن کو غیر جانب دارانہ انداز میں سمجھیں اور اُن سے داعیانہ ذہن کے تحت ڈسکشن کریں اور اُن کو اسلام کا فطری پیغام پہنچائیں۔ مستشرقین بھی انسان ہیں۔ اُن کے اندر بھی وہی فطرت موجود ہے جو دوسرے انسانوں کے اندر پائی جاتی ہے۔ اگر اُن کی فطرت ایڈریس ہو جائے تو اُن کے ساتھ وہی واقعہ پیش آ سکتا ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ (41:34)
تاریخ بتاتی ہے کہ مستشرقین کے معاملے میں اس طرح کے واقعات بار بار پیش آئے ہیں۔ بہت سے ایسے مستشرق ہیں جنھوں نے اسلام کا مطالعہ کیا۔ وہ اسلام کی صداقت سے متاثر ہوئے اور انھوں نے اسلام کے بارے میں بہت سی اعلیٰ کتابیں لکھیں۔ مثلاً ٹامس کارلائل (وفات: 1881)، ٹی ڈبلو آرنلڈ (وفات: 1930)، فلپ کے ہٹی (وفات: 1978)، وغیرہ۔ کچھ اور لوگ ہیں جنھوں نے اسلام کے تفصیلی مطالعے کے بعد باقاعدہ اسلام قبول کر لیا۔ مثلاً ہنگری کے عبد الكريم جرمانوس (وفات: 1979)، وغیرہ۔
مستشرق عام طور پر اُس کو کہا جاتا ہے جو کسی مغربی ملک میں پیدا ہوا ہو اور پھر وہ مشرقی مذاہب کا لیکن تو سیعی طور پر اس فہرست میں ایسے افراد بھی شامل کیے جاسکتے ہیں جو کسی دوسرے مذہب میں پیدا ہوئے ہوں اور پھر وہ مختلف مذاہب کا مطالعہ کریں اور مطالعہ کے بعد اسلام قبول اس دوسری قسم میں بھی بہت سے افراد پائے جاتے ہیں۔ مثلاً ڈاکٹر نشی کانت چٹو پادھیائے، ڈاکٹر نشی کانت چٹو پادھیائے کا مختصر تعارف درج ذیل ہے: