Al-Risala · August 2013

‘Sorry’ is the hardest word to say.

Al-Risala, August 2013

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام میں کچھ چیزیں واضح طور پر حرام قرار دی گئی ہیں۔ یہ گویا وہ چیزیں ہیں جو کہ محرم حرام (declared haram) کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مگر ان کے سوا کچھ چیزیں اور ہیں جو اگرچہ شرعی زبان میں حرام نہیں قرار دی گئی ہیں ، لیکن وہ سخت طور پر غیر مطلوب ہیں۔ انھیں غیر محرم چیزوں میں سے ایک یہ ہے کہ آدمی کھلے طور پر اپنی غلطی کا اعتراف نہ کرے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق ، غلطی کا اعتراف نہ کرنا آدمی کے اندر کمزور شخصیت پیدا کرتا ہے ، اور کمزور شخصیت اور حرام شخصیت کے درمیان صرف قانون کے اعتبار سے فرق ہے ، حقیقت کے اعتبار سے ، دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ اسی طرح سطحیّت ، بے اصولی ، بد ذوقی اور غیر سنجیدگی جیسی چیزیں بھی سب کی سب غیر محرم حرام کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس طرح کی عادتوں کے ذریعے آدمی کے اندر غیر جنتی شخصیت بنتی ہے۔ موجودہ دنیا میں کسی عورت اور مرد کا اصل کام یہ ہے کہ وہ اپنے اندر مزکی شخصیت بنائے ۔ اسی مزکی شخصیت کو آخرت کی زندگی میں جنت میں جگہ ملے گی۔ یہ مزکی شخصیت صرف حرام چیزوں کے پرہیز سے نہیں بنتی ، بلکہ وہ اُس وقت بنتی ہے جب کہ اس معاملے میں انسان اتنا زیادہ حساس ہو جائے کہ وہ غیر محرم حرام سے بھی شدت کے ساتھ پرہیز کرنے لگے (لا يبلغ العبد أن يكون من المتقين، حتى يدع ما لا بأس به حذراً مما به بأس)۔

سوال و جواب میں ایک جدید تعلیم یافتہ مسلمان ہوں۔ میں پانچ وقت نماز پڑھتا ہوں اور روزہ بھی رکھتا ہوں، لیکن یہ تراویح جو ہر سال پڑھی جاتی ہے، اس کا کوئی فائدہ میری سمجھ میں نہیں آتا۔ براہ کرم، اس کی (ایک قاری، الرسالہ، نئی دہلی)

تراویح کوئی رسم نہیں ہے۔ تراویح دراصل، قرآن کا اجتماعی مطالعہ (collective study) تراویح کا مطلب یہ ہے کہ نماز کی حالت میں کھڑے ہو کر قرآن کو سنا جائے اور اس کا اجتماعی مطالعہ تراویح کی بہترین صورت یہ ہے کہ کسی دن قرآن کا جو حصہ پڑھا جانے والا ہو، تمام نمازی پیشگی طور پر قرآن کے اُس حصے کا ترجمہ پڑھیں اور اس کے مضمون کو اپنے ذہن میں بٹھائیں۔ بعد وہ مسجد میں جا کر تراویح پڑھیں۔ اس طرح جب وہ تراویح پڑھیں گے تو وہ قرآن کو متوجہ ہو کر سنیں گے بھی اور اُس پر غور بھی کریں گے ۔ یہ اُن کے لیے قرآن کا ایک اجتماعی مطالعہ ہوگا جس سے انھیں غیر معمولی فائدے حاصل ہوں گے۔ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جب زیادہ لوگ جمع ہو کر اللہ کا ذکر کریں اور اللہ کا چرچا کریں تو اُس وقت وہاں فرشتے بہت زیادہ تعداد میں آجاتے ہیں۔ فرشتوں کی آمد سے اُس مقام پر ایک روحانی ماحول پیدا ہو جاتا ہے۔ تراویح، اسی قسم کا ایک اجتماعی ذکر اور اجتماعی مطالعہ قرآن ہے۔ اُس کو اگر صحیح طور پر انجام دیا جائے تو اُس سے غیر معمولی فوائد حاصل ہوں گے۔ قرآن میں اللہ کا ارشاد ہوا ہے: ﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوْحِ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا (17:85) - آپ " تذکیر القرآن " میں مذکورہ آیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: ”یہاں روح سے مراد وحی الہی ہے۔ عرب کے جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا، وہ وحی والہام کے منکر نہ تھے۔ اس سوال کا رخ ان کے نزدیک،

رسول اللہ کی بے خبری کی طرف تھا، نہ کہ حقیقتِ اپنی بے خبری کی طرف“ (صفحہ: 792)۔ آپ نے روح سے مراد ”وحی الہیٰ “لیا ہے، لیکن صحیح ترین روایات اور مفسرین کی تشریحات کی رو سے یہ تشریح درست مثال کے طور پر ابن کثیر اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ حضرت ابن عباس سے منقول ہے کہ یہودیوں نے پیغمبر سے روح کی بابت سوال کیا کہ اسے جسم کے ساتھ عذاب کیوں ہوتا ہے، وہ تو اللہ کی طرف سے ہے۔ چوں کہ اس بارے میں کوئی وحی آپ پر نہیں اتری تھی، اس لیے آپ نے ان سے کچھ نہ فرمایا۔ آپ کے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور مذکورہ آیت اتری (جلد سوم، صفحہ 220) مولانا عبدالماجد دریابادی نے اپنی تفسیر (تفسیر ماجدی) میں سورہ بنی اسرائیل کی اس آیت کی شرح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: ”روح سے مراد روح انسانی ہے جو انسان کا سبب حیات ہے: في هذه الآية أقوال - أظهرها أن المراد من الروح الذي هو سبب الحياة (کبیر، جلد سوم، صفحہ: 72)۔ امید ہے کہ اس اشکال پر غور فرمائیں گے اور اپنے جواب سے مطلع کریں گے ۔ (شاہد جمیل، کلکتہ)

اس آیت میں ”روح“ سے مراد کیا ہے، اس میں اختلاف ہے (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، تفسیر القرطبی) قرآن میں ایک سے زیادہ مقامات پر روح کا لفظ وحی کے معنی میں آیا ہے۔ اسی کو ہم نے اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو سورہ المومن (40) کی آیت نمبر 15۔ عرض ہے کہ آپ کی فکر انگیز تحریروں کا مطالعہ 1986 سے مسلسل کر رہا ہوں اور دعوتی کام میں بھی مصروف عمل ہوں۔ آپ سے اس خط کے ذریعے کچھ ذہنی اشکالات کا فوری چاہتا ہوں۔ اُمید ہے کہ آپ جواب مرحمت فرما کر میرے ان اشکالات کو دور کریں گے۔

آپ دعوتی نقطہ نظر سے اکثر reasoning پر بہت زور دیتے ہیں، لیکن قرآن میں بہت سارے واقعات beyond reasoning ہیں۔ مثلاً اصحاب کہف کا واقعہ، حضرت سلیمان کے واقعات، حضرت عیسی کے واقعات، وغیرہ۔ میرا سوال یہ ہے کہ اگر ہم اسلام کے تمام حقائق کو

reason-based تصور کریں یا بنانے کی کوشش کریں تو کیا پورے اسلامی ڈھانچے پر شک پیدا نہیں اسی طرح آپ نے لکھا ہے کہ حبِ شدید کا تعلق صرف اللہ سے ہوتا ہے کسی اور سے نہیں۔ (الرسالہ، مئی 2013) اس سے یہ نتیجہ اخذ ہورہا ہے کہ پیغمبر کے ساتھ بھی اگر حب شدید ہو تو یہ مشرکین کا طریقہ ہے اور بالفاظِ دیگر یہ خدا کا حصہ پیغمبر کو دینے جیسا ہے۔ عرض ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے رسول کی اطاعت کو اپنی اطاعت ٹھہرایا (4:80) اور سورہ الفتح میں فرمایا کہ ”جو لوگ تم سے بیعت کرتے ہیں، وہ درحقیقت اللہ سے بیعت کرتے ہیں“ (48:10)۔ تو رسول کے ساتھ محبت درحقیقت اللہ ہی سے محبت کیوں نہیں ہے۔ مزید اللہ کے رسول کے ساتھ حبِ شدید کی ممانعت ہوتی یا یہ مشرکوں کا طریقہ ہوتا تو حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود اس کی بات کیوں کرتے۔ ”میری امت میں مجھ سے شدید محبت رکھنے والے وہ لوگ ہیں جو میرے بعد پیدا ہوں گے۔ اُن میں سے ہر ایک کی خواہش ہوگی کہ کاش، وہ مجھے دیکھتا اور اپنے اہل وعیال اور اپنے مال کو فدا کرتا۔ بخاری اور مسلم میں یہ حدیث درج ہے جس میں اللہ اور رسول کی محبت کو ایک ساتھ بریکٹ کیا ہوا ہے: ”تین چیزیں ایسی ہیں کہ جس شخص میں وہ ہوں، اُسے ایمان کی حلاوت نصیب ہوگی۔ اللہ اور اس کے رسول اُسے تمام ماسوا سے زیادہ محبوب ہوں“ (أن يكون الله ورسوله أحب إليه مما سواهما) آپ نے الرسالہ، مئی 2011 میں وطن کے ساتھ محبت کو ایک قول سے استدلال کرکے اس کو ایمان و اسلام کا تقاضا ثابت کیا ہے۔ اس لحاظ سے رسول کی محبت یا دوسرے لفظوں میں رسول سے شدید قلبی تعلق کیسے مشرکانہ طریقہ بن جاتا ہے جب کہ صحابہ کے واقعات شاہد ہیں کہ ان کو پیغمبر کے ساتھ جو شدید قلبی تعلق تھا، وہ کبھی اللہ کی محبت اور اللہ کی عظمت میں آڑے نہیں آیا۔ آپ نے الرسالہ میں ایک بار لکھا تھا کہ آپ کے عقائد وہی ہیں جو اہل سنت والجماعت کے ہیں، لیکن ”نزول عیسیٰ“ اور ”شفاعت“ کے عقیدے کے متعلق آپ کی رائے مختلف ہے۔ کیا آپ کے ان دونوں عقیدوں پر یہ رائے حتمی ہے یا جس طرح دابۃ الأرض کے بارے میں آپ کی رائے تبدیل ہوگئی ہے، ان دو عقیدوں کے بارے میں بھی آپ کی رائے تبدیل ہوسکتی ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ

براہ کرم ، ان اشکالات کا جواب دے کر میری رہنمائی فرمائیں۔ (الطاف حسین، کشمیر) 1- موجودہ زمانے کو ایج آف ریزن (age of reason) کہا جاتا ہے۔ کے مائنڈ کو ایڈریس کرنے کے لیے ضروری ہے کہ جو بات کہی جائے، وہ عقل پر مبنی تاہم عقلی استدلال کی دو سطحیں ہیں۔ ایک ہے مشاہداتی استدلال اور دوسرا اگر استنباطی استدلال کو شامل کر لیا جائے تو کوئی بھی چیز عقلی استدلال سے باہر آپ نے جن تین چیزوں کا حوالہ دیا ہے، وہ بھی استنباطی استدلال کے دائرے میں پوری طرح شامل ہیں۔ استنباطی استدلال کا مطلب یہ ہے کہ ایسی چیز کے ذریعے استدلال کرنا جو اگرچہ براہِ راست دلیل نہ ہو، لیکن استنباط (inference) یا احتمال (probability) کے ذریعے وہ زیر بحث امر کو مدلل کر رہی ہو۔ تفصیل کے لیے حسب ذیل کتابیں ملاحظہ فرمائیں: The Mysterious Universe by Sir James Jeans- 1930 The Encyclopaedia of Ignorance by Ronald Duncan & Miranda Weston-Smith- 1977 2- حبِ شدید مطلق طور پر صرف ایک ذات سے مطلوب ہے اور وہ اللہ رب العالمین کی ذات دوسروں سے محبت ہونا بھی فطری ہے، لیکن وہ محبت بالذات نہیں ہوتی، بلکہ وہ صرف بالواسطہ محبت ہوتی (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: ماہ نامہ الرسالہ، جون 2008، صفحہ: 3-2) 3- اہل سنت والجماعت سے وابستگی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کسی مسئلے پر اختلاف نہ ہو۔ والجماعت سے وابستہ ہونے کے باوجود رائے کا اختلاف فطری ہے۔ مثلاً چاروں فقہا یقینی طور پر اہل سنت والجماعت میں شامل ہیں، لیکن اُن کے درمیان بہت سے مسائل میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ ادارہ المورد (لاہور، پاکستان) کی اردو اور انگریزی مطبوعات (میزان، البیان، وغیرہ) گڈ ورڈ بکس میں دستیاب ہیں۔ ان کو یہاں سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

Printed page