عالمی دعوت کی پیشین گوئی
Al-Risala, January 2013
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا يبقى على ظهر الأرض بيت مدر ولا وبر إلا أدخله الله كلمة الإسلام، بعزّ عزيز أو ذلّ ذليل (مسند احمد، رقم الحدیث: 24215) یعنی زمین کے اوپر کوئی گھر یا خیمہ نہیں بچے گا، مگر اللہ وہاں اسلام کا کلمہ داخل کر دے گا، عزت والے کو عزت کے ساتھ اور ذلت والے کو ذلت کے ساتھ: The day will come when the word of God will enter in every home, big or small of the globe, willingly or اس حدیث میں یہ پیشین گوئی کی گئی ہے کہ مستقبل میں ایک ایسا وقت آئے گا جب یہ ممکن ہو جائے کہ خدا کا کلمہ (word of God) زمین پر بسنے والے تمام انسانوں تک پہنچ جائے۔ دعوت کا یہ واقعہ کوئی پراسرار واقعہ نہیں ہے۔ فطرت کے قانون کے مطابق، یہ واقعہ انسانوں کے ذریعہ
معروف وسائل کے تحت انجام پائے گا، نہ کہ فرشتوں کے ذریعے یا کسی طلسماتی طریقے کے ذریعے۔ اللہ کو جب کوئی کام مطلوب ہوتا ہے تو اُس کی طرف سے موافق حالات فراہم کئے جاتے ہیں، مگر کوئی اعلان نہیں کیا جاتا۔ یہ انسان کی ذمے داری ہوتی ہے کہ وہ اپنی عقل کو استعمال کرکے فطرت کے اشارے کو سمجھے اور اس کو مطلوب مقصد کے لیے استعمال کرے۔ اس کی ایک مثال بارش کا معاملہ بارش اللہ کی طرف سے ہوتی ہے، لیکن یہ کسان کا کام ہے کہ وہ بارش کے خاموش پیغام کو سنے اور اس کو زراعت کے لیے استعمال کرے۔
یہی معاملہ دعوت کا ہے۔ موجودہ زمانہ بالکل نیا زمانہ ہے۔ اس زمانے میں بہت سی ایسی چیزیں وجود میں آئی ہیں جو انتہائی حد تک دعوت الی اللہ کے لیے موافق ہیں۔ مثلاً مذہبی آزادی، پرنٹنگ پریس، سیاحت اور دوسرے مقاصد کے تحت انسانوں کی عالمی حمل و نقل، جدید کمیونیکیشن، پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے ذرائع، اسفار کی سہولتیں، وغیرہ۔
اس قسم کے واقعات خاموش زبان میں اعلان کر رہے ہیں کہ اللہ کے ماننے والو، اُٹھو، حدیث میں جس عالمی دعوت کی پیشین گوئی کی گئی تھی، اس کے مواقع آخری حد تک کھل چکے ہیں۔ ان مواقع کو ان مواقع کو استعمال کرتے ہوئے اللہ کے پیغام کو تمام انسانوں تک پہنچادو، تا کہ زمین پر بسنے والا کوئی بھی مرد یا عورت اللہ کے تخلیقی منصوبہ (creation plan) سے بے خبر نہ رہے۔ قدیم زمانے میں کوئی بڑا کام حکومت کی حمایت کے بغیر نہیں ہوسکتا تھا، کیوں کہ تمام مواقع حکومت کے قبضے میں ہوتے تھے۔ موجودہ زمانے میں یہ ہوا ہے کہ مواقع (opportunities) کو سیاسی اقتدار سے الگ کر دیا گیا ہے۔
قدیم زمانہ اگر حکومت کا زمانہ تھا تو موجودہ زمانہ اداروں (institutions) اور آرگنائزیشن (organizations) کا زمانہ ہے۔ اب اداروں اور تنظیموں کے ذریعے زیادہ بڑے پیمانے پر وہ سب کیا جاسکتا ہے جو حکومت کے ذریعے صرف جزئی طور پر متوقع ہوتا تھا۔ اسی طرح آج یہ ممکن ہو گیا ہے کہ قدیم پولیٹکل ایمپائر سے بھی زیادہ بڑے پیمانے پر دعوہ ایمپائر قائم کیا جائے ۔ قدیم حالات میں
پولیٹکل ایمپائر صرف محدود جغرافی علاقہ میں قائم ہو سکتا تھا۔ جدید حالات میں ای ایمپائر (e-empire) کسی رکاوٹ کے بغیر پورے کرہ ارض کی سطح پر قائم کیا جا سکتا ہے۔ یہ عالمی امکانات بلا شبہ صرف دعوت الی اللہ کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔