Al-Risala · September 2013

اہل سنت والجماعت

Al-Risala, September 2013

By Maulana Wahiduddin Khan

’’اہل سنت والجماعت‘‘ ایک معروف اصطلاح ہے، لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ یہ اصطلاح قرآن یا حدیث میں کہیں موجود نہیں ہے۔ یہ بھی نہیں معلوم کہ یہ اصطلاح کب بنی اور کس نے بنائی۔ کسی مستند کتاب میں اس کی واضح تعریف (definition) نہیں ملتی۔ جتنا زیادہ مشہور ہے، اتنا ہی زیادہ وہ غیر واضح بھی ہے۔

’’اہل سنت والجماعت‘‘ کی محفوظ تشریح یہ ہو سکتی ہے کہ یہ اصطلاح دو مختلف روایتوں سے ماخوذ پہلی روایت وہ ہے جس میں علیکم بسنتي (سنن أبي داود، رقم الحدیث: 3993) کے الفاظ ہیں اور دوسری روایت وہ ہے جس میں علیکم بالجماعة (مسند أحمد، رقم الحديث: 22541) کے الفاظ آئے ہیں۔ ان روایات کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو مخاطب کرتے ہوئے دو الگ الگ نصیحت کی۔ آپ نے فرمایا کہ تم میری سنت کو لازم پکڑو اور یہ کہ تم ہمیشہ جماعت کو لازم پکڑو۔

’’اہل سنت والجماعت‘‘ کی اصطلاح میں اگرچہ دونوں تقاضوں کو واؤ عطف کے ذریعے ایک کر دیا گیا ہے، لیکن غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں الفاظ دو مختلف تقاضوں کو بتاتے ہیں۔ بسنتي سے مراد انفرادی اتباع سنت ہے اور علیکم بالجماعة سے مراد یہ ہے کہ اجتماعی معاملات میں جماعت (اکثریت) کا ساتھ دیا جائے۔ اہل سنت والجماعت کے ان دو طرفہ تقاضوں میں دوسرا فرق یہ ہے کہ علیکم بسنتي سے مراد نظری اتباع ہے اور علیکم بالجماعة سے مراد عملی اتباع۔ کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اصولی اور اعتقادی اعتبار سے، جس بات کو درست سمجھے، اپنی ذات کی نسبت سے اپنی انفرادی زندگی میں وہ اُس پر پوری طرح قائم ہو جائے۔ یہ دین کا وہ پہلو ہے جس پر ایک فرد کی نجات کا اِس اعتبار سے، علیکم بسنتي کا لفظ ہر مومن کے انفرادی دینی فریضے کو بتا رہا ہے، جب کہ علیکم بالجماعة کی اہمیت عملی (practical) سبب سے ہے، نہ کہ اعتقادی سبب سے۔

اسلام کا خطاب اصلاً فرد سے ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ : انما الأعمال بالنيات (صحیح البخاري، رقم الحديث : 1) یعنی عمل کا دارومدار نیت پر ہے۔ ایک انفرادی چیز ہے۔ نیت کا تحقق ایک فرد کے اندر ہوتا ہے۔ ہر فرد کا یہ دینی فریضہ ہے کہ وہ اللہ کے دین کو پوری دیانت (honesty) کے ساتھ اپنی ذاتی زندگی میں اختیار کرے ۔ اس معاملے میں کسی فرد کے لیے مصالحت (compromise) کا طریقہ اختیار کرنا جائز نہیں۔ ذاتی دین داری کے معاملے میں، کسی فرد سے، معیار سے کم تر کوئی چیز قبول نہیں کی جائے گی۔ لیکن اجتماعی زندگی کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ اجتماعی زندگی میں معیاری عمل ممکن نہیں۔ میں اگر غیر مصالحانہ رویہ (uncompromising attitude) مطلوب ہے تو اجتماعی زندگی میں اس کے برعکس مصالحانہ رویہ (compromising attitude) ایک مطلوب چیز بن جاتا ہے۔ اجتماعی زندگی میں مصالحانہ رویے کی حکمت یہ ہے کہ اگر اجتماعی معاملے میں غیر مصالحانہ رویہ اختیار کیا جائے تو اس سے عملاً خیر کے بجائے شر پیدا ہوگا، جیسا کہ عبداللہ بن مسعود نے فرمایا : الخلاف شر (البيهقي، رقم الحديث : 5004) یعنی عملی معاملے میں اختلافی روش اختیار کرنا بہ اعتبار نتیجہ شر کا موجب ہوتا ہے۔ اہل سنت والجماعت کوئی اعتقادی کلمہ نہیں، وہ زیادہ سے زیادہ ایک حکمت کی بات ہے۔ بتاتی ہے کہ ایک شخص کو محفوظ طور پر دینی زندگی کس طرح گزارنا چاہئے۔ وہ محفوظ طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنی ذات کے معاملے میں آخری حد تک معیار پر قائم رہے، وہ سنتِ رسول کو اپنا ماڈل بنائے۔ لیکن جہاں تک اجتماعی زندگی کی بات ہے، اس میں وہ عملی (practical) بن جائے۔ وہ عملی تقاضے کو ملحوظ رکھتے ہوئے اکثریت کے ساتھ شامل رہے۔ اسی بات کو دوسرے الفاظ میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ آدمی کو اپنے ذاتی معاملے میں آئیڈیلٹ (idealist) ہونا چاہئے اور اجتماعی معاملے میں پریگمیٹک (pragmatic) ۔ والجماعت کی اصطلاح کوئی اعتقادی اصطلاح نہیں، وہ قرآن وسنت کی کسی متعین تعلیم پر مبنی نہیں، وہ صرف عمومی تجربے پر مبنی ہے۔ اس کا تعلق نہ عقیدے سے ہے اور نہ نجات سے۔ وہ صرف ایک کنوینینٹ اصطلاح (convenient term) ہے جو بعد کے زمانے میں رائج ہوئی۔ (20 جولائی 2013)

Printed page