Al-Risala · September 2013

دین اور شریعت

Al-Risala, September 2013

By Maulana Wahiduddin Khan

دین اور شریعت بظاہر یکساں طور پر اسلام کا حصہ ہیں، مگر دونوں کو یکساں طور پر برابر کا حصہ سمجھنا قرآن میں واضح طور پر دونوں کے درمیان فرق کیا گیا ہے۔ یہ فرق ایک حقیقت پر مبنی ہے۔ اس فرق کو نہ سمجھنے کی وجہ سے اسلام کے بارے میں غیر ضروری قسم کی غلط فہمیاں ہوتی ہیں۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ”الدین“ تمام نبیوں کے درمیان ہمیشہ ایک رہا ہے۔ معاملے میں تمام انبیا کی تعلیمات کے درمیان کوئی فرق نہیں (42:13)۔ دوسری طرف، قرآن میں بتایا گیا ہے کہ شریعت کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ قرآن کے مطابق، مختلف امتوں کو مختلف شریعتیں دی گئیں: لكل جعلنا منكم شرعة ومنهاجاً (5:48)۔

یہاں یہ سوال ہے کہ دین اور شریعت میں فرق کیوں۔ دین اور شریعت دونوں جب خدا کی طرف سے ہیں تو بظاہر اُن کے درمیان فرق نہ ہونا چاہیے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ دین (بنیادی تعلیمات) کا تعلق حقیقت واقعہ سے ہے، اور شریعت (قانون) کا تعلق زمانی حالات سے۔ حقیقت واقعہ میں کبھی تبدیلی نہیں ہوتی ، اس لیے جس چیز کا تعلق حقیقت واقعہ سے ہو، وہ ہمیشہ اور ہر حال میں یکساں رہے گی۔ لیکن زمانی حالات کا تعلق انسانی سماج سے ہے۔ انسانی سماج میں تغیر ہوتا رہتا ہے، اس لیے یہ ضروری ہے کہ شریعت میں زمانے کی رعایت ہو۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو شریعت اور حالات میں ٹکراؤ پیدا ہو جائے گا اور اصل مقصد حاصل نہ ہو سکے گا۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اس معاملے کی ایک مثال یہ ہے کہ آپ کے زمانے میں یمن کے ایک شخص مسیلمہ (وفات: 633ء) نے نبوت یا شریک نبوت ہونے کا دعوی کیا۔ اپنے دو سفیروں کو مدینہ بھیجا۔ انھوں نے مسیلمہ کی طرف سے آپ کو یہ پیغام دیا کہ آپ مسیلمہ کی نبوت کو تسلیم کر لیں۔ پیغمبر اسلام نے ان سفیروں سے پوچھا کہ اس معاملے میں خود تمھارا کیا خیال ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس معاملے میں ہم مسیلمہ کے ساتھ ہیں۔ اس کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ:

لو لا أن الرسل لا تقتل لضربت أعناقكمما (مسند احمد 3/487) یعنی اگر ایسا نہ ہوتا کہ سفیر قتل نہ کیے جاتے تو میں تم دونوں کو قتل کر دیتا۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اس واقعے سے ایک اصول اخذ ہوتا ہے، وہ یہ کہ حقوقِ انسانی (human rights) کے معاملے میں اسلام کا اصول بھی وہی ہوگا جو بقیہ دنیا کا متفقہ اصول ہوگا۔ مسلّمہ حقوقِ انسانی کے معاملے میں اسلام بین الاقوامی اصولوں (international norms) کا پابند موجودہ زمانے کی نسبت سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ موجودہ زمانے میں اقوام متحدہ میں مختلف قوموں نے جو حقوقِ انسانی کا منشور (universal declaration of human rights) متفقہ طور پر منظور کیا ہے، وہی عملاً اسلام کا بھی اصول ہے۔

قدیم زمانے میں انسانی حقوق کے معاملے میں مختلف قسم کے فرق ہوتے تھے۔ مثلاً اپنے مذہب والوں کے لیے دوسرا قانون اور دوسرے مذہب والوں کے لیے دوسرا قانون، وغیرہ۔ اس قسم کے تمام فرق موجودہ زمانے میں اصولاً ختم کردیے گئے ہیں۔ اب عالمی سطح پر یہ مان لیا گیا ہے کہ حقوقِ انسانی کے معاملے میں تمام انسان، خواہ وہ کسی بھی گروہ سے تعلق رکھتے ہوں، وہ سب ایک ہی قانون کے ماتحت ہوں ایسی حالت میں موجودہ زمانے میں اسلام کا قانون بھی وہی ہوگا جو بقیہ دنیا کا قانون ہے۔ حقوقِ انسانی (human rights) کا تعلق دین سے نہیں ہے، بلکہ شریعت سے ہے۔ طرح پچھلے زمانے میں انسانی حالات کے اعتبار سے، مختلف شریعتیں دی گئی ہیں، اسی طرح موجودہ زمانے میں اگر انسانی حالات بدل گئے ہیں تو شریعت میں بھی اس کے مطابق تبدیلی عین جائز ہوگی۔ اس معاملے میں قدیم وجدید کے درمیان صرف یہ فرق ہوگا کہ قدیم زمانے میں شریعت میں یہ تبدیلی پیغمبر کے ذریعے ہوتی تھی اور اب موجودہ زمانے میں شریعت کی یہ تبدیلی علما کے اجتہاد کے ذریعے انجام پائے گی۔ قدیم فقہ کے تحت حقوقِ انسانی کے معاملے میں ایک قانونی نظام بنایا گیا تھا۔ قانونی نظام کو عام طور پر شریعتِ اسلامی کا اٹل حصہ سمجھا جاتا ہے، مگر ایسا سمجھنا درست نہیں۔ ہے کہ موجودہ زمانے میں اس قسم کے فقہی قوانین اُسی طرح قابلِ تغیر ہیں جس طرح قرآن کے

بیان کے مطابق، شریعتیں قابل تغیر ہوا کرتی ہیں۔ خود فقہا نے اس اصول کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے: تتغير الأحكام بتغير الزمان والمكان - مثلاً اِسی اصول کی بنا پر موجودہ زمانے میں جزیہ کا حکم ساقط ہو جائے گا اور ہر مذہبی گروہ کے اوپر بلا امتیاز ایک ہی قسم کا ٹیکس نافذ کیا جائے گا۔ اِسی طرح قدیم فقہی تقسیم کے مطابق، دار الاسلام اور دار الحرب کا فرق ختم کر دیا جائے گا اور تمام ممالک یکساں قسم کے ملکی قوانین کے تابع قرار پائیں گے، وغیرہ۔

اسلام میں دین اور شریعت کا فرق کوئی سادہ فرق نہیں، یہ فرق ایک اہم حکمت پر مبنی ہے۔ حکمت یہ ہے کہ اگر دونوں کو ایک دوسرے سے الگ نہ کیا جائے تو اسلام کا وہ اصل نشانہ ہی پورا نہ ہو سکے گا جو کہ اسلام کا اصل مقصود ہے۔ دین اور شریعت کے درمیان فرق کی حکمت یہی ہے کہ اسلام کا اصل مقصد فوت نہ ہونے پائے۔ اسلام کا اصل مقصد کسی قسم کے قانون کا نفاذ نہیں ہے، بلکہ انسانی شخصیت کی تعمیر اسلام کا اصل نشانہ ہے۔ اسلام کا اصل نشانہ اسلامائزیشن آف سسٹم (Islamization of system) نہیں، اسلام کا اصل نشانہ اسلامائزیشن آف مین (Islamization of man) ہے۔ اسلام کا پورا نظام اسی حکمت کے تحت ترتیب دیا گیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ انسانی سماج کے حالات بدلتے رہتے ہیں۔ ہر دور کے انسان کچھ رواج اور قانون میں اس طرح کنڈیشنڈ (conditioned) ہو جاتے ہیں کہ وہ اس کے خلاف سوچ نہیں سکتے۔ ان رواجوں اور ان قوانین کے خلاف لڑنا عملاً پورے سماج سے لڑنے کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ طرح سماج کے اندر امن کا وہ معتدل ماحول ختم ہو جاتا ہے جس میں کسی انسان کو اپنی شخصیت کی مطلوب تعمیر کا موقع مل سکے۔ یہی حکمت ہے جس کی بنا پر اسلام میں یہ طریقہ مقرر کیا گیا کہ زمانے کے قانونی ڈھانچے کو بزور بدلنے کی کوشش نہ کی جائے، بلکہ اس معاملے میں، موجود حالات سے عدم تعرض کے طریقے کو اختیار کیا جائے، تاکہ اسلام کا اصل نشانہ، دعوت اور تربیت اور تزکیہ، کسی رکاوٹ کے بغیر اس معاملے میں، اسلام کے اصول کو ایک لفظ میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ — دین کے معاملے میں، آڈیئل ازم، اور سماجی قانون کے معاملے میں اسٹیٹس کوازم-

Printed page