قرآن کا حوالہ
Al-Risala, September 2013
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن تاریخ تہذیب کی کتاب نہیں، لیکن قرآن میں دونوں قسم کی تہذیبوں کے بارے میں اشاراتی حوالے موجود ہیں۔ قرآن کی آیتوں میں تدبر کر کے ان کو سمجھا جا سکتا ہے۔ جہاں تک مادی تہذیب کی بات ہے، اس کا اشاراتی حوالہ قرآن کی سورہ الروم میں ان الفاظ میں آیا ہے: أَوَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۚ كَانُوا أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَأَثَارُوا الْأَرْضَ وَعَمَرُوهَا أَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوهَا وَجَاءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ ۖ فَمَا كَانَ اللَّهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلَكِنْ كَانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ (30:9) یعنی کیا وہ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ وہ دیکھتے کہ کیا انجام ہوا اُن لوگوں کا جو اُن سے پہلے تھے ۔ وہ ان سے زیادہ طاقت رکھتے تھے۔ انھوں نے زمین کو جوتا اور اس کو اُس سے زیادہ آباد کیا جتنا انھوں نے آباد کیا ہے۔ اور ان کے پاس ان کے رسول واضح نشانیاں لے کر آئے۔ پس اللہ اُن پر ظلم کرنے والا نہ تھا، مگر وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کر رہے تھے۔
قرآن کی اس آیت میں ایک خصوصی واقعے کے حوالے سے ایک عمومی قانون کو بتایا گیا ہے۔ اس قانون کا اشاراتی ذکر آیت کے ان الفاظ میں ہے: وعمروہا أكثر مما عمروها۔ انطباق کے اعتبار سے، اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ انسان ہر دور میں اپنی بڑھی ہوئی سرگرمیوں کے ذریعے
اپنی زندگی کی مادی تعمیر کرتا رہا ہے۔ ان سرگرمیوں کے ذریعے ارتقائی طور پر جو محسوس واقعہ ظہور میں آیا، اُسی کا نام مادی تہذیب ہے۔ اس کے مقابلے میں سرگرمیوں کا دوسرا کلچر جو فرد کی سطح پر جاری رہا، وہی وہ واقعہ ہے جس کو ہم نے روحانی تہذیب کا نام دیا ہے۔ جس طرح مادی تہذیب کا تسلسل تاریخ میں برابر جاری رہا اور جس کا اشارہ قرآن کی مذکورہ آیت میں موجود ہے، اِسی طرح روحانی تہذیب کا غیر مرئی تسلسل بھی تاریخ میں برابر جاری رہا۔ روحانی تہذیب کے تسلسل کا اشاراتی حوالہ قرآن کی سورہ المومنون کے ان الفاظ میں ملتا ہے: ثُمَّ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَا (23:44) یعنی پھر ہم نے لگاتار اپنے رسول بھیجے: