Al-Risala · September 2013

اسپرچول تہذیب کے اجزا

Al-Risala, September 2013

By Maulana Wahiduddin Khan

مصر کے بادشاہوں نے 2300-2700 قبل مسیح کے درمیان مصر میں بڑی بڑی سنگی عمارتیں بنائیں جو اہرام (pyramids) کے نام سے مشہور ہیں۔ ہندوستان کے بادشاہ شاہ جہاں نے 1630-48 عیسوی کے درمیان آگرہ (یوپی) میں تاج محل بنوایا۔ اس طرح کی ہزاروں عمارتیں ہیں جو مادی تہذیب کے تاریخی مظاہر کے طور پر دنیا کے مختلف ملکوں میں دکھائی دیتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اسپرچول تہذیب کے تحت جو واقعات ظہور میں آئے، اُن کا ریکارڈ کیا وہ اسی لیے تھے کہ وقتی ظہور کے بعد وہ معدوم ہو جائیں اور ہمیشہ کے لیے ختم یہ تاریخ انسانی کا سب سے بڑا سوال ہے۔

مثال کے طور پر آدم کے دو بیٹوں ہابیل اور قابیل کے درمیان ایک معاملے پر نزاع ہوئی۔ قابیل سخت غصہ ہو گیا۔ اس نے کہا کہ میں تم کو مار ڈالوں گا۔ اس کے جواب میں ہابیل نے کہا: لِئِنْ بَسَطْتَ إِلَيَّ يَدَكَ لِتَقْتُلَنِي مَا أَنَا بِبَاسِطٍ يَدِيَ إِلَيْكَ لِأَقْتُلَكَ ۖ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ (5:28) یعنی اگر تم مجھے قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ اٹھاؤ گے تو میں تم کو قتل کرنے کے لیے تم پر اپنا ہاتھ نہیں اٹھاؤں گا۔ میں ڈرتا ہوں اللہ سے جو سارے جہان کا رب ہے۔ چناں چہ ہابیل قتل ہو گیا، مگر اس نے اپنے بڑے بھائی قابیل پر ہاتھ نہیں اٹھایا۔ ہابیل کے سینے میں خوفِ خدا کا جو طوفان آیا ہوگا، وہ بلاشبہ اہرام مصر اور تاج محل جیسی عمارتوں سے

بے شمار گنا زیادہ بڑا واقعہ تھا۔ فرشتوں نے یقیناً اس کو ریکارڈ کیا، لیکن انسان کی آنکھوں نے کبھی اس واقعے کو نہیں دیکھا۔ کیا یہ عظیم ربانی واقعہ صرف اس لیے تھا کہ وہ ایک شخص کے دل میں پیدا ہو اور ہمیشہ کے لیے معدوم ہو جائے۔

اسی طرح چار ہزار سال پہلے جب پیغمبر ابراہیم نے ایک خدائی منصوبے کے تحت اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل کو عرب کے صحرا میں بسادیا۔ اُس وقت ہاجرہ نے پیغمبر ابراہیم سے پوچھا کہ کیا خدا نے آپ کو ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔ انھوں نے جواب دیا کہ ہاں۔ اس کے بعد ہاجرہ کی زبان سے نکلا: إذن لا يضيعنا (پھر اللہ ہم کو ضائع نہیں کرے گا)۔ صحرا کے اس بے آب و گیاہ ماحول میں جب ہاجرہ نے یہ الفاظ کہے ہوں گے، اُس وقت ان کے دل میں اعتماد علی اللہ کا ایک عظیم کیفِیاتی طوفان بر پا ہوا ہوگا۔ یہ طوفان بلاشبہ مصر کے اہرام اور آگرہ کے تاج محل سے بے شمار گنا زیادہ بڑا واقعہ تھا۔ یہ واقعہ بلاشبہ فرشتوں کے ریکارڈ میں آیا، لیکن انسان کے لیے وہ ایک ناقابلِ ذکر واقعہ بنارہا۔ کیا یہ عظیم ربانی واقعہ اسی لیے پیش آیا کہ وہ ایک فرد کے دل میں برپا ہو، اس کے بعد وہ ہمیشہ کے لیے معدوم ہو جائے۔ اسی طرح ایک واقعہ وہ ہے جو تقریباً تین ہزار سال پہلے حضرت موسیٰ کے زمانے میں پیش آیا۔ قرآن میں اس واقعے کی تفصیل دیکھی جاسکتی ہے۔ اُس وقت کے بادشاہ فرعون نے مصر کے ماہر جادوگروں کو بلایا، تاکہ وہ حضرت موسیٰ کے معجزے کا مقابلہ کریں۔ طے شدہ منصوبے کے مطابق، ایک میدان میں اہل مصر بڑی تعداد میں اکٹھا ہوئے۔ وہاں جادوگروں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں میدان میں پھینکیں۔ لوگوں کو نظر آیا کہ وہ رسیاں اور لاٹھیاں سانپ بن کر میدان میں چل رہی ہیں۔ اُس وقت حضرت موسیٰ نے اپنا عصا میدان میں ڈالا۔ حضرت موسیٰ کا عصا اژدہا بن کر جادوگروں کے سحر کو نگل گیا۔ جادوگروں نے جب اس واقعے کو دیکھا تو اُن پر ظاہر ہو گیا کہ اُن کا کیس جادو کا کیس تھا، لیکن موسیٰ کا کیس اس سے مختلف کیس ہے۔ وہ رب العالمین کے پیغمبر کا کیس ہے۔ اس صداقت کے ظاہر ہوتے ہی جادوگروں نے اپنی غلطی کو مان لیا۔ وہ پکار اٹھے: آمَنَّا بِرَبِّ هَارُونَ وَمُوسَى فرعون جادوگروں پر سخت غضبناک ہوا۔ اس نے ان کے قتل کا حکم دے دیا، لیکن

جادو گر اپنے فیصلے پر قائم رہے۔ اس کے بعد جو واقعہ پیش آیا، اس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: قَالُوا لَنْ نُّؤْثِرَكَ عَلَى مَا جَاءَنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالَّذِي فَطَرَنَا فَاقْضِ مَا أَنْتَ قَاضٍ إِنَّمَا تَقْضِي هَذِهِ الْحَيُوةَ الدُّنْيَا (20:72) یعنی جادو گروں نے کہا کہ ہم تجھ کو ہرگز اُن دلائل پر ترجیح نہیں دیں گے جو ہمارے پاس آئے ہیں اور اُس ذات پر جس نے ہم کو پیدا کیا ہے۔ تم کو جو کچھ کرنا ہے، اُسے کرڈالو- تم جو کچھ کر سکتے ہو، اِسی دنیا کی زندگی کا کر سکتے ہو۔ مصر کے جادو گروں نے یہ جملہ موت کی قیمت پر کہا تھا۔ اُس وقت اُن کے دل میں سچائی کا جو طوفان بر پا ہوا ہوگا، وہ بلاشبہہ اہرام مصر اور تاج محل جیسی سنگی عمارتوں سے بے شمار گنا زیادہ کیا سچائی کا یہ طوفان صرف اس لیے تھا کہ وہ کچھ انسانوں کے سینے میں وقتی طور پر بر پا ہو اور پھر ہمیشہ کے لیے اس کا وجود مٹ جائے۔

اسی طرح کا ایک واقعہ وہ ہے جو صحیح البخاری کی ایک روایت میں بتایا گیا ہے۔ زمانے میں بنی اسرائیل کے تین صالح افراد ایک سفر پر روانہ ہوئے۔ درمیان میں بارش آگئی۔ چناں چہ انھوں نے پہاڑ کے ایک غار میں پناہ لی۔ اُس وقت وہاں لینڈ سلائڈ (landslide) کا ایک اس کی وجہ سے غار کا منہ بند ہو گیا۔ یہ پتھر اتنا بڑا تھا کہ تینوں آدمی مل کر بھی اس کو ہٹا نہیں اُس وقت انھوں نے طے کیا کہ ہر ایک اپنے کسی خاص عمل کے واسطے سے دعا کرے۔ چناں چہ انھوں نے دعا کی اور پتھر ہٹ گیا، پھر وہ لوگ غار سے باہر نکل آئے۔ ان تینوں میں سے ایک شخص وہ تھا جس نے دعا کرتے ہوئے کہا کہ اے اللہ، میں مزدوروں سے کام لیا کرتا تھا۔ ایک دن ایسا ہوا کہ ایک مزدور کسی بات پر غصہ ہو گیا۔ وہ اپنی مزدوری لیے بغیر چلا گیا۔ کے بعد میں نے اس کی مزدوری کی رقم سے ایک گائے خریدی۔ اس گائے میں اتنی برکت ہوئی کہ دھیرے دھیرے گائے اور بکری اور اونٹ کا ایک بہت بڑا گلہ اکٹھا ہو گیا۔ ایک عرصے کے بعد وہ مزدور دوبارہ آیا اور اپنی مزدوری کا تقاضا کیا۔ اُس وقت میرے گھر کے سامنے کا میدان جانوروں کے گلے سے بھرا ہوا تھا۔ میں نے کہا کہ یہ سب تمھارا ہے، اس کو لے جاؤ۔ مزدور نے کہا کہ مجھ سے استہزا نہ کرو۔ میں نے کہا کہ

یہ استہزا کی بات نہیں، یہ سب تمھاری مزدوری کی رقم کا نتیجہ ہے۔ اس کے بعد وہ مزدور ان تمام جانوروں کو ہنکا کر لے گیا اور ایک بھی نہ چھوڑا۔ میں نے مزدور کو نہیں روکا اور اُس پر راضی رہا۔ أحاديث الأنبياء، حديث الغار، رقم : 3465)

اُس آدمی نے جب یہ فیصلہ کیا تو اُس وقت اس کے سینے میں دیانت داری (honesty) کا ایک عظیم طوفان برپا ہوا ہوگا۔ یہ واقعہ بلا شبہہ اہرامِ مصر اور تاج محل جیسی سنگی عمارتوں سے بے حساب گنا زیادہ بڑا کیا یہ واقعہ محض اس لیے ہوا کہ وہ صرف ایک شخص کے سینے میں برپا ہوا اور پھر ہمیشہ کے لیے معدوم اس طرح کے واقعات جو افراد کی زندگی میں داخلی طور پر پیش آئے، ایسے کسی واقعے کو اُس فرد نے تو یقیناً جانا جس کو اس کا تجربہ پیش آیا تھا، لیکن اس کی اپنی ہستی کے باہر اُس کا کوئی وجود دکھائی نہیں دیا، وہ صرف غیر مرئی قسم کا ایک ذاتی احساس بن کر رہ گیا۔ ہر عورت اور مرد شعوری یا غیر شعوری طور پر چاہتے ہیں کہ اُن کے داخلی احساسات خارجی واقعہ بن کر نمایاں ہوں۔ جو کچھ انھوں نے وقتی طور پر محسوس کیا تھا، وہ اُسی طرح تاریخ کا مستقل حصہ بن جائے جس طرح دوسری بہت سی چیزیں تاریخ کا مستقل حصہ بنی ہوئی ہیں۔ یہ ایک سوال ہے اور قرآن کے مطالعے سے اس کا واضح جواب معلوم ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دراصل مادی تہذیب ہے جو قیامت کے دن معدوم ہو جائے گی اور جہاں تک روحانی تہذیب کا سوال ہے، وہ اپنی پوری صورت میں ظاہر ہو کر ابدی طور پر اپنا جلوہ دکھاتی رہے گی۔ دو مختلف انجام قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ مادی تہذیب کی ترقیاں صرف وقتی ترقیاں ہیں۔ بھونچال مادی تہذیب اور اس کے تمام آثار کو یکسر مٹا دے گا۔ قیامت کے بعد بننے والی دنیا میں اس کا کوئی وجود باقی نہیں رہے گا۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: الْمَالُ وَالْبَنُونَ زِينَةُ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَالْبَقِيَّاتُ الصَّلِحَتُ خَيْرٌ عِندَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَخَيْرٌ أَمَلًا (18:46) یعنی مال اور اولاد دنیوی زندگی کی رونق ہیں ۔ اور باقی رہنے والے اعمالِ صالحہ تمھارے رب کے نزدیک اجر اور امید کے اعتبار سے بہتر ہیں۔

قرآن کی اس آیت میں ’زينة الحیاة الدنیا‘ سے مراد وہی چیز ہے جس کو مادی تہذیب کہا جاتا یہ مادی تہذیب خواہ بظاہر کتنا ہی زیادہ پر رونق ہو، بہر حال وہ وقتی طور پر صرف امتحان کی مدت تک کے لیے ہے۔ قیامت کا بھونچال اس کو پوری طرح مٹا دے گا۔ اس کے بعد زمین کا وہ حال ہوگا جس کو قرآن میں قاعاً صفصفاً (20:106) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، یعنی چٹیل میدان۔

’باقیٰات الصالحات‘ کا لفظی ترجمہ ہے: باقی رہنے والے اعمال صالحہ۔ صالح عمل حقیقةً وہ ہے جو صالح نیت سے کیا گیا ہو۔ ’باقیٰات الصالحات‘ دوسرے لفظوں میں کسی عمل کے کیفیاتی حصہ (qualitative content) کا نام ہے۔ عمل کا یہ کیفیاتی حصہ کہاں واقع ہوتا ہے، وہ ایک مرد یا عورت کے داخلی وجود میں واقع ہوتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو ہم نے قابل فہم بنانے کے لیے روحانی تہذیب کے الفاظ میں بیان کیا ہے۔ قیامت کا بھونچال یہ کرے گا کہ انسانی عمل کے کمیاتی حصہ (quantitative content) کو ڈھا دے گا۔ اس کے بعد انسانی عمل کا صرف کیفیاتی حصہ (qualitative content) باقی رہے گا۔

قرآن میں اہل جنت کے بارے میں ارشاد ہوا ہے: لِلَّذِیۡنَ اَحْسَنُوۡا الْحُسْنٰی وَزِیَادَةٌ اس آیت میں ’زیادہ‘ کا لفظ غالباً اس معنی میں ہے کہ آخرت میں اہل جنت کے ساتھ جو معاملہ ہوگا، وہ صرف یہ نہیں ہوگا کہ ان کے نیک عمل کو قبولیت کا درجہ ملے گا، بلکہ مزید یہ ہوگا کہ عمل کے دوران اُن کے اندر جو اعلی ربانی کیفیات پیدا ہوئی تھیں، وہ خارجی طور پر متشکل ہو جائیں گی۔ خارجی اظہار وہ چیز ہے جس کو ہم نے اسپرچول تہذیب کا نام دیا ہے۔

مادی تہذیب مادی واقعات کے متشکل ہونے سے وجود میں آتی ہے۔ اس کے برعکس، اسپرچول تہذیب وہ تہذیب ہے جہاں اعلیٰ ربانی کیفیات متشکل ہوں ۔ موجودہ دنیا جن قوانین کے تحت بنی ہے، وہاں کمیاتی عمل (quantitative deeds) تو بخوبی طور پر متشکل ہو سکتے ہیں، لیکن کیفیاتی عمل (qualitative deeds) یہاں متشکل نہیں ہو سکتے۔ آخرت کی دنیا کے قوانین بالکل مختلف ہوں گے۔ اس طرح وہاں یہ ممکن ہو جائے گا کہ ایک کیفیاتی واقعہ بھی اُسی طرح عملی صورت میں

متشکل ہو جائے جس طرح موجودہ دنیا میں کیمیاتی واقعہ عملی صورت میں متشکل ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی دو آیتوں کا مزید مطالعہ کیجئے ۔ ان آیتوں کے الفاظ اور ان کا ترجمہ یہ ہے: مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْحَيَوةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا نُوَفِّ إِلَيْهِمْ أَعْمَالَهُمْ فِيهَا وَهُمْ فِيهَا لَا يُبْخَسُونَ أُوْلَئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ ۖ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوا فِيهَا وَبَاطِلٌ مَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ (11:16-15) یعنی جو لوگ دنیا کی زندگی اور اس کی زینت چاہتے ہیں، ہم ان کے اعمال کا بدلہ دنیا ہی میں دے دیتے ہیں۔ اور اس میں ان کے ساتھ کوئی کمی نہیں کی جاتی ۔ لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں آگ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ انھوں نے دنیا میں جو کچھ بنایا تھا، وہ نابود ہو گیا اور باطل ہو گیا جو کچھ انھوں نے کمایا تھا۔

قرآن کی اس آیت میں زینتِ دنیا سے مراد تاریخِ انسانی کا وہی ظاہر ہے جس کو ہم نے مادی تہذیب کے معروف نام سے بیان کیا ہے۔ اس مادی تہذیب کی عمر صرف قیامت تک کے لیے ہے۔ اس کے بعد وہ مٹادی جائے گی ۔ اس کا انجام وہی ہو گا جس کو قرآن کی مذکورہ آیت میں 'حبط ما صنعوا' کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، یعنی انھوں نے دنیا میں جو کچھ بنایا تھا، وہ نابود ہو گیا (vain are all their deeds)۔

وہ چیز جس کو مادی تہذیب کہا جاتا ہے، وہ گویا کہ اسی موجودہ دنیا میں اپنے لیے ایک دنیا یہ بلاشبہ خدا کے تخلیقی منصوبے کے خلاف ہے۔ خدا کے تخلیقی منصوبے کے مطابق، موجودہ دنیا عمل کے لیے بنائی گئی ہے، نہ کہ تعمیر جنت کے لیے۔

ایسا کرنے والے لوگ خدا کے منصوبے کے خلاف چل رہے ہیں۔ اُن کی ساری سرگرمیاں خدا کے نزدیک غیر مقبول ہیں، اس لیے اُن کا وجود صرف اُس وقت تک ہے جب تک اُن کی امتحان کی مدت ختم نہیں ہوتی۔ امتحان کی مدت ختم ہوتے ہی اُن کی بنائی ہوئی یہ مادی دنیا اُسی طرح ختم کر دی جائے گی جس طرح غیر منظور شدہ تعمیر (unauthorised construction) کو سرکاری طور پر ڈھادیا جاتا ہے۔

Printed page