Al-Risala · January 2013

حضرت نوح کی اہمیت

Al-Risala, January 2013

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح کی کشتی کو آیت (sign) کا درجہ دے دیا: ولقد تر کناھا آیۃ فھل من مد کر (54:15) یعنی ہم نے کشتی کو ایک نشانی کے طور پر باقی رکھا، تو کیا ہے کوئی نصیحت لینے والا۔

اس تذکیری مقصد کے اعتبار سے حضرت نوح کا انتخاب سب سے زیادہ موزوں انتخاب ہے۔ حضرت نوح قبل تاریخ دور میں پیدا ہوئے ، اس لئے ہزاروں سال تک یہ سمجھا جاتا رہا کہ خالص تاریخی اعتبار سے حضرت نوح کا کوئی وجود نہیں۔

ایسی حالت میں بائبل اور قرآن میں حضرت نوح اور ان کی کشتی کا ذکر کوئی سادہ بات نہ تھی۔ کی حیثیت نامعلوم تاریخ کے بارے میں ایک پیشین گوئی (prediction) کی تھی۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو کشتی اور طوفانِ نوح کا بطور ایک تاریخی واقعہ دریافت ہونا بے حد اہم وہ ثابت کرتا ہے کہ انسانی زندگی کی نوعیت کے بارے میں قرآن کا بیان بالکل درست ہے۔

پیغمبروں نے جس آخرت اور اس کے محاسبہ کی خبر دی تھی، وہ بالکل صحیح خبر تھی۔ دابہ کا ظہور گویا اسی حقیقت کا ایک خاموش اعلان ہے۔

اب آخری وقت آگیا ہے کہ انسان بیدار ہو۔ وہ دابہ کی خاموش آواز کو سنے، وہ قرآن کا دوبارہ وہ خدا کے تخلیقی نقشہ (creation plan of God) کو سامنے رکھ کر اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرے۔ شواہد بتاتے ہیں کہ انسانی تاریخ بظاہر اپنے خاتمہ کے دور میں پہنچ چکی ہے۔ اب اپنی اصلاح کے لیے انسان کے پاس بہت کم وقت باقی رہ گیا ہے۔ لوگوں کے لیے فرض کے درجے میں ضروری ہو گیا ہے کہ وہ اُس وقت کی تیاری کریں جس کے لیے قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَلَا يَسْتَقْدِمُون (7:34) یعنی جب اُن کا وقت آجائے گا تو وہ نہ ایک گھڑی پیچھے ہٹ سکیں گے اور نہ آگے بڑھ سکیں گے۔ آخرت کا اعلان خدا نے موجودہ زمین (planet earth) کو انسان کے عارضی قیام کے لئے بنایا ہے۔ کی ایک مدت مقرر ہے۔ زمین کا لائف سپورٹ سسٹم (life support system) بھی اسی محدود مدت کے اعتبار سے بنایا گیا ہے۔

خدا کے علم کے مطابق، جب یہ محدود مدت پوری ہوگی تو اس کے فورا بعد صور پھونک دیا جائے گا جو اس بات کا اعلان ہوگا کہ انسانی تاریخ کا پہلا دور ختم ہو چکا، اب وہ وقت آگیا ہے، جب کہ انسان کے لئے دوسرے دور تاریخ کا آغاز کر دیا جائے۔

منصوبہ خداوندى کے مطابق، اس کے بعد اس دنیا کو توڑ کر ایک اور زیادہ بہتر دنیا بنائی اس دوسری دنیا میں صرف وہ لوگ جگہ پائیں گے جو موجودہ دنیا میں اپنے آپ کو اس کا مستحق امیدوار (deserving candidate) ثابت کر چکے تھے۔

خدا کو یہ مطلوب ہے کہ صور پھونکے جانے سے پہلے کچھ ایسی نشانیاں ظاہر ہوں جو پیشگی طور پر انسان کو یہ خبر دیں کہ موجودہ دنیا ختم ہونے والی ہے اور دوسری دنیا شروع ہونے والی ہے۔

غلطیوں کی اصلاح کر لو اور اگلی دنیا میں داخل ہونے کے لئے تیار ہو جاؤ۔ اس مقصد کے لئے خدا نے پیشگی طور پر الارم (alarm) دینے کا جو انتظام کیا ہے، اس کو ویک اَپ کال (wake-up call) کہہ سکتے ہیں ۔ اس الارم یا ویک اَپ کال کی دو خاص نشانیاں ہیں —ایک، فطرت میں، اور دوسری تاریخ میں۔ حالات بتاتے ہیں کہ دونوں قسم کے الارم بج چکے۔ اگر چہ اس کو سننا صرف اُن لوگوں کے لئے ممکن ہے جو خاموش آواز کو سننے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

فطرت کے الارم کی ایک نمایاں مثال یہ ہے کہ ہماری زمین میں زندگی کے جو وسائل (resources) رکھے گئے تھے، وہ نہایت تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ یہ وسائل اب بظاہر خاتمہ کی آخری حد پر پہنچ چکے ہیں۔ یہ بات قرآن میں پیشگی طور پر بتادی گئی تھی کہ دنیا میں جو وسائل حیات ہیں، وہ محدود ہیں، نہ کہ لا محدود (15:21)۔

موجود زمانے میں جس طرح ہر چیز تحقیق (research) کا موضوع بنی ہوئی ہے، اسی طرح فطرت کے وسائل (natural resources) پر بھی بڑے پیمانے پر ریسرچ ہو رہی ہے۔ اس سلسلے میں کافی میٹریل چھپ کر سامنے آچکا ہے۔ یہاں ہم اس نوعیت کی چند کتابوں کا حوالہ درج کرتے ہیں: 1. The Limits to Growth by Donella H. Meadows, Dennis L. Meadows, Jorgen Randers Universe Books, 1972, pp. 205, Printed in the USA 2. The End of Nature by Bill Mc Kibben, Anchor, 1989, pp. 195, printed in the USA 3. Beyond the Limits Donella Meadows, Dennis Meadows, Jorrgen Randers, Chelsea Green, 1992, Pages 320, Printed in the USA مذکورہ بالا کتابیں اور اس طرح کی دوسری کتابیں بتاتی ہے کہ فطرت (nature) کے وسائل ابتدا ہی سے محدود ہیں۔ انسان نے، خاص طور پر موجودہ ترقی کے زمانے میں، ان وسائل کا

لامحدود استعمال کیا، جس کا تحمل ہماری محدود دنیا نہیں کر سکتی تھی۔ اب یہ وسائل اتنا زیادہ کم ہو چکے ہیں کہ ہر طرف سسٹینیبل ڈیویلپمنٹ (sustainable development) کی باتیں ہو رہی ہیں۔ یہ ہے کہ یہ سسٹینیبل ڈیویلپمنٹ کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ وسائل کے خاتمہ کا معاملہ ہے۔ وسائل کا یہ خاتمہ اتنا زیادہ حتمی بن چکا ہے کہ بعض سائنس دانوں مثلاً اسٹیفن ہاکنگ (Stephen Hawking) نے یہ تجویز کیا ہے کہ انسانی نسل کو اگر باقی رکھنا ہے تو ہم کو خلائی بستیاں (space colonies) بنانا چاہیے۔ مگر ظاہر ہے کہ یہ صرف ایک سائنٹفک جوک (scientific joke) ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں کوئی قابلِ عمل تجویز۔

قیامت کے الارم کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کو تاریخی پہلو کہا جا سکتا ہے۔ اس تاریخی پہلو کی غالباً سب سے زیادہ نمایاں مثال نوح کی کشتی (Ark of Noah) کا ظہور ہے۔ کشتی نوح کے ظہور کا معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہیں ہے۔ وہ تاریخی شہادت (historical evidence) کی زبان میں پیغمبرانہ مشن کا ایک علامتی بیان ہے۔

کشتی نوح یا دابۃ گویا زبانِ حال سے یہ کہہ رہے ہیں کہ حضرتِ نوح اور اسی طرح خدا کے دوسرے بہت سے پیغمبر دنیا میں آئے، لیکن انسان نے ان کو اتنا زیادہ نظر انداز کیا کہ اپنی مدوّن تاریخ (recoded history) میں ان کا اندراج تک نہیں کیا۔

یہ کشتی نوح یا دابۃ اُس تاریخ کو بیان کر رہے ہیں جب کہ پیغمبر نے اپنے زمانے کے انسانوں کو آگاہ کیا کہ اگر انھوں نے پیغمبر کی بات نہیں مانی تو وہ خدا کی پکڑ میں آجائیں گے، اور اب یہ واقعہ عملاً پیش آگیا۔ حقیقت یہ ہے کہ کشتی نوح یا دابۃ خدا کے تخلیقی منصوبہ (creation plan) کا علامتی اظہار ہیں۔ وہ خدا کے تخلیقی منصوبے کے بارے میں ایک زندہ شہادت (living evidence) کی حیثیت رکھتے ہیں۔

Printed page