Al-Risala · September 2013

اسپرچول تہذیب کا دور

Al-Risala, September 2013

By Maulana Wahiduddin Khan

قیامت دو دنیاؤں کے درمیان حد فاصل ہے۔ قیامت کا مطلب یہ ہے کہ مادی تہذیب کا دور ختم ہوا اور روحانی تہذیب کا دور شروع ہو گیا۔ اسی دوسرے دور کو قرآن میں آخرت کا دور کہا گیا ہے۔ اس دوسرے دور میں یہ ہوگا کہ پوری تاریخ میں بکھرے ہوئے روحانی اجزا (spiritual contents) کو جنت میں یکجا کر دیا جائے، یعنی اسپرچول اجزا کے حامل انسانوں کو بقیہ انسانوں سے الگ کر کے جنت کی معیاری دنیا میں بسا دینا۔ اسی حقیقت کو قرآن کی ایک آیت میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اِنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّلِحُوْنَ (21:105)۔ اس واقعے کا ذکر بائبل میں بھی موجود ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں:۔ پرشریروں کی نسل کاٹ ڈالی جائے گی۔ صادق زمینوں کے وارث ہوں گے اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے : But the descendants of the wicked shall be cut off. The righteous shall inherit the land and dwell in it forever.

اسپرچول تہذیب یا ربانی تہذیب قیامت سے پہلے کی دنیا میں صالح افراد کی سطح پر ظہور میں قیامت کے بعد یہ تمام صالح افراد پوری تاریخ بشری سے منتخب کر کے جنت میں بسادئے اس دوسرے دور حیات میں ان کی داخلی اسپرچولیٹی یا داخلی ربانیت خارجی واقعہ بن کر چمک اٹھے گی۔ جو چیز دنیا کی زندگی میں داخلی کیفیت (inner spirit) ہونے کی وجہ سے لوگوں کو دکھائی نہیں دیتی تھی، وہ آخرت کے بدلے ہوئے ماحول میں خارجی طور پر دکھائی دینے والا واقعہ بن اسی حقیقت کو قرآن میں نور کے لفظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صالح افراد کی ربانیت جو موجودہ دنیا میں ایک چھپی ہوئی حقیقت بنی ہوئی تھی، وہ آخرت کی دنیا میں ایک دکھائی دینے والی حقیقت بن جائے گی۔ اس سلسلے میں قرآن کی دو آیتوں کا مطالعہ کیجیے۔ پہلی آیت قرآن کی سورہ الحدید میں ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: يَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَتِ يَسْعَى نُورُهُمْ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَنِهِمْ بُشْرَاكُمُ الْيَوْمَ جَنْتٌ تَجْرِي مِنْ

تَحْتِهَا الْاَنْہٰرُ خَالِدِينَ فِيهَا ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (57:12) یعنی جس دن تم مومن مردوں اور مومن عورتوں کو دیکھو گے کہ ان کی روشنی اُن کے آگے اور ان کے دائیں چل رہی ہوگی۔ آج کے دن تم کو خوش خبری ہے اُن باغوں کی جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی تم اُن میں ہمیشہ رہو گے، یہ بڑی کامیابی ہے۔ اسی طرح سورہ الحدید کی ایک اور آیت میں ارشاد ہوا ہے: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولَئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ وَالشُّهَدَاءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ لَهُمْ أَجْرُهُمْ وَنُورُهُمْ وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَئِكَ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ (57:19) یعنی جو لوگ ایمان لائے اللہ پر اور اس کے رسولوں پر، وہی لوگ اپنے رب کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں۔ ان کے لیے ان کا اجر اور ان کا نور اور جن لوگوں نے انکار کیا اور ہماری نشانیوں کو جھٹلایا، وہی دوزخ والے ہیں۔ اسی قسم کی ایک آیت قرآن کی سورہ التحریم میں آئی ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَصُوحًا عَسَى رَبُّكُمْ أَنْ يُكَفِّرَ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ يَوْمَ لَا يُخْزِي اللَّهُ النَّبِيَّ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ نُورُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا وَاغْفِرْ لَنَا إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (66:8) یعنی اے ایمان والو، اللہ کے آگے سچی تو بہ کرو۔ امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے گناہ معاف کر دے اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ جس دن اللہ، نبی کو اور اس کے ساتھ ایمان والوں کو رسوا نہیں کرے گا۔ اُن کی روشنی ان کے آگے اور ان کے دائیں طرف دوڑ رہی ہوگی، وہ کہہ رہے ہوں گے کہ اے ہمارے رب، تو ہمارے لیے ہمارے نور کو کامل کر دے اور ہماری مغفرت فرما۔ بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

قرآن کی ان آیتوں میں نور (روشنی) کے دوڑنے کا ذکر لفظی طور پر دوڑنے کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ پھیلنے کے معنی میں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آخرت میں اُن کا نور دور دور تک پھیلا ہوا مزید یہ کہ نور کا لفظ سادہ طور پر روشنی کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ اس معنی میں ہے کہ ان کے عمل کا روحانی حصہ (spiritual content) جو دنیا میں اعلیٰ داخلی تجربے کی حیثیت رکھتا تھا، وہ

آخرت میں متشکل (materialised) ہو کر خارجی طور پر دکھائی دینے لگے۔ بہ الفاظ دیگر، جو چیز دنیا کی زندگی میں صرف غیر مرئی نور کی حیثیت رکھتی تھی، وہ آخرت میں قابل مشاہدہ اسپرچول تہذیب کی صورت اختیار کرلے گی۔ مادی تہذیب جس طرح دنیا میں قابل مشاہدہ ہے، اسی طرح اسپرچول تہذیب آخرت میں قابل مشاہدہ ہو جائے گی۔

مذکورہ آیت میں 'أجرهم ونورهم کا لفظ نہایت اہم حقیقت کو بتا رہا ہے۔ میں اجر سے مراد جنت کی مادی نعمتیں ہیں اور نور سے مراد وہ تہذیب ہے جو جنت میں ایک روشن واقعہ بن جائے۔ اہل جنت ایک طرف لكم فيها ما تشتهى أنفسكم کے بمصداق، جنت کی اعلیٰ نعمتوں سے محظوظ ہوں گے اور دوسری طرف یہ ہوگا کہ ان کے اندر داخلی سطح پر پیدا ہونے والی ربانی کیفیات جو دنیا میں غیر مرئی حقیقت بنی ہوئی تھیں، آخرت میں وہ قابل مشاہدہ نور کی صورت میں نمایاں ہو جائیں گے۔ آخرت میں ظاہر ہونے والے اس واقعے کو نورانی تہذیب یا اسپرچول تہذیب کے الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے۔

اسی طرح مذکورہ آیت میں اہل جنت کی زبان سے یہ لفظ ادا ہوا ہے: 'أتمم لنا نورنا‘۔ مطلب یہ ہے کہ دنیا میں تو نے ہمیں جس اعلیٰ ربانی تجربے کی توفیق دی، وہ دنیا میں غیر مرئی بنا رہا۔ آخرت میں تو ہمارے ساتھ یہ مزید احسان فرما کہ ان داخلی ربانی تجربات کو خارجی واقعے کی صورت میں ظاہر کر دے۔ جس طرح مادہ پرست انسان کی داخلی دریافت خارجی طور پر دنیا میں مادی تہذیب کی صورت میں متشکل ہوئی تھی، اُسی طرح اب تو آخرت میں ہماری داخلی ربانی دریافتوں کو خارجی طور پر نورانی تہذیب یا اسپرچول تہذیب کی صورت میں متشکل کردے۔ یہی مطلب ہے مذکورہ آیت میں اتمام نور کا۔ آئڈیا کا متشکل ہونا خواہ مادی تہذیب کا معاملہ ہو یا اسپرچول تہذیب کا معاملہ، دونوں کی نوعیت اس اعتبار سے دونوں کا وقوع ابتداءً ایک غیر مرئی آئڈیا (invisible idea) کی صورت میں ہوتا ہے، بعد کو وہ خارجی صورت میں متشکل ہو جاتا ہے۔ یہی معاملہ مادی تہذیب کا بھی ہے اور

یہی معاملہ اسپرچول تہذیب کا بھی۔

اس کی ایک مثال یہ ہے کہ مائیکل فریڈے (Michael Faraday, d. 1867) ایک برٹش سائنس داں تھا۔ کچھ تجربات کے دوران اُس کے دماغ میں ایک آنڈیا آیا، جواب اصطلاحی طور پر الیکٹرومیگنیٹزم (electromagnetism) کے طور پر معروف ہے۔ یہ آنڈیا فطرت کے اُس قانون کے بارے میں تھا جس کو الیکٹری سٹی (electricity) کہا جاتا ہے۔ اس آنڈیا کے تحت یہ فارمولا بنایا گیا کہ بجلی کا مطلب ہے— الیکٹران کا بہاؤ:

Printed page