Electricity means flow of electrons.
Al-Risala, September 2013
By Maulana Wahiduddin Khan
وہ چیز جس کو مادی تہذیب کہا جاتا ہے، وہ براہِ راست یا بالواسطہ طور پر فطرت کے دو قوانین کا روشنی (light) اور حرکت (motion)۔ فطرت کے ان دو غیر مرئی قوانین نے جب عملی صورت اختیار کی تو اس کے نتیجے میں وہ مرئی ظاہر وجود میں آ یا جس کو مادی تہذیب کہا جاتا ہے۔ یہی معاملہ اسپرچول تہذیب کا بھی ہے۔ اسپرچول تہذیب ابتداء ایک مخفی واقعے کی صورت میں ایک بندہ مومن کے سینے میں غیر مرئی طور پر وجود میں آتی ہے۔ اسپرچول تجربہ کیا ہے، اس کو قرآن کی ان آیتوں کے مطالعے سے سمجھا جاسکتا ہے: والذين آمنوا أشد حباً لله (2:165)، ولم يخش إلا الله (18: 9)، مما عرفوا من الحق (5:38)، وقلوبهم وجلة (23:60)، في أهلنا مشفقين (52:26)، لا تحزن إن الله معنا (9:40)، وغیرہ۔ مذکورہ حوالے ایک مومن کے سینے میں پیدا ہونے والے اسپرچول تموجات کو بتاتے ہیں۔ یہ اسپرچول تموجات (spiritual waves) اپنی حقیقت کے اعتبار سے بلا شبہہ ہمالیائی تموجات تھے، لیکن دنیا کی زندگی میں وہ غیر مرئی واقعہ بن کر رہ گئے۔ یہ خدا کی شانِ رحمت کے خلاف ہے کہ ایک سائنس داں کی مادی معرفت تو مادی تہذیب کی صورت میں متشکل ہو، لیکن ایک مومن کی ربانی معرفت محسوس اسپرچول تہذیب کی صورت میں متشکل نہ ہو۔ قرآن کے مذکورہ بیانات اسی سوال کا جواب ہیں۔ ان آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح
سائنس دانوں کی مادی معرفت خارجی طور پر متشکل ہو کر دنیا میں مادی تہذیب کی صورت میں ظاہر ہوئی، اسی طرح آخرت میں مزید اضافے کے ساتھ یہ ہوگا کہ مومن بندوں کی ربانی معرفت، جو دنیا میں غیر مرئی تھی، وہ آخرت میں خارجی طور پر متشکل ہوگی۔ اسی واقعے کو قرآن میں نورانی ظہور سے تعبیر کیا گیا ہے اور اسی واقعے کا دوسرا نام آخرت کی ابدی دنیا میں بننے والی اسپرچول تہذیب ہے۔