دو قسم کے چہرے
Al-Risala, September 2013, pp. 31–32
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں مختلف مقامات پر بتایا گیا ہے کہ قیامت میں انسانوں کو چھانٹ کر الگ کیا جائے گا، اہلِ جنت الگ اور اہلِ جہنم الگ۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ ۚ فَأَمَّا الَّذِينَ اسْوَدَّتْ وُجُوهُهُمْ أَكَفَرْتُم بَعْدَ إِيمَانِكُمْ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ (3:103) یعنی جس دن کچھ چہرے روشن ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ ہوں گے، تو جن کے چہرے سیاہ ہوں گے، اُن سے کہا جائے گا کہ کیا تم اپنے ایمان کے بعد منکر ہو گئے، تو اب چکھو عذاب اپنے کفر کے سبب سے۔
”روشن چہرہ“ سے مراد کیا ہے۔ اس سے مراد ہی روشن شخصیت ہے جس کی وضاحت اس سے پہلے ہو چکی ہے۔ ”سیاہ چہرہ“ سے مراد یہ نہیں ہے کہ ان کے چہروں پر سیاہ رنگ لگا دیا جائے گا۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی داخلی برائی ظلمت بن کر اُن کے چہرے پر نمایاں ہو جائے گی۔ جس غیر ربانی شخصیت کو وہ اپنی جھوٹی تدبیروں سے اپنے اندر چھپائے ہوئے تھے، وہ ظاہر ہو کر لوگوں کو محسوس طور پر دکھائی دینے لگے گی۔ یہ کوئی پراسرار بات نہیں ہے، یہ وہی بات ہے جو دنیا کی زندگی میں بھی جزئی طور پر مشاہدات میں آتی ہے، چناں چہ کہا جاتا ہے کہ:
Face is the reflection of one's inner personality. دنیا کی زندگی میں برے لوگوں کا حال یہ تھا کہ وہ اندر سے بالکل غیر سنجیدہ تھے، مگر اوپر سے وہ اپنے آپ کو سنجیدہ ظاہر کرتے تھے۔ وہ جھوٹ اور بددیانتی پر کھڑے ہوئے تھے، لیکن خوب صورت الفاظ کے ذریعے وہ اپنی حقیقت پر پردہ ڈالے ہوئے تھے۔ دل اور دماغ کے اعتبار سے، وہ صرف ایک
دنیا پرست انسان تھے، لیکن اپنے ظاہر فریب رویّے سے وہ آخرت پسندی کے اسٹیج پر پُر رونق جگہ حاصل کیے ہوئے تھے۔ قیامت کے بعد جو آخرت کی دنیا آئے گی، وہاں تمام حقیقتیں اپنی اصل صورت میں ظاہر ہو جائیں گی۔ وہاں ہر عورت اور مرد اپنی اصل داخلی صورت میں نمایاں ہو جائے گا۔ یہی مطلب ہے قیامت میں چہروں کے سیاہ ہونے کا۔
برے لوگ وہاں اس طرح اٹھیں گے کہ ان کے چہروں پر سخت قسم کی حسرت اور ندامت چھائی وہ بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہوں گے۔ ان کا احساسِ محرومی ان کے پورے وجود کو بے قیمت بنائے ہوئے ہوگا۔ اپنے حال اور مستقبل کے بارے میں ان کی کامل مایوسی کی بنا پر ان کا احساس یہ ہوگا کہ وہ حیوان سے بھی زیادہ بے قیمت ہیں۔ ان کی بے بسی کا یہ حال ہوگا کہ وہ اپنے آپ کو لوگوں سے چھپانا چاہیں گے، لیکن وہاں انھیں کوئی جگہ نہیں ملے گی جہاں وہ اپنے آپ کو چھپالیں ۔ جنت کا معاشرہ جنت کے معاشرے میں وہ خوش قسمت افراد جگہ پائیں گے جنھوں نے موجودہ دنیا میں اپنے آپ کو جنتی شخصیت کی حیثیت سے تیار کیا ہوگا۔ جنتی شخصیت کا لفظ کوئی پراسرار لفظ نہیں ہے۔ اس سے مراد وہ افراد ہیں جو انتہائی معنوں میں بلند فکری (high thinking) کے مالک ہوں۔ یہی وہ اعلیٰ کردار ہے جس کو قرآن میں خُلقِ عظیم (68:4) یا مزکی شخصیت (20:76) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ اعلیٰ شخصیت والا انسان کون ہے، یہ وہ انسان ہے جس نے اپنے آپ کو ہر قسم کے دنیوی محرکات (worldly motivations) سے اوپر اٹھایا، جس نے اپنے آپ کو کامل طور پر متعصبانہ فکر (biased thnikiing) سے پاک کیا، جس نے اپنے آپ کو نفس اور شیطان کی ترغیبات سے بچایا، جس نے اپنے اندر اُس انسان کی تعمیر کی جس کو کاپلکس فری سول(complex free soul) کہا جاتا ہے، جس نے دنیا کی زندگی میں یہ ثابت کیا کہ وہ انٹیگریٹڈ پیڈ پرسنالٹی (integrated personality) کا حامل انسان ہے — یہی وہ صفات ہیں جن سے متصف افراد کو ایک لفظ میں، ربانی انسان کہا جاسکتا ہے۔ انھیں صفات کے حامل افراد کو جنت میں آبادکاری کے لیے منتخب کیا جائے گا۔