Al-Risala · September 2013

جسمانی سرگرمیاں، ذہنی سرگرمیاں

Al-Risala, September 2013

By Maulana Wahiduddin Khan

انسانی تاریخ کی تصویر اگر یہ ہو کہ اس میں انسان کے جسم (body) کی سرگرمیاں (activities) تو خوب بیان ہوئی ہوں، مثلاً پہلوانی (wrestling) اور باکسنگ (boxing) جیسی سرگرمیاں تفصیل کے ساتھ ریکارڈ کی گئی ہوں، لیکن انسان کے وجود کا دوسرا اہم تر حصہ جس کو ذہن (mind) کہا جاتا ہے، اس کا سرے سے کوئی ذکر نہ ہو، پوری تاریخ میں انسان کی ذہنی سرگرمیاں (intellectual activities) غیر مذکور (unrecorded) ہو کر رہ جائیں تو ایسی انسانی تاریخ کو نہ صرف نامکمل، بلکہ آخری حد تک بے معنی (meaningless) کہا جائے گا۔

یہ فرضی بات نہیں، بلکہ یہ انوکھا واقعہ عملاً مزید اضافے کے ساتھ پوری دنیا میں پیش آیا ہے۔ اس طرح کہ انسان کی مادی سرگرمیاں مادی تہذیب کی صورت میں متشکل (materialized) ہو کر اپنی پوری صورت میں لوگوں کے سامنے موجود ہیں۔ مادی تہذیب کو ہر آدمی جانتا ہے اور ہر آدمی اس کو دیکھ رہا ہے۔ مادی تہذیب ہر آدمی کے لیے ایک معلوم واقعہ ہے۔ لیکن انسانی سرگرمیوں کی ایک اور قسم

اس کو اسپرچول سرگرمیاں (spiritual activities) کہا جا سکتا ہے۔ یہ وہ سرگرمیاں ہیں جو انفرادی سطح پر سچے انسانوں کی زندگی میں پیدا ہوئیں۔ وہ پوری طرح غیر مرئی (unobservable) افراد کی داخلی زندگی میں مکمل طور پر موجود ہونے کے باوجود وہ ظاہری طور پر کبھی متشکل نہیں مثلاً تاریخ کے ہر دور میں ایسے افراد پیدا ہوتے رہے جنھوں نے خدا کو اپنا سول کنسِرن (sole concern) بنایا، جن کی سوچ تمام تر سچائی اور دیانت داری پر مبنی تھی، جنھوں نے دنیا کے بجائے آخرت کو اپنی تو جہات کا مرکز بنایا، جن کی آخری آرزو یہ تھی کہ اُن کو جنت میں داخلہ ملے، جنھوں نے خدا کی مقرر کی ہوئی حدوں کو سمجھا اور ان سے تجاوز نہیں کیا، جن کا ربانی شعور اتنا بڑھا ہوا تھا کہ وہ ہر وقت داخلی طور پر توبہ واستغفار میں مشغول رہتے تھے۔

یہ تمام اعمال انتہائی اعلی اعمال ہیں، لیکن وہ ہمیشہ کیفیات کی سطح پر پیدا ہوتے ہیں۔ کمیاتی اصطلاح (quantitative term) میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ربانی اعمال یا اسپرچول سرگرمیاں افراد کی داخلی دنیا میں پیدا ہوئیں اور پھر افراد کی موت کے ساتھ بظاہر ختم ہو گئیں۔ کے اعتبار سے وہ اعلی اسپرچول تہذیب کی حیثیت رکھتی تھیں، مگر اپنی تمام تر اہمیت کے باوجود وہ کبھی ظاہری طور پر متشکل نہیں ہوئیں جس طرح مادی تہذیب اپنی ظاہری صورت میں متشکل ہوئی۔ آخرت کی دنیا جو قیامت کے بعد آئے گی، وہ اسی کی تلافی اور تکمیل کے لیے ہے۔ ایک طرف مادی تہذیب کو پوری طرح نابود کر دے گی، اگلے مرحلہ حیات میں اس کا کوئی وجود باقی نہیں رہے گا، دوسری طرف یہ ہوگا کہ آخرت کے موافق ماحول میں ماضی کے اسپرچول واقعات پوری طرح متشکل ہو کر ایک اسپرچول تہذیب کی صورت اختیار کر لیں گے۔

یہ اسپرچول تہذیب ایک ابدی تہذیب ہوگی۔ قیامت سے پہلے کے دور تاریخ میں دونوں قسم کے افراد باہم ملے ہوئے تھے، لیکن قیامت کے بعد کے دور تاریخ میں دونوں کو چھانٹ کر ایک دوسرے سے الگ کر دیا جائے گا۔

خدا کے تخلیقی نقشہ (creation plan) کے مطابق ، قیامت سے پہلے کا دور حیات

انفرادی اعتبار سے تعمیر شخصیت کا دور تھا، وہ اجتماعی اعتبار سے تعمیر تہذیب کا دور نہ تھا۔ آخرت کی دنیا میں یہ ہوگا کہ جن افراد نے اپنی شخصیت کی تعمیر نہ کی، وہ رد کردئے جائیں گے اور جن افراد نے اپنی شخصیت کی تعمیر کی، وہ خدا کے مطلوب بندے ٹھہریں گے۔ ایک گروہ کا کیس کامیابی کا کیس ہوگا اور دوسرے گروہ کا کیس ناکامی کا کیس۔

قرآن میں دونوں قسم کے افراد کو مختلف لفظوں میں بیان کیا گیا ہے، اُن میں سے ایک یہ ہے کہ کامیاب افراد روشن چہروں (bright faces) والے ہوں گے اور ناکام افراد سیاہ چہروں (dark faces) والے۔ کامیاب افراد ابدی طور پر خوشیوں کی زندگی پائیں گے اور ناکام افراد ابدی طور پر حسرت کی آگ میں جلتے رہیں گے۔

Printed page