Al-Risala · September 2013

سمندروں کی سطح

Al-Risala, September 2013

By Maulana Wahiduddin Khan

تحقیقات بتاتی ہیں کہ سمندروں میں پانی کی سطح مسلسل اونچی ہو رہی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ فضائی حرارت بڑھنے کی بنا پر دنیا میں برف کے ذخیرے پگھل رہے ہیں۔ دنیا میں جگہ جگہ پانی کے منجمد ذخیرے موجود تھے، مگر اب پانی کے ان ذخیروں میں بہت زیادہ کمی آ گئی ہے۔ ذخیرے شیریں پانی کے ذخیرے تھے، مگر جب پگھلنے کے بعد وہ سمندر کے پانی میں ملتے ہیں تو وہ بھی کھاری پانی بن جاتے ہیں۔

دوسرا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ برفانی ذخیروں کے پگھلنے کی وجہ سے سمندروں کے پانی کی سطح اونچی ہو رہی ہے۔ یہ بے حد خطر ناک بات ہے۔ حالیہ تحقیقات کے بعد ماہرین نے اندازہ کیا ہے کہ اگر تمام دنیا کے گلیشیر پگھل جائیں تو اس کے بعد سمندر میں پانی کی سطح دو فٹ اونچی ہو جائے گی۔ گرین لینڈ کا برفانی تودہ پگھل جائے تو سمندر میں پانی کی سطح 20 فٹ اونچی ہو جائے گی۔ انٹارکٹکا کا برفانی ذخیرہ پگھل جائے تو سمندر میں پانی کی سطح 200 فٹ بلند ہو جائے گی۔ Melting glaciers also behind sea-level rise WASHINGTON: World's shrinking glaciers contributed to almost a third of the sea-level rise between 2003 and 2009, a new study has found. While 99% of Earth's land ice is locked up in the Greenland and Antarctic ice sheets, the remaining ice in the world's glaciers contributed just as much to sea rise as the two ice sheets combined from 2003 to 2009, researchers say. The research found that all glacial regions lost mass from 2003 to 2009, with the biggest ice losses occurring in Arctic Canada, Alaska, coastal Greenland, the southern Andes and the Himalayas. The glaciers outside of the Greenland and Antarctic sheets lost an average of 260 billion metric tons of ice annually during the study period, causing the oceans to rise 0.03 inches, or about 0.7 millimeters per year. Current estimates predict if all the glaciers in the world were to melt, they would raise sea level by about two feet. In contrast, an entire Greenland ice sheet melt

یہ صرف ایک سائنسی خبر نہیں، یہ دراصل قرب قیامت کی خبر ہے۔ یہ سائنسی تحقیق کی زبان سے اُس انتباہ کی تصدیق ہے جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشین گوئی کے انداز میں فرمایا تھا۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: ماہ نامہ الرسالہ، اپریل 2007، صفحہ 4)

جدید سائنسی رپورٹ میں جو بات سائنس کی زبان سے کہی گئی ہے، عین وہی بات مذکورہ حدیث رسول میں تمثیل کی زبان میں بطور پیشین گوئی بتائی گئی ہے۔ یہ پیشگی خبر اب واقعہ بن رہی ہے اور وہ وقت بہت قریب ہے جب کہ یہ واقعہ اپنی تکمیل تک پہنچ جائے۔

اِس تکمیلی مرحلے کا اعتراف اہلِ سائنس بھی کر رہے ہیں۔ البتہ دونوں میں یہ فرق ہے کہ اہلِ سائنس اس کو ایک طبعی واقعہ کے طور پر ذکر کرتے ہیں، جب کہ پیغمبر نے اُس کو انذار کی زبان میں بیان کیا ہے۔

پیغمبر نے انسان کو متنبہ کیا ہے کہ جب ایسا ہو تو یقین کر لو کہ قیامت کا وقت قریب آگیا۔ انسان کے لیے پہلا دور حیات ختم ہو چکا۔ اب خالق کے منصوبے کے مطابق، اُس کے لیے دوسرا دور حیات شروع ہونے والا ہے۔ اب ایسا ہونے میں کوئی دیر نہیں۔

مذکورہ قسم کی سائنسی رپورٹوں کے ساتھ میڈیا میں طرح طرح کی خبریں آرہی ہیں۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ اب ہمیں خلائی بستیاں (space colonies) بنانا چاہیے۔ کوئی اعلان کر رہا ہے کہ سیارہ مریخ (Mars) پر پانی کی موجودگی کا امکان ہے، اس لیے اب انسان کو اپنی اگلی جائے قیام کے طور پر زمین کے بجائے مریخ کا انتخاب کرنا چاہئے، وغیرہ۔

مگر اس قسم کی تمام باتیں مضحکہ خیز حد تک بے معنی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان جیسی مخلوق کے لیے معلوم کائنات میں آبادکاری کے قابل کوئی جگہ نہیں۔

اب انسان کو صرف ایک کام کرنا ہے، وہ یہ کہ وہ خالق کائنات کی طرف رجوع کرے، وہ اللہ سے اس کی رحمت کا طلب گار بنے۔

Printed page