کتابِ مہجور
Al-Risala, October 2013
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ الفرقان میں ایک آیت ہجرِ ان قرآن کے بارے میں آئی ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: وَقَالَ الرَّسُوْلُ يَرَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا (25:30) یعنی رسول کہے گا کہ اے میرے رب، بے شک میری قوم نے اس قرآن کو ایک متروک کتاب بنا دیا۔ قرآن ایک ابدی کتاب ہے۔ قرآن کی تعلیمات ہر دور کے انسانوں پر بلا تفریق منطبق ہوتی قرآن اُسی طرح مسلمانوں کی حالت پر بھی اپلائی (apply) ہوتا ہے جس طرح غیر مسلموں کی مسلمان اگر قرآن کو کتابِ مہجور (abandoned book) بنادیں تو وہ بھی یقیناً اس آیت کا مصداق بن جائیں گے۔ قرآن میں یہود کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انھوں نے بعد کے زمانے میں اللہ کی کتاب کو پسِ پشت ڈال دیا: نَبَذَ فَرِيقٌ مِّنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتٰبَ كِتٰبَ اللَّهِ وَرَآءَ ظُهُورِهِمْ كَأَنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ (2:101)۔
کتاب کو چھوڑنا کیوں کر ہوتا ہے۔ اس کا جواب یہود کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے۔ پاس اللہ کی کتاب آئی تھی، لیکن بعد کے زمانے میں ایسا ہوا کہ یہود کے علما نے بطورِ خود کتاب الہی کی جو تشریح و تعبیر کی، وہی یہود کے لیے اُن کے دین کا اصل ماخذ بن گئی۔ کتاب الہی کو وہ بدستور ایک مقدس کتاب کے طور پر مانتے تھے، لیکن عملاً وہ اپنے علما کے وضع کردہ دین پر قائم تھے۔ یہی بعد کے زمانے میں مسلمانوں کا بھی حال ہوا ہے، بعد کے زمانے کے مسلمانوں کے لیے قرآن ایک مقدس کتاب (Holy Book) کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ ان کے علما نے فقہ اور کلام اور فلسفہ اور تصوف کی صورت میں دین کا جو ورژن (version) تیار کیا ہے، وہی کتابی صورت میں مدوّن ہو کر عملی طور پر ان کے لیے دین کا ماخذ بن گیا ہے۔
کتابِ مہجور کا ظاہرہ کوئی انوکھا ظاہر نہیں ہے، یہ ہر مذہبی گروہ میں بعد کے زمانے میں پیش آتا قدیم زمانے میں یہی واقعہ یہود و نصاری کے ساتھ پیش آیا تھا۔ یہود و نصاری نے کلی معنی میں
اپنے مذہب کو کبھی نہیں چھوڑا، لیکن مذکورہ معنوں میں ہر ایک نے اپنے مذہب کو چھوڑ رکھا ہے۔ ونصاریٰ کا دین اصلاً اللہ کی طرف سے آیا ہو دین تھا، جو اُن کو اپنے پیغمبروں کے ذریعے ملا تھا۔ بعد کو اُن کے علما اپنی تشریح و تعبیر کے ذریعے اس میں تبدیلی اور اضافہ کرتے رہے، یہاں تک کہ اُن کے یہاں ایک متوازی مذہب (parallel religion) تیار ہوگیا۔ اب یہود و نصاریٰ اسی متوازی مذہب پر ہیں، نہ کہ اپنے پیغمبروں کے ذریعے ملے ہوئے اصل خدائی مذہب پر۔ حدیث میں امتِ مسلمہ کے بارے میں آیا ہے: لتتبعن سنن من كان قبلكم شبرا بشبر وذراعا بذراع حتى ولو دخلوا جحر ضب تبعتموہم (صحيح البخاري، رقم الحديث: 7320) یعنی تم ضرور پچھلی امتوں کے طریقوں کا اتباع کروگے۔ قدم بہ قدم، یہاں تک کہ اگر وہ کسی گوہ کے بل میں داخل ہوں گے تو تم بھی وہاں داخل ہوجاؤ گے۔ حدیثِ رسول کی یہ پیشین گوئی آج پوری طرح واقعہ بن چکی ہے۔ آج مسلمان عملاً جس دین پر ہیں، وہ اصلاً قرآن اور سنت والا دین نہیں ہے۔ وہ ایک متوازی دین ہے جو اُن کے علما اور مشائخ نے بعد کے زمانے میں اسلام کے نام پر تیار کیا۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں اگر چہ بظاہر دین کے نام پر بہت سی سرگرمیاں جاری ہیں، لیکن حقیقت کے اعتبار سے، وہ دین کہیں نظر نہیں آتا جو رسول اور اصحابِ رسول کے زمانے میں پایا جاتا تھا۔
موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے لیے قرآن ایک مقدس کتاب ہے، لیکن وہ اُن کے لیے رہنما کتاب نہیں ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے لیے پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم قومی فخر کا ذریعہ ہیں، لیکن وہ ان کے لیے اسوۂ حیات نہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں نے قرآن کو ایک کتاب مہجور بنادیا ہے، لیکن یہ ہجران بہ اعتبار عمل (in terms of practice) ہے، نہ کہ بہ اعتبار عقیدہ (in terms of belief)۔ قرآن کو وہ بدستور ایک مقدس کتاب مانتے ہیں، لیکن ان کی عملی زندگی سے قرآن کا کوئی تعلق نہیں۔